مولانا عبدالحمید:

ہم جنگ، لڑائی اور تشدد کے خلاف ہیں

ہم جنگ، لڑائی اور تشدد کے خلاف ہیں

خطیب اہل سنت زاہدان نے اپنے تازہ ترین بیان میں ہر قسم کے تشدد، لڑائی اور خونریزی کی مخالفت کرتے ہوئے بات چیت اور تعمیری تنقید کو اپنی راہ اور سوچ یاد کی۔

بات چیت کا نظریہ عنقریب کامیاب ہوگا
مولانا عبدالحمید نے چودہ جولائی دوہزار تئیس کو زاہدان میں ہزاروں نمازیوں سے خطاب کرتے ہوئے گزشتہ ہفتہ زاہدان میں ایک پولیس سٹیشن پر مسلح حملے کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا: تشدد اور قتل نقصان ہی نقصان ہے اور اس کے منفی اثرات ہوں گے۔
ممتاز عالم دین نے مزید کہا: جو لوگ ہمارے ساتھ رہتے ہیں یا ہمارے بارے میں بخوبی جانتے ہیں، انہیں معلوم ہے ہم قتل، خونریزی اور تشدد کے سخت مخالف ہیں۔ ہمارا طریقہ اور شیوہ بات چیت اور گفتگو ہے۔ ترقی یافتہ اور مہذب قوموں کا شیوہ یہی ہے کہ اپنے مسائل کو گفتگو، تعمیری تنقید اور مذاکرے کے ذریعے حل کرتی ہیں۔ اسی لیے ہم نے زاہدان کے خونین جمعہ میں جو انتہائی المناک حادثہ تھا، پوری کوشش کی کہ مزید خون خرابہ نہ ہوجائے اور کوئی اس واقعہ سے زاہدان اور صوبے کے امن سبوتاژ کرنے کا غلط فائدہ نہ اٹھائے۔ اسی لیے جب گولیوں کی آواز سننے میں آرہی تھی، ہم نے انٹرویو دیا اور عوام کو پرامن رہنے کی تلقین کی۔ سب خوش ہوئے اور امید کرتے ہیں اللہ بھی ہم سے راضی ہوجائے۔ ہم نے کہا قانونی طریقے سے شکایت کرکے کیس کی پیروی کریں گے تاکہ پتہ چل جائے ماجرا کیا تھا۔
انہوں نے کہا: زاہدان کے خونین جمعہ اور پھر پولیس سٹیشن پر حملے نے ہمیں حیران کردیا کہ یہ کون لوگ ہیں اور ان حملوں کا مقصد کیا ہے؟ ایک مسجد کے سامنے جہاں نماز ہی پڑھی جاتی ہے کیوں ایسی حرکتیں ہوتی ہیں جو کسی عقل و منطق سے مطابقت نہیں رکھتی ہیں؟! سب حکام اچھی طرح جانتے ہیں تشدد ہمارا راستہ نہیں ہے اور ہم پرتشدد حملوں سے ہرگز خوش نہیں ہوتے ہیں؛ جو یہ دعویٰ کرتے ہیں الزام تراشی سے کام لیتے ہیں۔
مولانا عبدالحمید نے مزید کہا: ہم سب شہریوں کے ذمہ دار نہیں؛ بہت سارے لوگ اسی علاقے میں ہماری رائے سے اختلاف کرتے ہیں اور کہتے ہیں اتنا طویل عرصہ گزرگیا اور بات چیت سے کام نہیں بنا۔ ہم اپنی سوچ دوسروں پر ٹھونسنے کے قابل نہیں ہیں ، لیکن ہماری رائے یہی ہے کہ پرامن جد وجہد سب کے مفاد میں ہے اور ایک دن یہ شیوہ نتیجہ خیز ہی ہوگا۔ وہ دن زیادہ دور نہیں اور عنقریب یہ نظریہ کامیاب ہوجائے گا۔

ہمارے لیے اسلام اور سب انسانوں کے حقوق اہم ہیں
اہل سنت ایران کی سرکردہ شخصیت نے نماز جمعہ سے پہلے اپنے معمول کے خطاب میں کہا: کچھ دوست جو مقتدر حلقوں اور حکومت میں شامل ہیں، میری تنقید سے ناراض ہیں، لیکن میرا خیال ہے جو شخص شفا حاصل کرنا چاہتاہے، اسے کڑوی دوا کھانی پڑے گی۔ میری باتیں کسی دشمن کی باتیں نہیں ہیں، یہ ایک وطن دوست خیرخواہ کی باتیں ہیں۔
انہوں نے کہا: اس سے پہلے میری زیادہ تر باتیں اور مطالبات اہل سنت کے حقوق کے بارے میں تھے، لیکن ہم نے یہ باتیں کم کرکے پوری قوم کے مسائل اور قومی مفادات کو ترجیح دینا شروع کیا ہے؛ قومی مفادات سب کے ہیں۔ ہماری راہ اعتدال ہے جو نبی کریم ﷺ، صحابہؓ اور اہل بیتؓ کا راستہ اور شیوہ ہے۔
مولانا عبدالحمید نے مزید کہا: جو مسئلہ ہمارے لیے بہت اہم ہے وہ اسلام، سب مسلمان اور انسانوں کے حقوق ہیں؛ ہماری نیک دعائیں سب مسلمانوں اور انسانوں کے لیے ہیں چاہے ان کا مذہب کچھ بھی ہو۔ ہمارے لیے شیعہ سنی اور مسلم و غیرمسلم کا فرق اہم نہیں، انسانیت، حق اور انصاف اہم ہے۔ ہم قانونی، بین الاقوامی اور مشروع آزادیوں کو اہمیت دیتے ہیں۔ ہم گناہ کی آزادی نہیں، بلکہ بیان، اظہارِ رائے اور سوچ کی آزادی چاہتے ہیں اور ان ہی آزادیوں کا دفاع کرتے ہیں۔

