مولانا عبدالحمید ’سنی آن لائن‘ سے گفتگو کرتے ہوئے:

حقائق کا انکار، ملک گیر احتجاجوں کی اصل وجہ ہے

حقائق کا انکار، ملک گیر احتجاجوں کی اصل وجہ ہے

نوٹ: گزشتہ دو ہفتوں سے ایران کے جنوب مغربی صوبہ خوزستان کے باشندے پانی کی قلت پر سراپا احتجاج ہیں۔ پانی کی قلت کے بہانے سڑکوں پر نکلنے والوں نے اپنے دیگر مسائل کو بھی پیش کیا ہے۔ خوزستان کے عرب شہریوں کے علاوہ ملک کے دیگر لسانی گروہ اور مذہبی برادریاں بھی اپنے مخصوص مسائل کی آواز بلند کرتے رہتے ہیں۔ یہ ایسے وقت میں ہورہاہے جب صدر روحانی کی حکومت اپنے آخری دنوں میں ہے اور چند ہفتوں میں سابق چیف جسٹس رئیسی کی کابینہ حکومت میں آئے گی۔ ان ہی مسائل کو پیش نظر رکھ اہل سنت ایران کی آفیشل ویب سائٹ ’سنی آن لائن‘ نے ممتاز دینی و سماجی شخصیت سے خصوصی گفتگو کی ہے۔

پکار جس کی شنوائی نہیں ہوئی
مولانا عبدالحمید نے کہا: حقائق کا انکار ملک کا اہم مسئلہ ہے جس کے بارے میں بندہ ہمیشہ یاددہانی کرتارہتاہے، لیکن کوئی توجہ دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔ حقائق کو مدنظر رکھ پالیسی بنانے ہی سے مسائل حل ہوجائیں۔
انہوں نے مزید کہا: ایران میں متعدد قومیتیں رہتی ہیں اور یہ سب برابر کے ایرانی ہیں۔ عرب، کرد، لر، بلوچ، ترک، ترکمن اور فارس سمیت سب ایران کے حقائق ہیں جنہیں نظرانداز نہیں کیاجاسکتا۔ یہ سب اپنے ملک سے پیار کرتے ہیں اور کسی خارجی دشمن کے حملے کی صورت میں ملک کے دفاع میں اپنی جانوں کا نذرانہ بھی پیش کرچکے ہیں۔
ایران کے نامور سنی عالم نے مسئلہ خوزستان پر اپنا تبصرہ پیش کرتے ہوئے کہا: خوزستان کے عرب باشندے اپنے حالات کو کویت اور خلیج کے عرب ممالک کے عربوں سے موازنہ کرتے ہیں تو انہیں خوشحالی میں دیکھتے ہیں اور خود کو غربت، بے روزگاری اور معاشی سختی میں۔ عرب ملکوں میں ان کے ہم زبان حکومت کرتے ہیں اور یہ اپنے ملک میں بے بس اور امتیازی سلوک کے شکار ہیں۔حالانکہ خوزستان تیل سے مالامال ہے، یہاں پانی بہت تھا، لیکن اس تیل کا فائدہ انہیں بہت کم پہنچا اور پانی بھی کافی نہیں مل رہاہے۔ اس سے انہیں غصہ ہورہاہے۔
ایران کی دیگر قومیتوں کے حالات کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے کہا: کرد بھائی ایران میں بھی رہتے ہیں، عراق اور ترکی میں بھی۔ عراق میں انہیں خودمختاری حاصل ہے اور صدر مملکت کردوں سے منتخب ہوتاہے۔ ترکی میں متعدد وزرا کرد ہیں اور پارلیمنٹ میں ستر کرد ارکان شامل ہیں۔ لیکن ایران میں کردوں سے کام نہیں لیاجاتاہے، صرف چند رکن پارلیمنٹ ہیں جو بڑی مشکل سے ان کی اہلیت کی تصدیق ہوتی ہے۔
ایران کی بلوچ برادری کے حالات کو دنیا کے دیگر بلوچوں کے حالات سے تقابلی جائزہ کرتے ہوئے ممتاز بلوچ عالم دین نے کہا: پاکستان میں تمام تر مسائل کے باوجود بلوچ برادری وزیر اعظم، صدر مملکت، چیئرمین سینٹ،وفاقی وزیر، گورنر سمیت دیگر اہم عہدوں میں خدمت کرچکے ہیں۔ مسلح افواج میں بھی شامل ہیں۔ بعض خلیجی ممالک میں ان سے وزیر، سفیر اور مسلح افواج کے سربراہ کی حد تک خدمات لی جارہی ہیں۔ لیکن ایران میں بلوچ ایک ضلعی گورنر اور صوبائی ڈائریکٹر کے عہدے کے لیے خوار ہورہے ہیں۔ اس امتیازی سلوک سے مایوسی پھیل جاتی ہے۔
انہوں نے کہا: مذہبی مسائل کی وجہ سے فارسی بولنے والوں کو بھی امتیازی سلوک کا سامنا ہے؛ سنی ہونے کی وجہ سے انہیں حکومتی عہدوں سے محروم رکھا جاتاہے، لیکن خلیجی ممالک میں وہ وزارت و سفارت کے اہم پوسٹوں پر تعینات ہوتے ہیں۔ یہی حال ہے ترکمن اور ترک قومیت کے لوگوں کا۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے ایرانی بلوچستان کی تقسیم کی کوششوں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا: صوبہ سیستان بلوچستان کی تقسیم بات ہورہی ہے؛ یہ ہماری خوشحالی اور ترقی کے لیے نہیں، بلوچستان کا وجود اور شناخت مٹانے کی سازش ہے۔ ساحل مکران ترقیاتی پروگرام کے نام پر لوگوں کی زرخیز زمینوں پر قبضہ کیاجارہاہے۔ مقامی آبادی کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

