معروف روحانی شخصیت مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی انتقال کرگئے، اکابر علما کا اظہار تعزیت

معروف روحانی شخصیت مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی انتقال کرگئے، اکابر علما کا اظہار تعزیت

سلسلہ نقشبند کی معروف ترین روحانی شخصیت مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی انتقال کرگئے۔ وہ کافی عرصہ سے گردوں کے عارضہ میں مبتلا تھے اور ان کا لاہور میں علاج جاری تھا۔ انتقال کی خبر سنتے ہی اہلِ علم، مشائخ، تلامذہ اور عقیدت مندوں میں گہرے غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔ مرحوم کی پوری زندگی دین اسلام کی خدمت، اصلاحِ امت، تزکیہ نفس اور اخلاقی تربیت کے لیے وقف رہی۔ ان کی مجالسِ اصلاح اور بیانات سے بے شمار افراد نے ہدایت اور روحانی فیض حاصل کیا۔ پیر ذوالفقار احمد نقشبندی یکم اپریل 1953ء کو جھنگ میں پیدا ہوئے۔ ان کی نماز جنازہ پیر کو جامعہ معھد الفقیر الاسلامی جھنگ میں ادا کی جائے گی۔
ادھرجامعة الرشید کے سرپرست اعلیٰ حضرت مفتی عبدالرحیم، جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان، وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے قائدین مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صدر وفاق المدارس، مولانا انوار الحق سینئر نائب صدر، مولانا محمد حنیف جالندھری ناظم اعلیٰ وفاق المدارس، مولانا طارق جمیل اور دیگر نے مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی کی رحلت پر تعزیت کرتے ہوئے ان کی تعلیم و تربیت اور تزکیہ و احسان کے حوالے سے خدمات کو ناقابل فراموش اور قابل قدر قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی رحمہ اللہ نے صرف تصوف و سلوک ہی نہیں بلکہ جامعہ معہد الفقیر الاسلامی کے ذریعے گرانقدر علمی خدمات بھی سرانجام دیں۔ مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی نے اپنے متعلقین کو جس طرح دینی تعلیم کی طرف راغب کیا، جس طرح دینی مدارس سے باقاعدہ تعلیم حاصل کرنے کی ترغیب دی وہ ان کی امتیازی خصوصیت تھی جس کی وجہ سے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں لوگوں کی زندگیوں میں انقلاب آیا۔
مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی ہمیشہ اکابر علما کرام کے ساتھ وابستہ رہے اور دوسروں کو بھی اسی وابستگی کی تلقین کرتے رہے۔ انہوں نے مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی کے صاحبزادگان، جامعہ معہد الفقیر الاسلامی کے اساتذہ و طلبہ اور دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ان کے متعلقین سے تعزیت کرتے ہوئے ان کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعا کی اورملک بھر کے ارباب مدارس اور مساجد کے ائمہ و خطبا سے بھی پیر ذوالفقار احمد نقشبندی مرحوم کے لیے خصوصی دعاؤں کی اپیل کی۔

پیر ذوالفقار احمد نقشبندی کا انتقال جھنگ میں ہوا، ان کی نماز جنازہ کل بروز پیر جھنگ میں ادا کی جائے گی۔
پیر ذوالفقار احمد نقشبندی کے انتقال پر مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔
ایک بیان میں جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس موقع پر ہم سب تعزیت کے مستحق ہیں، یہ ہم سب کے لیے مشترک حادثہ ہے، پیر ذوالفقار نقشبندی تصوف کی آبرو اور علم وعمل کے سالار تھے، انہوں نے نصف صدی سے زیادہ تصنیف وتالیف ، وعظ و نصیحت کی خدمات سرانجام دیں۔
مسلم لیگ ن کے رہنما اور وفاقی وزیر احسن اقبال نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پیر ذوالفقار احمد نقشبندی کے انتقال کی خبر سن کر دلی صدمہ ہوا، ان سے عقیدت کا تعلق تھا اور وہ بھی نہایت شفقت رکھتے تھے، وہ دینی اور روحانی تربیت کے روشن مینار تھے جنہوں نے اپنی زندگی دین اسلام کی خدمت، تزکیہ نفس، اصلاح معاشرہ اور محبت و اخلاص کے پیغام کو عام کرنے میں بسر کی۔
معروف عالم دین مولانا طارق جمیل نے کہا کہ پیر طریقت حضرت پیر ذوالفقار احمد نقشبندی صاحب کے وصال کی خبر سے دل انتہائی رنجیدہ اور غمگین ہے، وہ ایک ایسی ہستی تھے جن کی پوری زندگی اللہ کی رضا، دین کی خدمت اور انسانیت کی رہنمائی میں گزری اور ان کی وفات سے امت ایک عظیم رہنما سے محروم ہو گئی۔
کشمیری حریت پسند رہنما میر واعظ عمر فاروق نے بھی سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ یہ سانحہ امت مسلمہ کے لیے ایک عظیم دعوتی اور روحانی خسارہ ہے، مرحوم اصلاح نفس، تزکیہ قلب اور دین کی خاموش مگر گہری خدمت کا روشن چراغ تھے۔
ان کے علاوہ بھی دیگر سیاسی و مذہبی رہنماؤں نے پیر ذوالفقار احمد نقشبندی کی دینی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں

تازه ترین