زاهدان کی یونیورسٹیوں میں نئے داخل ہونے والے طلبہ کی تعارفی نشست دارالعلوم زاہدان میں منعقد ہوئی

زاهدان کی یونیورسٹیوں میں نئے داخل ہونے والے طلبہ کی تعارفی نشست دارالعلوم زاہدان میں منعقد ہوئی

زاہدان (سنی آن لائن) زاہدان کی یونیورسٹیوں میں نئے داخل ہونے والے طلبا اور طالبات کی ایک جماعت نے جمعرات 18 دسمبر 2025ء کو ’’یومِ اتحاد مدرسہ و یونیورسٹی‘‘ کے موقع پر جامع مسجد مکی زاہدان میں علما سے ملاقات کی۔
سنی آن لائن کی رپورٹ کے مطابق، اس نشست میں شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید، مولانا مفتی محمدقاسم قاسمی، ڈاکٹر کریم بخش کردی تمندانی اور مولوی حبیب اللہ مرجانی نے خطاب کیا۔ قرآن کریم کی تلاوت عبدالمنان رئیسی، دارالعلوم زاہدان کے طالب علم نے کی۔ فاروق خسروی، جامعہ سیستان و بلوچستان کے شعبۂ فلسفہ کے طالب علم نے ایک مقالہ پیش کیا۔ اسی طرح اکبر شفیعی، جامعہ سیستان و بلوچستان کے شعبۂ فلسفہ، ادیان و عرفان کے طالب علم نے ’’ایک طالب علم کی شیخ الاسلام سے دل کی بات‘‘ کے عنوان سے مقالہ پڑھا۔
دارالعلوم زاہدان کے شعبۂ طلبہ کے ذمہ دار مولوی حبیب اللہ مرجانی نےاپنے خطاب میں‌ کہا کہ اسلام میں علوم کی تقسیم یا خدا کی معرفت کو کسی خاص طبقے تک محدود کرنا موجود نہیں ہے۔ امت کا زوال اس وقت شروع ہوا جب علوم کو دینی اور دنیوی میں تقسیم کیا گیا اور مسلمانوں نے سیاسی قیادت سے پہلے علمی قیادت دوسروں کے سپرد کر دی۔ وحی سے الگ علوم دنیا میں پھیل گئے اور انسانیت نے یہ سمجھ لیا کہ وہ خدا اور وحیانی علوم کے بغیر بھی سعادت پا سکتی ہے، جس کے نتیجے میں عالمی جنگیں، تباہ کن ہتھیار اور ایٹم بم وجود میں آئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم یہاں یہ پیغام دینے کے لیے جمع ہوئے ہیں کہ دینی مدارس کے طالب العلم اور یونیورسٹی کے طلبا ایک ہی ہیں اور ان کے درمیان کوئی بنیادی فرق نہیں۔ اگر نیت درست ہو تو دونوں علم کے ذریعے معرفت الٰہی تک پہنچ سکتے ہیں۔ مدرسہ اور یونیورسٹی کے درمیان تعلق اور طلبہ کی علما سے ملاقاتیں انسانی، اسلامی اور ایرانی معاشرے کے لیے مفید ہیں اور دین کو مضبوط کرنے اور دین سے دوری کے رجحان کے خلاف ہیں۔

