زاہدان ہزاروں سنی باشندوں سے جگمگا اٹھا

زاہدان ہزاروں سنی باشندوں سے جگمگا اٹھا

’حافظان قرآن‘ کے لقب سے مشہور ہونے والا ’زاہدان‘ اور اس میں واقع ’دارالعلوم‘ اہل سنت ایران کا سب سے بڑا دینی و علمی مرکز جمعرات پانچ مئی دوہزار سولہ (ستائیس رجب) کو دو لاکھ کے قریب فرزندانِ توحید کے میزبان تھے۔
ایران کے طول و عرض سے آنے والے سنی باشندے جن میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے حضرات و خواتین شامل تھے، دارالعلوم زاہدان کی پچیسویں سالانہ تقریب دستاربندی و ختم بخاری میں شرکت کے لیے زاہدان آ پہنچے تھے۔ اہل سنت ایران کا سب سے بڑا اجتماع یہی تقریب ہے جس میں حصہ لینے کے لیے لوگ بیسیوں اور سینکڑوں کلومیٹر کے سفر کی مشقت برداشت کرکے ایرانی بلوچستان کا رخ کرتے ہیں۔
اس روحانی تقریب میں عوام و خواص کی بڑی تعداد سیستان بلوچستان، خراسان رضوی، خراسان جنوبی، خراسان شمالی، گلستان، کرمان، ہرمزگان، کرمانشاہ، آذربائیجان غربی، بوشہر، تہران اور فارس صوبوں سمیت بعض دیگر علاقوں سے شریک ہوتی ہے۔ پاکستان و افغانستان سے بھی بعض مہمان اس اجتماع میں شرکت کو باعث فخر سمجھ کر شریک ہوچکے ہیں۔
دارالعلوم زاہدان کی پچیسویں تقریب دستاربندی گزشتہ سالوں کی طرح مختلف آئٹمز پر مشتمل تھی؛ پرمغز خطابوں کے علاوہ بعض خوبصورت نظم اور ترانے بھی پیش کیے گئے۔ مقررین جن میں شیعہ علما بھی شامل تھے، امت مسلمہ کے اتحاد اور انتہاپسندی سے دوری پر زور دیتے رہے اور قرآن وسنت پر عمل پیرا ہونے کو امت کے مسائل کا واحد علاج قرار دیا۔
اعلان ہوا تھا جمعرات کی صبح تقریب کا آغاز ہوگا، لیکن مہمانوں اور شرکا کے وقتوں کو قیمتی بنانے کے لیے بدھ کی شام بھی پروگرام منعقد کرائے گئے۔ اس نشست میں مولانا حافظ محمدکریم صالح، ماموستا سیدحسین واژی، عبداللہ حسینی، آیت اللہ شریعتی، مولوی راشد بندار اور مولوی عبدالواحد حسینی نے حاضرین سے خطاب کیا جو ایران کے مختلف صوبوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

تقریب کا باقاعدہ آغاز
دارالعلوم زاہدان کی پچیسویں تقریب دستاربندی کے باقاعدہ آغاز سے پہلے جمعرات پانچ مئی کی نماز فجر کے بعد مولانا عبدالغنی بدری کا درس قرآن منعقد ہوا۔ آٹھ بجے کو تقریب کا آغاز ہوا تو سب سے پہلے ’مولوی آصف احمدی‘ نے اس سال کے فضلا کی نمایندگی کرتے ہوئے مجمع سے خطاب کیا۔ مولوی احمدی نے اپنے خطاب میں مسلمانوں کی کامیابی و عزت کا واحد راستہ قرآن وسنت پر عمل کرنے کو یاد کیا۔
’آواے اسلامی‘ نامی نظم خواں گروہ کے بعد ڈاکٹر سیداحمد ہاشمی اسٹیج پر آئے۔ شافعی مدارس کے سینئر استاذ اور جماعت دعوت و اصلاح کے تربیتی نائب نے ایران میں مختلف قومی و مذہبی برادریوں کی موجودی کو ایک موقع یاد کیااور دوسروں کو قبول کرنے اور برداشت کا گراف بڑھانے پر زور دیا۔
ان کے بعد، خراسان کے نامور خطیب ’مولوی بہزاد فقہی‘ نے اپنے پرجوش خطاب سے حاضرین کی داد حاصل کی۔ ’صحیح اسلامی سوچ‘ کے مقام واضح کرتے ہوئے انہوںنے علامہ اقبال لاہوری اور علامہ ابوالحسن علی ندوی رحمہمااللہ کو دو اعلی شخصیت قرار دیا جنہوں نے عالمی سطح پر مسلم امہ کی بیداری کی کوشش کی اور وه امت کا درد رکھتے تھے۔
آیت‌اللہ عبدالکریم بے‌آزار شیرازی اور آیت‌اللہ مہدی احدی اس نشست کے دیگر مقررین تھے جنہوں نے زور دیا کسی برادری کے ایک فرد کی غلطی کی سزا پوری برادری کو نہیں دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا: اس تقریب سے اسلامی انقلاب کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا اور اہل سنت ایران انقلاب کے طاقتور بازو ہیں۔
ڈاکٹر جلال جلالی زادہ، اہل سنت ایران کی ممتاز سیاسی شخصیت اور اعلی دانشور جو سنندج کے عوام کو پارلیمان میں نمائندگی بھی کرچکے ہیں، تقریب دستاربندی کے مقررین میں تھے۔ انہوں نے عالم اسلام کے موجودہ حالات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا: عالم اسلام کے مسائل و بحرانوںکا واحد علاج سنت اور سیرہ نبوی پر عمل کرنے میں ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید کو عالم اسلام اور ایرانی اہل سنت کا ’فخر‘ یاد کرتے ہوئے تہران یونیورسٹی کے پروفیسر نے کہا: لوگوں کے لیے رکاوٹیں کھڑی کرنے سے ان کے تعلقات پر قدغن نہیں لگائی جاسکتی۔ دارالعلوم زاہدان کی یہ پروقار تقریب اتحاد ہی کی خاطر ہے۔
تقریب کی پہلی نشست کے آخری خطیب مولانا محمدعثمان خاشی تھے جنہوںنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی شان میں خطاب کیا۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا: اللہ تعالی نے ایمان کی قبولی کے لیے صحابہ کرام کے ایمان کو معیار اور اصل قرار دیاہے۔ قرآن پاک سے صحابہ کرام کی صحابیت و معیت نبوی ثابت ہے اور ان کے فضائل ابدی ہیں۔
اس نشست کے آخر میں دارالعلوم زاہدان کے پینتالیس حفاظ کرام اور دورہ تخصص و تجوید کے دس فضلا کو انعامات دیے گئے۔ مولانا محمدانور ملازہی، استاذ الحدیث عین العلوم گشت اور خلیفہ مجاز مفتی رشیداحمد لدھیانوی رحمہ اللہ کی عاجزانہ دعا سے تقریب کی پہلی نشست اختتام پذیر ہوئی۔
یاد رہے اس روحانی تقریب میں بعض نامور علمائے کرام شریک نہ ہوسکے تھے جن کے پیغامات تقریب کے شرکا کے نام پڑھے گئے۔

