غزہ کی اسلامی یونیورسٹی میں دو سال کی بندش کے بعد کلاسوں کا دوبارہ آغاز

غزہ کی اسلامی یونیورسٹی میں دو سال کی بندش کے بعد کلاسوں کا دوبارہ آغاز

تعلیمی سلسلہ دو سال تک مکمل طور پر معطل رہنے کے بعد پہلی بار، غزہ کی اسلامی یونیورسٹی نے بتدریج حضوری (فزیکل) تعلیم کی بحالی کے لیے ابتدائی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ یہ آغاز ایسی عمارتوں میں ہوا ہے جن کے کئی حصے تباہ ہو چکے ہیں اور وہاں اب بھی ملبے اور بربادی کے آثار نمایاں ہیں۔

ان کلاس رومز میں جن کی دیواروں کا صرف کچھ حصہ ہی مرمت کیا جا سکا ہے، سینکڑوں طلبہ دوبارہ ڈیسکوں پر براجمان ہوئے۔ یہ منظر جنگ کے گہرے اثرات اور زخموں کے باوجود زندگی اور امید کو واپس لانے کے لیے غزہ کے عوام کے عزم اور استقامت کی عکاسی کرتا ہے۔

سنی آن لائن کے شعبہ ترجمہ کی رپورٹ کے مطابق، ہفتہ ( ۲۹ نومبر ۲۰۲۵ء) کو غزہ کی اسلامی یونیورسٹی میں حضوری تعلیم کی واپسی کا پہلا دن تھا؛ یہ واپسی دو سال کی مکمل بندش اور آن لائن تعلیم کی محدود کوششوں کے بعد عمل میں آئی ہے۔

غزہ میں سرکاری میڈیا آفس کے مطابق، دو سالہ جنگ کے نتیجے میں ۱۶۵ اسکول اور یونیورسٹیاں مکمل طور پر تباہ ہوئیں اور ۳۹۲ تعلیمی مراکز کو نقصان پہنچا؛ یہ وہ نقصان ہے جس نے عملی طور پر غزہ کے تعلیمی نظام کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔

اسلامی یونیورسٹی کی عمارتوں کا ایک حصہ اب بھی ان سینکڑوں خاندانوں کا مسکن ہے جن کے گھر جنگ میں تباہ ہو چکے ہیں اور ان کے پاس کوئی اور پناہ گاہ نہیں ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے متعلقہ اداروں سے درخواست کی ہے کہ ان خاندانوں کے لیے جلد از جلد متبادل پناہ گاہ فراہم کی جائے تاکہ تعلیمی سلسلہ تسلسل کے ساتھ جاری رہ سکے۔

غزہ میں تعلیم کے لیے «تاریخی دن»
غزہ کی اسلامی یونیورسٹی کے صدر، “اسعد یوسف اسعد” نے یونیورسٹی میں حضوری تعلیم کے دوبارہ آغاز کو «تاریخی دن» قرار دیا اور کہا: «جنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والے عظیم درد اور رنج کے باوجود، ہم تعلیم کی طرف واپس آ رہے ہیں۔ فلسطینی عوام زندگی اور علم سے محبت کرتے ہیں۔»

انہوں نے بتایا کہ میڈیکل اور ہیلتھ سائنسز کے کالجز کے طلبہ کی ایک بڑی تعداد یونیورسٹی واپس آ گئی ہے اور یہ سلسلہ وزارتِ اعلیٰ تعلیم کے ساتھ ہم آہنگی کے تحت مرحلہ وار پروگرام کے مطابق جاری رہے گا۔

یونیورسٹی کے صدر نے مزید کہا: جنگ کے دوران یونیورسٹی ورچوئل (آن لائن) تعلیم استعمال کرنے پر مجبور تھی اور اس دوران تقریباً چار ہزار طلبہ نے اسی سسٹم کے ذریعے گریجویشن مکمل کی۔ اب اکتوبر ۲۰۲۳ء کے بعد پہلی بار، نئے طلبہ کو بھی یونیورسٹی میں آنے کا موقع ملا ہے۔

واپسی کے لیے طلبہ کا جوش و خروش
غزہ یونیورسٹی کے میڈیکل کالج میں طلبہ کلاسوں میں واپسی پر جوش و خروش کا اظہار کر رہے ہیں۔ ایک طالبہ “ملاک المقید” کہتی ہیں: «دو سال بعد، یہ ہماری حضوری تعلیم کا پہلا دن ہے۔ یونیورسٹی کو بہت نقصان پہنچا ہے، لیکن اس میں دوبارہ جان پڑ گئی ہے۔ ہمیں خوشی ہے کہ ہم علم کا سفر جاری رکھے ہوئے ہیں۔»

اسی فیکلٹی کی ایک اور طالبہ “سماء راضی” کہتی ہیں: «یہ کلاسوں میں ہماری موجودگی کا پہلا دن ہے۔ تباہی اور بمباری کے باوجود، ہم دوبارہ کلاسوں میں موجود ہیں۔ مجھے اپنی یونیورسٹی اور اپنے ملک پر فخر ہے کہ وہ تباہی کے ملبے سے دوبارہ اٹھ کھڑا ہوا۔»


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں

تازه ترین