ایران: اہل سنت کے مشہور قاری انتقال کر گئے

ایران: اہل سنت کے مشہور قاری انتقال کر گئے

زاہدان (سنی آن لائن) ملک کے مشہور اور بزرگ قاری، قاری عبدالرحمن بدھ کی شام (26 نومبر) کو مختصر علالت کے بعد ۹۳ سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔

سنی آن لائن کی رپورٹ کے مطابق، قاری عبدالرحمن رحمہ اللہ نے اپنی عمر کی نصف صدی سے زائد عرصہ بلوچستان کے دینی مدارس میں علم قرائت اور تجوید کی پیشہ ورانہ تعلیم کے لیے وقف کیا، چنانچہ سیستان و بلوچستان اور ملک کے دیگر صوبوں نیز پڑوسی ممالک کے بہت سے قراء اور قرآنی کارکنان ان کے شاگردوں میں شمار ہوتے ہیں۔

قاری عبدالرحمن 1932ءمیں شہر زاہدان کے مضافات میں واقع “نصرت آباد” کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔ بچپن ہی میں وہ والدہ کے پرمہر سائے سے محروم ہو گئے اور جوانی میں، دینی تعلیم کے آغاز سے قبل، ان کے والد بھی انتقال کر گئے۔

انہوں نے ابتدائی دینی تعلیم زاہدان میں روایتی انداز (حجروں) میں حاصل کی، پھر مزید تعلیم کے لیے کوئٹہ، پاکستان تشریف لے گئے اور مدرسہ “تجوید القرآن” میں قاری نور محمد، قاری غلام نبی، قاری سید عبدالستار شاہ اور قاری اسماعیل پنجابی جیسے عظیم اساتذہ سے کسب فیض کیا۔ انہوں نے ایک سال تک قاری نور محمد سے علم قرائت سیکھا اور اگلے سال روایت حفص اور پھر قرآنی قرائتِ عشرہ (دس قرائتیں) قاری غلام نبی رحمہ اللہ سے حاصل کیں اور اسی دینی مدرسے میں بطور استاد خدمات انجام دینے لگے اور ساتھ ہی نمازوں کی امامت کے فرائض بھی سنبھالے۔

مرحوم قاری عبدالرحمن ایران واپسی کے بعد چند سال تک مدرسہ دینیہ “فاروقیہ” زاہدان میں اور حالیہ برسوں میں دارالعلوم زاہدان میں شعبہ قرائت و تجوید کے سینئر استاد کی حیثیت سے تدریس میں مشغول رہے۔

نمازِ جنازہ میں ہزاروں افراد کی شرکت

ملک کے مشہور اور بزرگ قاری، قاری عبدالرحمن رحمہ اللہ کی نماز جنازہ بروز جمعرات (27 نومبر 2025ء) کو دوپہر کے وقت جامع مسجد مکی زاہدان میں ادا کی گئی۔

سنی آن لائن کی رپورٹ کے مطابق، قاری عبدالرحمن رحمہ اللہ کی نماز جنازہ میں علمائے کرام، طلبہ، دانشوروں اور سیستان و بلوچستان کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے علما کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

مرحوم قاری عبدالرحمن کی نماز جنازہ شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید کی امامت میں ادا کی گئی۔

قاری عبدالرحمن رحمہ اللہ کا جسدِ خاکی تدفین کے لیے زاہدان کے “بہشت محمد” قبرستان منتقل کیا گیا تاکہ انہیں “علماء سیکشن” میں سپرد خاک کیا جا ئے۔

مولانا عبدالحمید: قاری عبدالرحمن رحمہ اللہ “اسلاف کی یادگار” تھے؛ ان کا انتقال “بڑا سانحہ” ہے
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے قاری عبدالرحمن رحمہ اللہ کی نماز جنازہ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے فرمایا: قاری عبدالرحمن رحمہ اللہ علاقے کے ممتاز اور معمر اساتذہ میں سے تھے۔ قاری عبدالرحمن اور قاری غلام نبی رحمہما اللہ، جو قاری عبدالمالک رحمہ اللہ کے شاگرد ہیں، بین الاقوامی سطح کے بڑے قاری تھے جنہوں نے قرآن مجید کی بے پناہ خدمت کی اور ایران، پاکستان اور افغانستان میں بہت سے شاگردوں کی تربیت کی اور ان ممالک میں سلسلہ قرائت و تجوید کے فروغ میں ان کا بڑا حصہ ہے اور یہ بہت ہی مبارک سلسلہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا: صوبے اور ملک میں قرائت و تجوید کے میدان میں سرگرم عمل بہت سے علمائے کرام اور قراء، قاری عبدالرحمن رحمہ اللہ کے شاگرد ہیں۔

خطیب اہل سنت زاہدان نے کہا: قاری عبدالرحمن رحمہ اللہ اسلاف اور بزرگوں کی یادگار تھے۔ انہوں نے ۹۰ سال سے زائد عمر پائی اور اپنی پوری زندگی قرآن مجید کی تدریس میں گزار دی، اور یہ قرآن کی خدمت کی برکت ہے کہ قاری عبدالرحمن رحمہ اللہ ضعیف العمری کے باوجود عمر کے آخری حصے تک روزانہ قرآن مجید کی تدریس میں مشغول رہے۔

مولانا عبدالحمید نے اپنے خطاب کے آخر میں قاری عبدالرحمن رحمہ اللہ کے انتقال کو “بڑا سانحہ” قرار دیتے ہوئے فرمایا: قاری عبدالرحمن رحمہ اللہ کا انتقال ایک بڑا نقصان ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے معاشرے کے لیے اس نقصان کی تلافی فرمائے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں

تازه ترین