‘عصری جامعات کے طلبا موثر کردار ادا کرسکتے ہیں’
ڈاکٹر کریم بخش کردی تمندانی نے نوجوانوں میں دین سے دوری پر غلط پالیسیوں کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بعض اوقات ہماری پالیسیاں نوجوانوں کو دین سے بیزار بلکہ دین دشمن بنا دیتی ہیں۔ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ دین کو سیاسی بنا دیا گیا ہے اور اسے ذاتی مفادات کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج دنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور ہمیں ان تبدیلیوں سے آگاہ ہونا چاہیے۔ ہمیں اپنی دینی روایات اور عقائد کو محفوظ رکھتے ہوئے نئی دنیا کی طرف بڑھنا چاہیے۔
انہوں نے علم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جس معاشرے میں علم اور ٹیکنالوجی سے پیچھے رہ جایا جائے وہ معاشرہ پسماندہ ہو جاتا ہے۔
ممتاز سماجی کارکن نے کہا کہ معاشرے میں تین طبقے بنیادی کردار ادا کرتے ہیں: بزرگ اور قبائلی رہ نما جو روایتی معاشروں میں سماجی امور کو سنبھالتے ہیں، علما جو معاشرے کی اخلاقی بنیاد بناتے ہیں، اور طلبہ و یونیورسٹی کے افراد جو تبدیلی لا سکتے ہیں۔ طالب علم کو صرف علم حاصل کرنے پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے بلکہ اسے حق طلبی اور عدل کے قیام کا علمبردار ہونا چاہیے۔ مسجد مکی شہری مطالبہ گری کی علامت ہے اور اسی وجہ سے نوجوانوں کی بڑی تعداد مساجد سے جڑی ہوئی ہے اور ہمارے یہاں دینی شعور مضبوط ہوا ہے۔
انہوں نے کہا: مغرب اگر ترقی یافتہ ہے تو وہ رقص، موسیقی یا بے پردگی کی وجہ سے نہیں بلکہ علم اور فن کی بدولت ہے۔ طلبہ میڈیا، قلم اور اپنی مہارتوں کے ذریعے معاشرے کو بیدار کرنے اور شہری سوچ پیدا کرنے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں روایت اور جدیدیت آمنے سامنے ہیں، لیکن دیندار رہتے ہوئے جدید زندگی گزارنا ممکن ہے۔ علما کو بھی طلبہ اور یونیورسٹی کے طبقے کو قبول کرنا چاہیے کیونکہ عصری جامعات کا طالب علم معاشرے میں مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔

یونیورسٹی کے طلبا دینی علوم پر توجہ دیں
مولانا مفتی محمدقاسم قاسمی نے زاہدان کے ہزاروں طلبا و طالبات کی مجلس میں خطاب کرتے ہوئے سماجی مسائل اور منفی تبدیلیوں کے باوجود علم کی شمع روشن رکھنے پر طلبا و طالبات کو شاباش کہا۔
انہوں نے کہا: منفی تبدیلیوں کی وجہ سے علم حاصل کرنے کا شوق کم ہوا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ صلاحیت اور شوق عطا کیا ہے کہ آپ طالب علم بنے ہیں اور آپ آئندہ نسلوں کے لیے باعثِ فخر بن سکتے ہیں۔
صدر دارالافتا دارالعلوم زاہدان نے کہا کہ انسان کی اصل قدر اس کے اوصاف اور اقدار ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایسے نمونوں کو اپنایا جائے جو تبدیلی، اصلاح اور بہتری کا سبب بنے ہوں۔ انبیا اور صحابہ بہترین آئیڈیل ہیں۔
انہوں نے علامہ اقبال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی فکر اور عمل کی بنیاد پانچ چیزیں تھیں: ایمان و یقین، قرآن مجید، اپنی پہچان، دعا اور مثنوی معنوی۔ اقبال روزانہ قرآن کی تلاوت کرتے تھے اور اس کے معانی میں غور کرتے تھے۔ وہ سحرخیز تھے اور دعا کرتے تھے کہ اے اللہ! میری سحر کی آہ نوجوانوں تک منتقل فرما۔
مولانا قاسمی نے طلبہ کو نصیحت کی کہ خود کو پہچانیں، علم صحیح طریقے سے حاصل کریں، تقویٰ اختیار کریں اور نیک لوگوں کی صحبت اختیار کریں۔ یونیورسٹی کی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم بھی حاصل کریں جو کئی طریقوں سے ممکن ہے۔

