ایرانشہر، دلگان، فنوج اور لاشار کے فضلائے دارالعلوم زاہدان کی اساتذہ سے ملاقات

ایرانشہر، دلگان، فنوج اور لاشار کے فضلائے دارالعلوم زاہدان کی اساتذہ سے ملاقات

زاہدان (سنی‌ آن‌لائن) بروز بدھ (24 دسمبر 2025ء) دارالعلوم زاہدان کے ایرانشہر، دلگان، فنوج اور لاشار سے تعلق رکھنے والے فضلاء اور فیض‌یافتگان نے اپنے اساتذہ سے دارالعلوم زاہدان میں ملاقات کی۔
سنی‌آن لائن کی رپورٹ کے مطابق، اس ملاقات میں مولانا عبدالغنی بدری، مفتی محمدقاسم قاسمی اور شیخ‌الاسلام مولانا عبدالحمید نے خطاب کیا۔ اجلاس کے ایک حصے میں مختلف علاقوں کے نمائندوں نے اپنے مسائل بیان کیے، کارکردگی رپورٹس پیش کیں، تجاویز و سفارشات دیں اور مختلف امور میں رہنمائی طلب کی۔
اس ملاقات کے ابتدائی حصے کا انعقاد گزشتہ شب ہوا، جس میں دارالعلوم زاہدان کے نائبِ انتظامی امور حافظ محمد اسماعیل ملازہی نے مہمانوں کا خیرمقدم کیا، جبکہ دارالعلوم زاہدان کے استادِ حدیث ڈاکٹر مولانا عبیداللہ بادپا نے فضلاء سے گفتگو کی۔

🔹 مولانا عبدالغنی بدری: لوگ مخلص اور خیرخواہ افراد کی بات قبول کرتے ہیں
مولانا عبدالغنی بدری نے فضلاء سے ملاقات کے اجلاس میں موجودہ حالات میں دینی سرگرمیوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا: آج معاشرے کی فضا ایسی ہے کہ اگر کوئی مخلص اور خیرخواہ انسان نصیحت کرے تو لوگ خوشی سے اسے قبول کرتے ہیں۔
دارالعلوم زاہدان کے ناظم تعلیمات نے کہا: اللہ تعالیٰ نے اس زمانے میں دینی کاموں کے لیے مناسب مواقع فراہم کیے ہیں، عوام میں قبولیت موجود ہے، لیکن ہم اس موقع سے کم فائدہ اٹھا رہے ہیں، حتیٰ کہ دینی مراکز بھی اس فضا سے مکمل استفادہ نہیں کر پا رہے۔ اس صلاحیت کو پہچاننا اور درست طور پر استعمال کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا: ان نشستوں میں ہمیشہ اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ خود علما گفتگو کریں، اصل مقصد دل کی بات کہنا، سرگرمیوں کی رپورٹ پیش کرنا، تنقید، تجاویز اور عملی حل بیان کرنا ہے۔ فضلاء کے عملی تجربات دینی کام کو آگے بڑھانے میں نہایت مؤثر ہوتے ہیں۔ تجربات کی منتقلی ہر قسم کی رسمی تقریر سے زیادہ اثر رکھتی ہے۔

