مولانا عبدالحمید:

اسلامی احکام کو سیاست اور اقتدار کے تحفظ پر قربان نہیں کرنا چاہیے

اسلامی احکام کو سیاست اور اقتدار کے تحفظ پر قربان نہیں کرنا چاہیے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ ۲۱ نومبر ۲۰۲۵ء کو زاہدان میں نماز جمعہ کے اجتماع میں اقتدار اور حکومت کے تحفظ کے لیے اسلامی احکامات کو آلہ کار کے طور پر استعمال کو مکمل طور پر غلط اور دین سے انحراف قرار دیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ سیاست دین اسلام کی ایک شاخ ہے اور اسلامی احکامات کو سیاست اور اقتدار و حکومت کو بچانے کی راہ میں قربان نہیں کیا جانا چاہیے۔

اقتدار اور حکومت کو بچانے کے لیے اسلام سے غلط فائدہ اٹھانا دین سے انحراف اور ایک چھوٹی سی اقلیت کا نظریہ ہے
سنی آن لائن کی رپورٹ کے مطابق، مولانا عبدالحمید نےاپنے تازہ ترین بیان میں کہا: حال ہی میں پارلیمنٹ کے ایک رکن نے، جو خود بھی عالم دین ہیں، کہا تھا کہ اسلامی حکومت اصل اور بنیاد ہے اور تمام احکام فروعات اور “ذرائع” ہیں؛ اگر حکومت مناسب سمجھے تو حکومت اور رجیم کے تحفظ کے لیے نماز، روزہ اور حج جیسے احکامات کو معطل کر سکتی ہے۔
زاہدان کے خطیب نے رکن پارلیمنٹ کے ان بیانات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے واضح کیا: دین کو اقتدار اور حکومت کے تحفظ کے لیے بطور آلہ استعمال کرنا بالکل غلط نظریہ، دین سے انحراف اور محض ایک اقلیت کی سوچ ہے۔ اصل محور دین ہے اور سیاست، نماز، روزہ، حج اور زکات وغیرہ کی طرح دین کی شاخوں میں سے ایک ہے۔ اس لیے ملت کے ایوان میں ایسی باتیں نہیں ہونی چاہئیں۔

دین کسی طاقت یا حکومت کا آلہ کار نہیں ہے؛ اقتدار کے تحفظ کے لیے دین کا غلط استعمال نہیں ہونا چاہیے
ایران کے ممتاز عالم دین نے مزید کہا: اسلامی احکامات کو اقتدار بچانے کا ذریعہ بنانا وہی تنقید ہے جو آج ہمارے حکام پر کی جا رہی ہے۔ کسی کو بھی اپنے اقتدار کے تحفظ کے لیے دین کا غلط استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ دین کسی طاقت، حکومت یا ریاست کا آلہ کار نہیں ہے، چاہے وہ حکومت اسلامی ہی کیوں نہ ہو۔
انہوں نے زور دیا: اقتدار اور حکومت کے تحفظ کے لیے دین کا آلہ کار کے طور پر استعمال عقل، منطق، شرعی نصوص اور روایات کے منافی ہے۔ قرآن کریم فرماتا ہے: (الَّذِينَ إِنْ مَكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ وَلِلَّهِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِ) [حج: 41] اس آیت کا خطاب حکمرانوں اور سیاست دانوں سے ہے کہ اگر ہم انہیں اقتدار دیں اور وہ سیاسی طاقت اور حکومت حاصل کریں، تو وہ نماز قائم کرتے ہیں، زکات ادا کرتے ہیں اور نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں۔
مولانا عبدالحمید نے نشاندہی کی: نماز، زکات اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر اقتدار کے ذرائع نہیں ہیں؛ بلکہ درحقیقت سیاست کو دین کی خدمت میں ہونا چاہیے تاکہ اسلامی احکامات کو نافذ کرے۔
انہوں نے مزید کہا: اللہ تعالیٰ قرآن مجید کی دیگر آیات میں تمام حکمرانوں کو مخاطب کرتا ہے کہ وہ انصاف اور عدل قائم کریں۔ (يَا دَاوُودُ إِنَّا جَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ فَاحْكُمْ بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ) [ص: 26] زمین پر خلافت الہی کے اہم ترین مقاصد میں سے ایک انصاف کا نفاذ ہے، اور انصاف اقتدار کے لیے کوئی آلہ نہیں ہے، بلکہ اقتدار وہ ذریعہ ہے جس کے ذریعے انصاف نافذ کیا جانا چاہیے۔ اگر خلافت اور حکومت ہو لیکن انصاف نہ ہو، تو یہ خلافت، خلافت نہیں ہے۔

اسلام میں سیاست کی بنیاد سچائی اور انصاف پر ہے / کسی حکمران کو احکام الہی میں تصرف کا اختیار نہیں ہے
زاہدان کے خطیب نے اسلامی سیاست کی بعض اہم خصوصیات بیان کرتے ہوئے کہا: دین اسلام میں سچی سیاست پر زور دیا گیا ہے اور اسلام میں اس کے علاوہ کسی اور سیاست کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے مزید کہا: اسلامی سیاست میں سچائی اور انصاف کے نفاذ کے سوا کچھ ممکن نہیں۔ اسلام میں سیاست اللہ تعالیٰ کے احکامات کے دائرہ کار میں ہونی چاہیے۔ کسی حکمران، کسی گروہ یا طبقے کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ الہی احکامات اور شرعی حلال و حرام کو نظر انداز کرے یا ان میں کوئی تبدیلی کرے۔

خدمت خلق اسلامی سیاست کا اہم ستون ہے / انصاف کا نفاذ عوام کی رضامندی اور حکومت کی بقا کا سبب بنتا ہے
مولانا عبدالحمید نے عوام کی خدمت کو اسلامی سیاست کی دیگر اہم خصوصیات میں شمار کرتے ہوئے کہا: اسلامی سیاست کا ایک اہم ستون عوام کی خدمت ہے؛ وہ سیاست جو عوام کے لیے ہو اور عوام کی خدمت میں ہو، دین اسلام کو مضبوط کر سکتی ہے، لیکن یہ کہ اسلامی احکامات سیاست پر قربان ہو جائیں، ایسی سیاست کا دین اسلام میں کوئی وجود نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا: حکومت تب تک اچھی ہے جب تک اس میں انصاف اور الہی احکامات صحیح طریقے سے نافذ ہوں اور عوام راضی ہوں۔ انصاف کا نفاذ عوام کی رضامندی اور امن و امان کے قیام کا سبب بنتا ہے اور اقتدار، سسٹم اور حکومت کی بقا میں بھی مدد کرتا ہے۔

یاد رہے مولانا عبدالحمید نے اپنے خطاب کے آخر میں عوام سے درخواست کی اگلے دن صبح ساڑھے سات بجے نماز استسقاء پڑھنے کے لیے سابق عیدگاہ پہنچ جائیں اور کوشش کریں صدقہ دے کر استغفار کریں۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں

تازه ترین