‘انسان علم کے بغیر دنیا اور آخرت میں ترقی نہیں کر سکتا’
صدر جامعہ دارالعلوم زاہدان شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ دنیا کے بہترین طبقات میں سے ایک وہ طبقہ ہے جو علم کے حصول میں لگا ہوتا ہے کیونکہ علم اللہ تعالیٰ کی صفت ہے۔ اللہ تعالیٰ علیم اور حکیم ہے۔ انسان کا علم محدود ہے جبکہ اللہ کا علم لا محدود ہے۔ انسان کا علم اللہ کے علم کے مقابلے میں سمندر کے سامنے ایک قطرے کی مانند ہے۔
انہوں نے فرمایا : جو طبقہ علم کے پیچھے ہوتا ہے وہ بابرکت ہوتا ہے۔ علم اللہ کی عطا ہے اور انسان کی ضرورت کا جواب ہے۔ انسان علم کے بغیر دنیا اور آخرت میں ترقی نہیں کر سکتا۔ سب سے پہلی چیز جو اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو سکھائی وہ علم تھا اور اسی علم کی وجہ سے فرشتوں کو سجدے کا حکم دیا گیا۔
ممتاز سماجی و سیاسی رہ نما نے کہا: علم انسان کی صلاحیت کو بڑھاتا ہے اور اس کی سوچ کو وسیع کرتا ہے۔ علما معاشرے کے لیے مفید ہوتے ہیں۔ انبیا نے صرف احکام نہیں سکھائے بلکہ ایمان، اخلاق اور انسانیت کی تعلیم دی اور انسانوں میں شعور اور صلاحیت پیدا کی۔
انہوں نے مزید فرمایا :علم انسان کی تعمیر کرتا ہے اور انسان کی تعمیر ہر کام سے اعلیٰ ہے۔ جب نفس کی اصلاح اور تزکیہ ہو جاتا ہے تو انسان رحمت، اخلاق، انسانیت اور ایثار کی مثال بن جاتا ہے۔
مولانا عبدالحمید نے کہا :اسلام ایک مکمل دین ہے اور زندگی کے تمام پہلوؤں کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ قرآن میں انسان کے تمام سوالات اور ضروریات کا جواب موجود ہے۔ اگر ہم انصاف، خیرخواہی اور رحم کو چھوڑ دیں تو ہم زمین پر اللہ کی خلافت کا حق ادا نہیں کرسکتے۔
انہوں نے تاکید کی کہ علم کو صرف روزی اور پیسےکے لیے نہ پڑھا جائے بلکہ اس نیت سے حاصل کیا جائے کہ انسان معاشرے کے لیے مفید بنے اور تمام انسانوں، چاہے وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم، کو فائدہ پہنچے۔ انہوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کی مثال دی کہ انہوں نے اپنی صداقت، امانت اور بردباری کے ذریعے پورے مصر کو فائدہ پہنچایا۔
حضرت شیخ الاسلام نے کہا : قرآن اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات انسان کی زندگی کو بدل دیتی ہیں۔ طلبہ کو چاہیے کہ اپنی پوری توجہ تخصص حاصل کرنے پر مرکوز رکھیں اور علم کا راستہ نہ چھوڑیں۔ اپنے فیلڈ میں بہترین بنیں، اعلیٰ ترین ڈگری حاصل کریں اور ان کا مقصد انسانیت اور معاشرے کی خدمت ہونا چاہیے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ دین پر قائم رہنا مشکل ضرور ہے لیکن قیمتی ہے۔ نماز، تقویٰ اور گناہوں سے بچنا انسان کو لغزش سے محفوظ رکھتا ہے۔ انسان کو افراط و تفریط سے بچنا چاہیے اور اعتدال کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ بد اخلاقی اور ظلم انسان کو رسوا کر دیتے ہیں، اس لیے ہر حال میں اخلاق، انصاف اور انسانیت کو مقدم رکھنا چاہیے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں

تازه ترین