🔹 مفتی محمدقاسم قاسمی: حکمت اور بصیرت دعوت الی اللہ کے بنیادی ستون ہیں
مفتی محمدقاسم قاسمی نے علم کے بلند مقام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: علم سے نسبت بہت عظیم نسبت ہے، اور جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے انتخاب نہ ہو، کوئی شخص قافلۂ علم میں شامل نہیں ہوتا۔
انہوں نے مولانا دین‌محمد درّکانی رحمہ‌اللہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا: وہ تقویٰ کا نمونہ تھے، ایسے انسان کہ جن کی صحبت انسان کو اپنی کمزوریاں دکھا دیتی ہے۔ ایسے نرم دل اور خیرخواہ علما فتنوں کے سدباب کا ذریعہ بنتے ہیں۔ علما کے انتقال کے بعد ہماری ذمہ داریاں مزید بڑھ جاتی ہیں۔
مولانا قاسمی نے کہا: اسلام شدید طوفانوں، جھوٹے مدعیوں اور بڑی طاقتوں کے باوجود باقی رہا ہے، ایک تو اس دین کی فطرت کی وجہ سے کہ وہ غالب ہے، اور دوسرا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ ہر دور میں ایسے باارادہ، عامل اور حکیم افراد پیدا کرتا ہے جو اپنی زندگیاں دین کے لیے وقف کر دیتے ہیں۔
صدر دارالافتاء دارالعلوم زاہدان نے کہا: دعوت اگر حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ ہو تو اثر انداز ہوتی ہے، اور وہی دعوت باقی رہتی ہے جو خالص اللہ کے لیے ہو۔ اخلاص اہلِ اخلاص کی صحبت، دعا، عاجزی اور مجاہدے سے حاصل ہوتا ہے۔ بصیرت اور حکمت دعوت الی اللہ کے بنیادی ستون ہیں۔

🔸 مأیوسی دعوت کی سب سے بڑی آفت ہے
انہوں نے مزید کہا: طور طریقوں میں جدت لائیں، اگر ایک طریقہ کارگر نہ ہو تو دوسرا اختیار کریں۔ اگر دینی کام میں تخلیقیت نہ ہو تو معاشرہ بے دینی کی طرف جاتا ہے۔ نوجوانوں پر اثر، قرآن کی تعلیم اور حفظ میں بھی نئے انداز کی ضرورت ہے۔ ثابت قدم رہیں، مایوس نہ ہوں، کیونکہ مأیوسی دعوت کی آفت ہے۔

🔹 مولانا عبدالحمید: آج اصل دین، قرآن اور رسول ﷺ کے خلاف تبلیغ ہو رہی ہے
شیخ‌الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے خطاب میں کہا: آج دین، قرآن اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف منفی پروپیگنڈا ہو رہا ہے اور بے دینی تیزی سے پھیل رہی ہے۔ ضروری ہے کہ دین لوگوں کی زندگیوں میں داخل ہو، کیونکہ دین برائیوں سے روکتا ہے۔ آج دعوت الی اللہ فرض ہے۔
انہوں نے بعض علاقوں میں پوست کی کاشت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا: یہ ایک نیا فتنہ ہے جس کے سدباب کے لیے منصوبہ بندی اور باہمی تعاون ضروری ہے۔ دعا، اخلاص اور محنت کے ساتھ اللہ تعالیٰ مدد فرماتا ہے اور اصلاح کا راستہ کھلتا ہے۔

انہوں نے فضلاء کو سوشل میڈیا میں مثبت کردار ادا کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے کہا کہ آج بہت سے لوگ اس قابل ہیں کہ آن لائن سوالات کے جوابات دیں اور دین کا دفاع کریں۔ اگر آپ دعوت الی اللہ میں مصروف رہیں گے تو اللہ تعالیٰ آپ کی حفاظت فرمائے گا۔

🔸 دنیا سے حد سے زیادہ وابستگی علما کے لیے نقصان دہ ہے
مولانا عبدالحمید نے کہا کہ علما کو دنیا سے غیرضروری وابستگی سے بچنا چاہیے، زندگی کے اخراجات بلاوجہ نہ بڑھائیں۔ حکمت کے ساتھ دعوت دیں اور لوگوں کے لیے مشکلات پیدا نہ کریں۔ نفس پر غلبہ سب سے بڑی فتح ہے۔
آخر میں انہوں نے کہا: اجتماعی طور پر کام کریں، مشورہ کریں، تکراری رپورٹوں کے بجائے نئے اور تخلیقی کام کریں۔ عوام کے ساتھ رہیں، ان کے حقوق کا دفاع کریں، مصیبتوں میں ان کے شانہ بشانہ ہوں۔ علما ہر دور میں امت کے لیے نمونہ ہوتے ہیں، اس ذمہ داری کو محسوس کریں اور مسجد و معاشرے میں فعال کردار ادا کریں۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں

تازه ترین