زاہدان (سنی آن لائن) گزشتہ روز جمعہ (28 نومبر 2025ء) کو جامع مسجد مکی زاہدان میں قاری عبدالرحمن رحمہ اللہ کی قرآنی خدمات کے اعتراف میں ایک شاندار تقریب منعقد ہوئی۔
سنی آن لائن کی رپورٹ کے مطابق، اس تقریب میں علمائے کرام، قراء، طلبہ اور عام لوگوں نے شرکت کی، جہاں صدر جامعہ شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید اورمولانا ڈاکٹر عبیداللہ بادپا (ممتاز استاذ حدیث اور دارالعلوم زاہدان کے نائب مہتمم برائے ثقافتی امور) نے خطاب کیا۔ اس سے ایک دن قبل قاری عبدالرحمن مرحوم کی نماز جنازہ اسی مسجد میں ادا کی گئی تھی اور ان کی تدفین زاہدان کے مرکزی قبرستان میں گوشہ علما میں ہوئی۔
مولانا ڈاکٹر عبیداللہ: قاری عبدالرحمن نے قرآن کے ساتھ زندگی گزاری اور قرآن کے ساتھ ہی گئے / ہمیں بزرگوں کے انتقال سے سبق سیکھنا چاہیے
مولانا ڈاکٹر عبیداللہ بادپا، دارالعلوم زاہدان کےممتاز استاذ حدیث اور نائب مہتمم برائے ثقافتی امور ، نے اس نشست میں کہا: قاری عبدالرحمن نے اچھی زندگی گزاری اور خوش اسلوبی سے دنیا سے رخصت ہوئے۔ وہ اپنی سادہ زندگی اور منکسر المزاجی کے ساتھ گویا برسوں سے سفر آخرت کے لیے تیار تھے۔
انہوں نے مزید کہا: قاری عبدالرحمن رحمہ اللہ نے اچھی زندگی گزاری، کیونکہ وہ قرآن کے ساتھ جیے؛ اور اچھی موت پائی، کیونکہ ۶۳ سال کی خدمت کے بعد آخری ایام تک قرآن کے ساتھ منسلک رہے۔ ہمیں بزرگوں کے انتقال سے سبق لینا چاہیے؛ اگر ہم اہلِ قرآن ہوں گے تو اللہ ہمیں بھی قرآن کے ساتھ ہی دنیا سے لے جائے گا۔
مولانا ڈاکٹر عبیداللہ نے آخر میں علم قرائت و تجوید میں قاری عبدالرحمن کے مقام کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا: قاری عبدالرحمن رحمہ اللہ قرائت کے فن میں علاقے میں استاد کا مقام رکھتے تھے۔ قاری عبدالرحمن کی زندگی اور امام شاطبی و دیگر قرآنی بزرگوں کی زندگی میں نمایاں مشابہت پائی جاتی تھی۔ وہ زاہد اور پرہیزگار شخص تھے، نماز تہجد کے پابند تھے، کبھی شکایت یا گلہ کرنے والے نہیں تھے اور ہمیشہ ان کا چہرہ مسکراہٹ سے چمکتا تھا۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید: قاری عبدالرحمن نے اپنی پوری زندگی قرآن کے ساتھ گزاری / اب قاری عبدالرحمن ہمارے درمیان نہیں؛ ہمیں قرآن کے حفظ و نشر میں زیادہ سنجیدہ ہونا چاہیے
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے قاری عبدالرحمن رحمہ اللہ کی قرآنی خدمات کے اعتراف میں منعقدہ تقریب میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا: قاری عبدالرحمن رحمہ اللہ نے اپنی پوری زندگی قرآن کے ساتھ گزاری اور خود برسوں تک قرآن پڑھا۔ انہوں نے قرآن کی قرائت اور صحیح خوانی کی تعلیم دی اور اپنی زندگی خوف و خشیت الٰہی کے ساتھ گزاری۔ وہ اللہ کے ساتھ تھے، باوقار زندگی بسر کی اور بعض آیات کی تلاوت کے وقت روتے تھے۔
جامعہ دارالعلوم زاہدان کے صدر و شیخ الحدیث نے مزید کہا: اب ہماری ذمہ داری بہت بھاری ہے۔ قاری صاحب اب ہمارے درمیان نہیں رہے، لیکن قرآن قیامت تک باقی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ قرآن کی نشر و اشاعت کریں۔ دین اور قرآن کی تعلیم عام کریں، اور یہ بہت اہم ہے کہ معاشرے میں قرآن کی تلاوت کی جائے اور اس کا احترام برقرار رکھا جائے۔
انہوں نے کہا: ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ اسلام کا صرف نام باقی رہ جائے اور قرآن کی صرف رسم (لکھاوٹ) باقی ہو۔ صرف قرآن کی تصحیح ہی مقصد نہیں ہے، بلکہ اہم یہ ہے کہ کلام اللہ کی تلاوت خشیت اور خوف الٰہی کے ساتھ ہو۔ جب قرآن کی تلاوت کی جائے تو دل میں خدا کا خوف محسوس ہونا چاہیے۔
دارالعلوم زاہدان کے صدرنے زور دیا: ہماری زندگی خوفِ خدا سے وابستہ ہونی چاہیے۔ قرآن نے قاری عبدالرحمن اور دیگر قرآنی شخصیات جیسے قاری غلام نبی کی زندگی پر کتنا گہرا اثر ڈالا تھا! وہ عاجزی، انکساری، ہمدردی اور محنت و کوشش کے نمونے تھے۔ ہمیں بھی چاہیے کہ قرآن کی تلاوت، نشر، تجوید اور قرائت میں دن رات کی پرواہ نہ کریں۔
مولانا عبدالحمید نے آخر میں قرآن سیکھنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا: سب کو قرآن سیکھنا چاہیے۔ قرآن کا حفظ فضائل اور مستحبات میں شامل ہے اور اس کی بڑی قدر و منزلت ہے، لیکن قرآن کو روانی سے پڑھنا سیکھنا اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔ حفاظ کو چاہیے کہ وہ چلتا پھرتا قرآن بنیں اور یہ تبھی ممکن ہے جب وہ زیادہ تلاوت کریں۔
انہوں نے آخر میں کہا: قرآن اور دین، ہمارے ہاتھ میں اللہ کی امانت ہیں اور انہیں آخر تک محفوظ رکھنا چاہیے۔ یہ اہم مقصد تبھی حاصل ہو سکتا ہے جب علم اور عملِ قرآن کی نشر و اشاعت ہو۔ ہمیں چاہیے کہ علم قرآن کی بھی تعلیم دیں اور خود بھی اس پر عمل پیرا ہوں اور اس کے عمل کو بھی پھیلائیں۔ ضروری ہے کہ ہم اپنی ذمہ داری کو زیادہ سنجیدگی سے محسوس کریں اور قرآن کے حفظ و نشر میں مزید کوشش کریں۔

آپ کی رائے