زاہدان (سنی آن لائن) ایران کی سنی برادری کی اسلامک فقہ اکیڈمی کا 26واں اجلاس، جو منگل (۲ دسمبر) کو ملک بھر کے ممتاز مفتیان اور علمائے کرام کی موجودگی میں دارالعلوم زاہدان میں شروع ہوا تھا، اگلے دن بدھ کی شام کو اختتام پذیر ہوا۔
سنی آن لائن کے نامہ نگاروں کی رپورٹ کے مطابق، افتتاحی نشست کا آغاز مولانا عبدالحکیم کرد کی تلاوتِ کلام پاک سے ہوا۔ اس کے بعد شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید (صدر فقہ اکیڈمی) اور مولانا مفتی محمد قاسم قاسمی (جنرل سیکرٹری) نے حاضرین سے خطاب کیا۔ اختتامی نشست میں بھی شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے تقریر کی۔
مولانا عبدالحمید: فقہ اکیڈمی کا مقصد معاشرتی ضروریات کا حل ہے
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے افتتاحی خطاب میں فرمایا کہ اس اکیڈمی کا مقصد عوام کی ضروریات کو پورا کرنا اور فقہی مسائل حل کرنا ہے۔ بہت سے مسائل مبہم ہیں اور ان پر فتاویٰ میں ہم آہنگی نہیں ہے؛ یہاں ان کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ فقہی مشاورت وقت کی ضرورت ہے تاکہ فتاویٰ میں یکسانیت آئے اور نئے مسائل کا جواب دیا جا سکے۔
مفتی محمد قاسم: امت کے مسائل حل کرنے کا اجر سو حج اور جہاد سے زیادہ ہے
مولانا مفتی محمد قاسم نے مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے کہا : اسلام جب عرب سے نکل کر ایران، شام اور مصر پہنچا تو وہاں کا نظام پیچیدہ تھا۔ ایسے میں ہوشیار اور گہری نظر رکھنے والے علما کی ضرورت تھی۔ اللہ نے ائمہ اربعہ کو اس کام کے لیے منتخب کیا جنہوں نے اپنی زندگیاں علم کے لیے وقف کر دیں۔
انہوں نے کہا: امام ابوحنیفہؒ نے عہدہ قضا قبول نہیں کیا اور جیل میں فوت ہوئے، امام مالکؒ کو کوڑے مارے گئے، امام شافعیؒ نے غربت میں زندگی گزاری اور امام احمد بن حنبلؒ ڈٹ گئے۔ اگر یہ اکابرین سستی دکھاتے تو فقہ جمود کا شکار ہو جاتی۔
جامعہ دارالعلوم زاہدان کے ممتاز استاد اور صدر دارالافتا نے مزید کہا: آج کے دور میں مسائل کا حل تلاش کرنا بہت مشکل کام ہے، ہم اکثر سوالات کے جواب ڈھونڈتے ڈھونڈتے بند گلی میں پہنچ جاتے ہیں، لیکن اس محنت کا اجر و ثواب سو نفلی حج اور جہاد سے بھی زیادہ ہے۔
اجلاس کے موضوعات
اسلامی فقہ اکیڈمی کے جنرل سیکرٹری نے اجلاس کے ایجنڈے کی وضاحت کی:
- بینک پوائنٹس/امتیازات: کیا بینک میں رقم رکھنے پر ملنے والے پوائنٹس (قرض کے لیے امتیازات) کی خرید و فروخت جائز ہے؟
- ادھار سونا خریدنا: سونے کی قیمت بڑھنے کی وجہ سے لوگ ادھار سونا خریدتے ہیں جو مہنگا ملتا ہے۔ اس کا کیا حکم ہے؟
- کرنسی کا تبادلہ: کیا غیرملکی کرنسی کو ادھار یا قسطوں پر (مرابحہ کے طور پر) زیادہ قیمت میں بیچا جا سکتا ہے؟
- ڈیجیٹل کرنسی: کرپٹو کرنسی اور ڈیجیٹل کرنسی کے بارے میں علما کا نیا موقف اور فقہی حکم کیا ہے؟
اختتامی نشست
دو دن کی مسلسل نشستوں، مقالے پیش کرنے اور بحث و مباحثے کے بعد بدھ کی شام اختتامی نشست منعقد ہوئی۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اختتامی خطاب میں ایران کے سنی علمائے کرام سے کہا کہ یہ مجالس بہترین عبادت ہیں اور عوام کی ضرورت ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم ایک نئے دور میں ہیں جس کے تقاضے الگ ہیں۔ ہمیں طلبا کو ان نئے حالات اور اصطلاحات کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ہمیں قوم کی زبان سیکھنی چاہیے (یعنی جدید دنیا کی زبان اور طور طریقے)۔ ہمیں زمانے کے ساتھ چلنا ہوگا، علما کو عربی کے ساتھ ساتھ انگریزی اور دیگر زبانیں بھی سیکھنی چاہئیں۔
صدر دارالعلوم زاہدان نے زور دیا: اسلام قیامت تک رہنمائی کرتا ہے، لہٰذا ہمیں شریعت کے اصولوں کو برقرار رکھتے ہوئے احکام کو نئے دور کے مطابق لاگو کرنا چاہیے تاکہ لوگ یہ نہ سمجھیں کہ دین ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ انٹرنیٹ اور جدید وسائل نعمت ہیں، ان سے تحقیق میں مدد لینی چاہیے۔
تزکیہ اور اصلاح بھی علما کی ذمہ داری ہے
مولانا عبدالحمید نے فرمایا کہ علما کا کام صرف فتوے دینا نہیں بلکہ لوگوں کا تزکیہ (اصلاحِ باطن)، تعلیم اور تربیت بھی ہے۔ عوام کے ساتھ رہیں اور محبت و حکمت سے ان کی اصلاح کریں۔
آخر میں انہوں نے علما کو صبر کی تلقین کی کہ اذیتوں، الزامات اور پریشانیوں پر صبر کریں اور اللہ سے تعلق مضبوط کریں۔ فرائض و نوافل اور ذکر کے ذریعے اللہ سے مدد مانگیں کیونکہ اللہ کی مدد کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔

آپ کی رائے