شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید:

ملکِ ایران کے سرمائے کو دیگر مقامات پر خرچ نہیں کرنا چاہیے

ملکِ ایران کے سرمائے کو دیگر مقامات پر خرچ نہیں کرنا چاہیے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں اس ہفتے (28 نومبر ۲۰۲۵ء) کے خطبہ جمعہ میں عدل، خلقِ خدا کی خدمت، تشدد سے پرہیز اور عوام کے منتخب کردہ حکمرانوں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے آزادی، منصفانہ انتظامیہ اور ایرانی عوام کے مسائل کے حل کی اہمیت پر زور دیا اور خبردار کیا کہ قومی سرمایے کو ملک سے باہر خرچ نہیں کرنا چاہیے۔

حکومت اور حکمرانوں کے انتخاب میں عوام کے کردار پر زور
سنی آن لائن کے مطابق، شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنی گفتگو کے آغاز میں امور حکومت میں اللہ کی حکمتوں کا حوالہ دیتے ہوئے تاکید کی کہ “حکومت کا چلانا اور حکمرانوں کو منتخب کرنے کی طاقت عوام کے ہاتھ میں ہونا، نیز مینجمنٹ سائنسز اور سیاست انسان کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ نعمتیں ہیں، جو بہت سی مخلوقات کو نہیں دی گئیں، اور یہ اس لیے ہے تاکہ انسان دنیا کی زندگی کو بھی مناسب نظام کے ساتھ ترتیب دے سکے، تاکہ وہ دنیا میں ایک آرام دہ زندگی گزار سکے اور آسانی کے ساتھ اللہ کی بندگی کر سکے۔”
انہوں نے مزید کہا: اللہ تعالیٰ نے انسان کو آزادی عطا فرمائی ہے تاکہ وہ اپنی دنیاوی زندگی کے لیے درست منصوبہ بندی اور تدبیر کر سکے اور ایسے افراد اور گروہ کام کی باگ ڈور سنبھالیں جو عوام کی پر سکون زندگی کے لیے سوچیں اور کام کریں تاکہ لوگوں کی سکیورٹی (امن) یقینی ہو، معیشت اور لوگوں کا گزارہ بہتر ہو اور معاشرہ ترقی کرے اور علم و دانش کو فروغ ملے، تاکہ لوگ آسانی سے زندگی گزار کر کام کر سکیں اور حکومتوں کی درست منصوبہ بندی سے ان کی تمام ضروریات پوری ہو جائیں۔

حکومتوں سے اللہ کا مطالبہ: عوام کی خدمت اور معاشرے کی فلاح
مولانا عبدالحمید نے مزید کہا کہ اللہ تعالیٰ کو حکومتوں اور حکمرانوں سے جو چیز پسند ہے، وہ یہ ہے کہ وہ عوام کی فلاح، راحت اور آسائش کے بارے میں سوچیں اور لوگوں کی خدمت کریں۔
انہوں نے انتظام میں عدل کی اعلیٰ حیثیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: کسی عابد، زاہد اور درویش کو عدل پسندحاکم اور منصف منتظم کے برابر اللہ کے ہاں اجر نہیں ملتا۔ وہ عادل حکمران جو تمام لوگوں، تمام قوموں اور مذاہب اور مسلمان و غیر مسلم کو ایک جیسا دیکھے اور سب کی عادلانہ خدمت کرے، وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ قدر و قیمت رکھتا ہے۔

ان کے بقول: ایک لائق منتظم کو باصلاحیت، طاقتور اور عادل ہونا چاہیے اور لوگوں کے درمیان کوئی فرق نہیں کرنا چاہیے۔ حکمرانی کے لیے بہترین سیرت اور طرز عمل کا نمونہ حضرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے۔
مولانا عبدالحمید نے تاریخی مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: جب حضرت سلمان فارسی جو کہ ایران کے علاقے اصفہان کے تھے اسلام قبول کر چکے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سلمان ہمارے اہل بیت میں سے ہے۔ حقیقی خلافت الٰہی کی نمائندگی کرنے والی حکومت میں ایک غریب انسان کو ایسا مقام حاصل ہوتا ہے۔
ممتاز عالم دین نے مزید کہا: حضرت بلال حبشی، ایک سیاہ فام اور غلام جنہیں حضرت ابوبکر صدیق نے آزاد کرایا تھا، اتنی قدر و منزلت حاصل کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ کے حکم پر مسجد الحرام میں اذان دیتے ہیں اور مدینہ منورہ میں بھی بلال اذان دیتے تھے اور لوگ ان پر فخر کرتے تھے۔ عزت دار لوگوں کی عزت میں اضافہ ہوا اور غلاموں و کنیزوں نے بھی مقام حاصل کیا اور انسانوں کا احترام بلند ہوا اور انسانوں کو قدر ملی، حتیٰ کہ حیوانات کے حقوق کا بھی خیال رکھا جاتا تھا۔

عدم مساوات پر تنقید اور ایرانی عوام کے مسائل کے حل کی ضرورت
انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ “اللہ تعالیٰ کے نزدیک انصاف سب سے بڑا امتیاز اور بہترین عبادت ہے،” کہا: قدیم زمانے سے کہاوت مشہور ہے کہ ‘جو چراغ گھر کو چاہیے وہ مسجد کو حرام ہے’۔ ایسی صورتحال میں جب ایرانی عوام مشکلات کا شکار ہیں، قوم ایران کے سرمائے کو دیگر مقامات پر خرچ نہیں کیا جانا چاہیے۔ ایرانی قوم ضرورت مند ہے اور مشکلات میں ہے، لہٰذا ان کے مسائل پر توجہ دینی اور انہیں حل کرنا چاہیے۔

بنیادی آزادیوں کی اہمیت اور تشدد سے پرہیز
مولانا عبدالحمید نے آخر میں‌کہا: عدل، انصاف اور مساوات کا فروغ اور تمام بنیادی آزادیوں کا فروغ، عوام کے ساتھ حکیمانہ سلوک کرنا اور تشدد سے دوری اختیار کرنا، بہت اہم اور بنیادی ہے۔ کیونکہ تشدد اور سختی، مزید تشدد کو جنم دیتی ہے اور حکمت عملی استعمال کی جانی چاہیے۔ ہر جگہ تشدد کام نہیں آتا، بلکہ تعامل اور بات چیت زیادہ بہتر نتائج دیتی ہے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں

تازه ترین