آخری نشست
تقریب دستاربندی و ختم بخاری کی آخری نشست نماز عصر کے شروع ہوئی جس میں تلاوت کلام پاک کے بعد، مولوی ضیاءالرحمن صحت اور حافظ محمدعمر خمر نے ایک خوبصورت نظم پیش کی۔
ان کے بعد مولانا مفتی محمدقاسم قاسمی نے حاضرین سے خطاب کیا۔ استاذ حدیث و فقہ دارالعلوم زاہدان نے اپنے خطاب میں سیرہ نبوی کے موضوع پر گفتگو کی اور ’واقعہ طائف‘ کو سیرت کے باب میں اہم ترین واقعات میں شمار کیا۔
واقعہ معراج کی جانب اشارہ کرتے ہوئے صدر دارالافتا دارالعلوم زاہدان نے کہا: اگر ہم اللہ کی راہ میں مشکلات و مسائل برداشت کریں، اللہ تعالی ہمیں عزت کی چوٹی پر پہنچائے گا۔ نبی کریم ﷺ اعتدال کے اسوہ کامل ہیں اور جو قوم اس راہ پر گامزن ہوگی اس کے مسائل و مشکلات خودبخود حل ہوجائیں گے۔
مولانا قاسمی کی تقریر کے بعد، مولوی فضل الرحمن رئیسی اور نوجوان افغان نظم خوان (فرہاد اکبر) نے فارسی، عربی اور بلوچی میں نظمیں پیش کی۔

مغرب کی نماز ادا کرنے بعد فضلائے دارالعلوم کے ایک گروہ نے نعت رسول مقبول ﷺ پیش کی۔ انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں اور شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید اسٹیج پر تشریف لائے۔ (مولانا عبدالحمید کی تقریر پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔)
تقریب کے آخری لمحات میں آیت اللہ سلیمانی، ولی فقیہ کے نمائندہ اور اہل تشیع کے خطیب مہمانوں کے جمع میں شامل ہوئے۔ انہوں نے اپنی مختصر تقریر میںکہا: دارالعلوم زاہدان کی پروقار تقریب کی جڑ ’اتحاد، امن اور محبت‘ میں ہے۔

تقریب کے اختتام سے پہلے 193 فضلاء اور 133 فاضلات اور دس حافظات کے نام پڑھ لیے گئے جن کی دستاربندی ہوئی۔ شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید کی پرسوز دعا پر موحدین و مخلصین نے آمین کہا۔ ایران کے مشہور نعت خواں ’شمس الدین سرودی‘ نے مولانا عبدالحمید کو اپنے اشعار سے وصف کرتے ہوئے ایک خوبصورت نظم پیش کی جسے بڑی پذیرائی ملی۔
یاد رہے دارالعلوم زاہدان کی تقریب خواتین بھی شریک تھیں اور ایک اندازے کے مطابق ان کی تعداد پچاس ہزار سے زائد تھی۔ نیز ایک ہفتہ سے قبل مہمانوںکے لیے شعبہ استقبالیہ سرگرم ہوا تھا اور جماعت دعوت و تبلیغ کے کارکن اس تقریب کے انعقاد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے تھے۔ تقریب کے براہ راست کوریج ’سنی آن لائن‘ کے اہتمام سے ہوا جو ایک ہزار سے زائد گھروں میں دیکھی گئی۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں