کابل(العربیہ ڈاٹ نیٹ، ایجنسیاں) افغانستان نے قطر میں متعین اپنے سفیر کو مشاورت کے لیے واپس بلا لیا ہے اور اس نے یہ فیصلہ بظاہر اس خلیجی ریاست میں طالبان مزاحمت کاروں کو دفتر کھولنے کی اجازت دینے کے خلاف احتجاج کے طور پر کیا ہے۔
افغان وزارت خارجہ کی جانب سے بدھ کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ”اسلامی جمہوریہ افغانستان کے قطر کی حکومت کے ساتھ برادرانہ تعلقات استوار ہیں اور وہ اس کا ملک کی تعمیرنو میں حصہ لینے اور اس کے لیے تعاون پر بھی شکر گزار ہے”۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ”افغانستان اور خطے میں ہونے والی حالیہ پیش رفت اور ملک کے قطر کے ساتھ تعلقات کے تناظر میں حکومت نے دوحہ میں متعین اپنے سفیر خالد احمد زکریا کو بعض امور پر مشاورت کے سلسلہ میں واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے”۔
امریکا اپنے اتحادیوں کے ساتھ طالبان کو قطر میں ایک دفتر کھولنے کی اجازت دینے کے حوالے سے تبادلہ خیال کر چکا ہے تاکہ مغربی ممالک طالبان مزاحمت کاروں سے ایک عشرے سے جاری افغان جنگ کے خاتمے کے لیے باضابطہ طور پر بات چیت کرسکیں اور امن عمل کو آگے بڑھا سکیں۔
امریکا اس وقت مہنگی افغان جنگ سے اپنی گلوخلاصی کے لیے تنازعے کا کوئی سیاسی حل چاہتا ہے جبکہ افغان صدر حامد کرزئی بھی ایک طویل عرصے تک طالبان مزاحمت کاروں کےساتھ امن بات چیت کی وکالت کرتے رہے ہیں لیکن اب افغان حکومت کے ایک سنئیر عہدے دار کا کہنا ہے کہ کابل نے مزاحمت کاروں سے مذاکرات کی منظوری دی تھی لیکن آخری مرحلے میں اس سے مشاورت نہیں کی گئی ہے ،اس لیے وہ احتجاج کے طور پر اپنے سفیر کو واپس بلا رہا ہے۔
اس اعلیٰ عہدے دار کا اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہنا تھا کہ”افغان حکومت اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ قطر نے طالبان کو دفتر کھولنے کی اجازت دینے سے متعلق امریکا اور جرمنی سے بات چیت کی تھی۔افغان حکومت نے امن عمل کو آگے بڑھانے کے لیے اس کی حمایت کی تھی لیکن سفیر کو صرف احتجاج کے طور پر واپس بلایا جارہا ہے کہ افغان حکومت کو ان مذاکرات میں شریک کیوں نہیں کیا گیا تھا حالانکہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات استوار تھے”۔
اس عہدے دار کا کہنا تھا کہ اس طرح کا دفتر کھولنے کی اجازت دینے کے فیصلہ کو طالبان کے لیے ایک رعایت کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ واضح رہے کہ ستمبر میں افغان امن کمیشن کے سربراہ پروفیسر برہان الدین ربانی کے ایک بم حملے میں قتل کے بعد طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کے عمل کو شدید دھچکا لگا تھا۔ اس واقعہ کے بعد سے افغان صدر امن مذاکرات کے حوالے سے اپنے شکوک کا اظہار کر رہے ہیں اوروہ ان کی جلد بحالی کے امکان کو بھی مسترد کرچکے ہیں۔ اب ان کا کہنا ہے کہ جب تک ہمیں طالبان کا کوئی پتا نہیں مل جاتا،اس وقت تک ہم صرف پاکستان سے ہی بات چیت کریں گے۔
قطر میں طالبان مزاحمت کاروں کا امارت اسلامی افغانستان کے نام سے دفتر کھولا جا رہا ہے۔سن 2001ء میں امریکا کی قیادت میں غیرملکی فوجوں کی افغانستان پر چڑھائی اور اس کے نتیجے میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد یہ پہلا موقع ہوگا کہ طالبان کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا جائے گا لیکن یاد رہے کہ طالبان اپنے ملک کی سرزمین سے تمام غیر ملکی فوجوں کی واپسی تک افغان حکومت کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات میں شریک ہونے سے انکار کرتے چلے آرہے ہیں۔

آپ کی رائے