ایران میں متعدد مسالک و مذاہب ناقابل انکار حقائق
مولانا عبدالحمید نے اہل سنت ایران کے مذہبی مسائل اور یہاں متعدد مذاہب کے پیروکاروں کی موجودی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: جس طرح ایران میں شیعہ رہتے ہیں اور ایک حقیقت ہیں، اسی طرح اہل سنت بھی اس ملک کی حقیقت ہیں۔ سب ایرانی مسالک و مذاہب کی جڑیں اس ملک میں پیوست ہیں اور ان کی بڑی طولانی تاریخ ہے۔
انہوں نے مزید کہا: بعض ادارے چاہتے ہیں اہل سنت ایران کے تمام مذہبی امور کی بھاگ دوڑ اپنے ہاتھوں میں لے لیں، یہاں تک کہ دوردراز علاقوں میں ایک اینٹ بھی ان کی مرضی سے رکھی جائے۔ یہ قانون اور آئین کے خلاف ہے۔ اہل سنت کے عقائد کا احترام کرنا چاہیے۔
سنی سماجی رہ نما نے کہا: ملک کی پالیسیوں کو قومیتوں اور مسالک سمیت یہاں کی ثقافتوں کے احترام اور ان کی ضرورتوں کو مدنظر رکھ کر بنانا چاہیے؛ اسی صورت میں قومی امن اور اتحاد کو تقویت حاصل ہوگی۔

سب ایرانی حکومت سے ناراض ہیں
صدر دارالعلوم زاہدان نے ایران کے معاشی مسائل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: قوم کے مختلف افراد معاشی مسائل دست وگریباں ہیں۔ ایک طرف سے زندگی کے متعدد مسائل اور دباؤ، دوسری طرف سے مالی سکینڈلز اور بیرون ملک قومی سرمایے کو خرچ کرنے سے ملک کے لیے معاشی بحران اور عوام کے لیے مسائل لاکھڑا کیاہے۔
ایران میں سست رفتاری سے ویکسینیشن اور کرونا سے بڑے پیمانے پر اموات پر حکومتی اداروں پر تنقید کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے کہا: ایسے وقت میں جب دیگر ملکوں میں لوگ کرونا کے خاتمے کا جشن منارہے ہیں، یہاں روزانہ درجنوں افراد کرونا کی وجہ سے مررہے ہیں۔ یہ سب اس وجہ سے کہ بیرون ملک سے ویکسن درآمد کے لیے ملک کے دروازے بند ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: پورے ملک میں ویکسینیشن حکام کی پہلی ترجیح ہوتی ہمارے اتنے عزیز موت کا شکار نہ ہوتے۔ کتنے ہی اچھے اور مفید لوگ ویکسن نہ ہونے کی وجہ سے لقمہ اجل بن گئے اور ہمیں غمزدہ چھوڑکر چلے گئے۔

آیت اللہ رئیسی کی حکومت، ایران کی آخری امید
مولانا عبدالحمید نے سنی آن لائن سے گفتگو کے دوران نومنتخب صدر آیت اللہ ابراہیم رئیسی کو ایران کے لیے آخری امید یاد کرتے ہوئے کہا: مسٹر رئیسی ایران کی آخری امید ہے؛ اس کے بعد ہمیں کوئی امید نہیں کہ ایک نئے صدر آکر مسائل حل کریں گے۔
انہوں نے سابقہ غلط پالیسیوں کی اصلاح پر زور دیتے ہوئے کہا: اس کے بعد سب قومی ادارے ایک ہی سیاسی ونگ کے ہاتھوں چلے جائیں گے اور حالات کو بہتر کرنے لیے اسباب موجود ہیں۔ اس کے باوجود اگر حقائق کی بنیاد پر منصوبہ بندی نہ کی جائے، اس کے بعد مسائل کے حل کے لیے کوئی امید باقی نہیں رہتی ہے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں