زاہدان )سنیآن لائن) ممتاز عالمِ دین، محقق، مدرسۂ دینی «تعلیمالقرآن» شورشادی کے بانی و مہتمم مولانا دینمحمد درکانی رحمہاللہ اتوار 21 دسمبر ۲۰۲۵ء کو طویل علالت کے بعد زاہدان کے مقامی اسپتال میں 78 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔
سنیآن لائن کی رپورٹ کے مطابق، مرحوم کی نمازِ جنازہ اور تدفین پیر ۲۲ دسمبر کےدوپہر کو سرجنگل کے مرکزی قبرستان میں ادا کی گئی، جس میں علما و عمائدین سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد نے شرکت کی۔
مولانا دینمحمد درکانی رحمہاللہ 1947ء میں زاہدان کے نواحی گاؤں «قلعہبید» میں پیدا ہوئے۔ آپ اہلِ سنت کے نامور علما میں شمار ہوتے تھے اور ملک کے متعدد معروف علما آپ کے شاگرد تھے، اسی وجہ سے آپ کو «استاذالعلماء» کہا جاتا تھا۔ آپ ایک متواضع، زاہد، صاحبِ علم اور کثیر التصانیف عالم تھے جن کی متعدد علمی و تحقیقی کتب یادگار ہیں۔
مدرسۂ دینی «تعلیمالقرآن» شورشادی، جس کے بانی اور ناظم مرحوم خود تھے، اہلِ سنت کے معروف اور معتبر دینی مدارس میں شمار ہوتا ہے۔
مرحوم کی نمازِ جنازہ انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ ادا کی گئی، جس میں صوبہ سیستان و بلوچستان اور ہمجوار صوبوں سے علما، ائمہ جمعہ، طلبہ اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
اس موقع پر شیخالاسلام مولانا عبدالحمید، مولانا عبدالکریم حسینپور (مہتمم مدرسہ عینالعلوم گُشت)، مولانا عبدالغنی بدری (ناظم تعلیمات دارالعلوم زاہدان)، مولانا فضلالرحمان کوہی (مہتمم مدرسہ انوارالحرمین وخطیب پشامگ ضلع سرباز)، مولانا عبدالاحد پارسا (عالمِ دین، خراسان جنوبی)، حاج حسین شہبخش (چیئرمین اسلامی کونسل صوبہ سیستان و بلوچستان) اور مولوی عبدالحمید شہبخش (امام و خطیب سرجنگل) نے خطاب کیا۔
اس کے علاوہ مولانا محمدحسین گورگیج، مہتمم دارالعلوم فاروقیہ گالیکش کا تعزیتی پیغام مولانا عبدالغنی بدری نے پڑھ کر سنایا۔ نمازِ جنازہ شیخالاسلام مولانا عبدالحمید کی امامت میں ادا کی گئی۔
مولانا عبدالغنی بدری نے اپنے خطاب میں کہا کہ مولانا دینمحمد رحمہاللہ ریا اور نمود سے سخت دور رہنے والے، اسلاف کے نمونہ اور اعلیٰ درجے کے عالم تھے۔ مولانا دینمحمد علمی اعتبار سے نہایت بلند پایہ تھے، ان کے ہم مرتبہ بہت کم ملتے ہیں۔ وہ کثرت سے مطالعہ کرتے تھے، یہاں تک کہ اساتذہ اور طلبہ دونوں ان کے علم سے استفادہ کرتے تھے۔ جو بھی رقم انہیں ملتی کتابوں کی خریداری میں صرف کردیتے تھے۔ ان کی زندگی زہد، عبادت اور علم کے فروغ میں گزری۔
مولانا فضلالرحمان کوہی نے کہا کہ علما کی وفات ہم سب کے لیے تنبیہ اور یاددہانی ہے کہ ان کے بعد ہماری ذمہ داریاں مزید بڑھ جاتی ہیں۔ انہوں نے مرحوم کے شاگردوں اور صاحبزادوں کو نصیحت کی کہ ان کے علمی و اخلاقی مشن کو منظم انداز میں آگے بڑھائیں۔
حاج حسین شہبخش نے مولانا دینمحمد کو ایک عظیم فقیہ، سادہزیست اور خیرخواہ شخصیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ علاقۂ کورین ان کے نام کے ساتھ پہچانا جاتا ہے اور وہ اپنے شاگردوں اور خدمات کے ذریعے ہمیشہ زندہ رہیں گے۔
مولانا عبدالاحد پارسا نے کہا کہ بلوچستان کے لیے یہ باعثِ فخر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس خطے کو ایسے جلیل القدر اور حقانی علما سے نوازا، اور عوام کو چاہیے کہ علمائے ربانی کی جان و مال سے حفاظت کریں، ان کی باتیں سن لیں اور دین کی نصرت کریں۔
شیخُالاسلام مولانا عبدالحمید: مولانا دینمحمد رحمہاللہ کی سوچ عوام کی خدمت تھی
اہل سنت ایران کی ممتاز دینی و سماجی شخصیت نے مولانا دینمحمد رحمہاللہ کی نمازِ جنازہ کے موقع پر کہا: میں تمام علما، ائمۂ جمعہ، معززین، اساتذہ اور ان تمام عزیز لوگوں سے تعزیت کا اظہار کرتا ہوں جو صوبۂ سیستان و بلوچستان، خراسانِ جنوبی اور دور و نزدیک کے علاقوں سے مولانا دینمحمد کی آخری رسومات اور نمازِ جنازہ میں شرکت کے لیے آئے ہیں۔ پورا علاقہ مولانا دینمحمد کا حامی تھا۔ ان کی اور دیگر علما و بیدار انسانوں کی فکر ہمیشہ عوام کی خدمت رہی ہے۔ ہمیں ان کے مقاصد کو آگے بڑھانا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا: رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی کے آخری لمحات میں صحابہ کی نماز کو دیکھا اور نماز پڑھنے والوں کو دیکھ کر آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوئیں؛ وہ لوگ جو پہلے بت پرست تھے اور پھر دیندار اور اہلِ اللہ بن گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس بات پر خوش ہوئے کہ رسالت کے مقاصد آگے بڑھ رہے ہیں۔
امامِ جمعہ زاہدان نے کہا: رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد یہ وصیت نہیں فرمائی کہ لوگ ان کی اولاد کی دیکھ بھال کریں، بلکہ فرمایا کہ کتابِ اللہ اور سنت کو مضبوطی سے تھامے رکھو۔ قرآن اللہ کی کتاب اور بہترین رہنما ہے جو قیامت تک باقی رہے گا۔ جب تک قرآن اور رسولِ اللہ کی تعلیمات کو مضبوطی سے تھامے رکھو گے، گمراہ نہیں ہوگے۔
مولانا عبدالحمید نے کہا: مولانا دینمحمد رحمہاللہ نے اپنی پوری زندگی درس، مطالعہ، تدریس اور تصنیف میں صرف کی۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں سیال قلم عطا فرمایا تھا۔ وہ اپنےدینی مدرسہ اور ذاتی کتب خانے کے مستقبل کے بارے میں فکر مند رہتے تھے، لیکن عمر کے آخری حصے میں شکر گزار اور مطمئن تھے کہ ان کی اولاد ان کے راستے کو جاری رکھ سکتی ہے۔
مولانا دینمحمد رحمہاللہ علم و مطالعہ کے آدمی تھے؛ فقر و زہد کے ساتھ زندگی گزاری
صدر دارالعلوم زاہدان نے مرحوم کے علمی مقام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: مولانا دینمحمد رحمہاللہ علم و مطالعہ کے دلدادہ تھے، دنیا کی طرف زیادہ توجہ نہیں دیتے تھے اور نہایت سادہ اور زاہدانہ زندگی گزارتے تھے۔ وہ ایک درویش عالم کی عملی مثال تھے جو صرف علم اور اس کے فروغ کے بارے میں سوچتے تھے اور بہترین شاگرد تیار کیے۔ مولانا محمدحسین گورگیج، مدیر دارالعلوم فاروقیہ گالیکش، مولانا دینمحمد رحمہاللہ کے نمایاں شاگردوں میں سے ہیں۔ مولانا دینمحمد کے شاگرد وں کا صدقۂ جاریہ ہیں اور علاقے کے لیے خیر و برکت کا سبب اور دینی مدارس و علماے ربانی کی عوامی حمایت کا ثمرہ ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: میرا مولانا دینمحمد رحمہاللہ کی نسبی اور روحانی اولاد کو مشورہ ہے کہ وہ ان کے طریقۂ کار کو جاری رکھیں۔ یہ باپ کا حق بھی ہے اور مولانا دینمحمد کا حق بھی کہ آپ مدرسے کی حمایت کریں۔ مدرسین اور مرحوم کے صاحبزادے خود کو تنہا محسوس نہ کریں؛ عوام اور معاشرے کے تمام طبقات ان کے حامی ہیں اور دین و علم کی خدمت میں ان کے ساتھ ہیں۔
تشییعِ جنازہ میں عوام کی بھرپور شرکت مولانا دینمحمد کی مقبولیت کی علامت ہے
خطیب زاہدان نے اختتامی کلمات میں کہا: علما اور عوام کی بڑی تعداد کی شرکت اس بات کی علامت ہے کہ مولانا دینمحمد رحمہاللہ کو آسمان و زمین میں مقبولیت حاصل تھی، اور اس سے واضح ہوتا ہے کہ لوگوں کے دلوں میں اور اللہ تعالیٰ کے حضور ان کا کیا مقام تھا۔











آپ کی رائے