مسائل کا حل ہر کام کو اس کے اہل کے سپرد کرنے میں ہے
انہوں نے خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا: ہمارے ملک و ملت کے مسائل اس وقت حل ہوسکتے ہیں جب حکام تبدیلی لانے کے لیے تیار ہوجائیں۔ جب تک کام اس کے اہل اور متعلقہ ماہرین کے سپرد نہ ہوجائے، مسائل حل نہیں ہوسکتے ہیں۔ جامعات میں مختلف شعبوں کے ماہرین کی تربیت ہوتی ہے؛ اس کا مقصد یہی ہے کہ ہر کام کے ماہر اور اہل اپنا ہی کام کرے۔ فوجیوں کے جامعات مختلف ہیں اور ان کا ذہن کسی اور کام کے لیے بن جاتاہے؛ وہ اسی میدان میں کامیابی حاصل کرسکتے ہیں جس کے لیے انہیں ٹریننگ دی گئی ہے اور وہ اس کی تربیت حاصل کرچکے ہیں۔ سیاستدان سیاست کے میدان میں کامیاب ہوسکتے ہیں اور وہ سیاسی عہدوں پر فائز ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
مولانا عبدالحمید نے کہا: ہر کام کے لیے اس کا اہل تلاش کریں؛ لوگوں کی نماز اور دینداری سے زیادہ ان کی قابلیت اہم ہے۔ اگر اہلیت کے ساتھ ساتھ دیندار بھی ہو تو اچھی بات ہے، لیکن اگر وہ فرد دیندار نہ ہو لیکن قابلیت رکھتاہو، اس سے کام لینا چاہیے۔ اسے بھی نہ دیکھیں کہ وہ تمہیں مانتاہے یا نہیں؛ صرف یہ دیکھیں کہ وہ قوم کے لیے کتنا مفید ہے۔ شاید میری اس بات سے کچھ لوگ خفا ہوجائیں، لیکن میرا خیال ہے کہ فوجی حضرات عسکری اور فوجی کاموں میں لگ جائیں۔ علما اپنے کاموں میں مشغول ہوجائیں جو تدریس و فتوا و۔۔۔ ہے۔ ہر شخص اپنے اپنے شعبے میں کام کرے، تب کام بنے گا۔

دارالعلوم زاہدان کے خلاف ہونے والے پروپیگنڈا الزام تراشی ہے
خطیب اہل سنت زاہدان نے اپنے بیان کے ایک حصے میں کہا: دارالعلوم زاہدان کا طریقہ جو علامہ مولانا عبدالعزیزؒ کی یادگار ہے، اعتدال اور میانہ روی ہے۔ علامہ مولانا عبدالعزیز عالم اسلام کی ممتاز شخصیت اور ایک مفکر و عاقل انسان تھے۔ دارالعلوم زاہدان کی بنیاد اس اصل پر رکھی گئی ہے کہ یہاں پوری انسانیت کے لیے سوچا جائے۔ ہم نے بارہا کہا ہے دارالعلوم زاہدان صرف اہل سنت کے لیے نہیں ہے، بلکہ یہ سب مسلمانوں اور حتیٰ کہ غیرمسلموں کے لیے بھی ہے۔ یہاں درست سوچ کی تلاش ہوتی ہے۔
انہوں نے واضح کیا: ہمارے بیانات ریکارڈ پر ہیں کہ ہم نے ہر قسم کی انتہاپسندی کی مخالفت کی ہے۔ طلبا کو نصیحت کی ہے کہ وہ سیاسی مسائل سے دور رہیں اور اپنے اسباق میں لگ جائیں۔ کوئی مظاہرہ اگر ہوا ہے، اس میں صرف عام شہری شریک ہوئے ہیں۔
صدر جامعہ دارالعلوم زاہدان نے کہا: ہمارے فضلا جس علاقہ اور ملک میں ہیں چاہے افغانستان ہو یا تاجکستان یا روس میں، انہوں نے کسی بھی شخص کے لیے مسئلہ نہیں بنایاہے۔ وہ بھی اعتدال کی راہ پر گامزن رہے ہیں۔ انہوں نے انتہاپسندوں کو ساتھ نہیں دیاہے، البتہ ہوسکتاہے کوئی غصیلا ہو اور کسی شدت پسند گروہ کے ساتھ ہوجائے، لیکن ایسے لوگ بہت تھوڑے رہے ہیں۔ لہذا جو کچھ دارالعلوم زاہدان کے خلاف بتایاجارہاہے، سب الزام ہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: اس شہر میں مختلف برادریوں کے لوگ آپس میں بھائی بھائی بن کر رہتے ہیں اور ہم نے بارہا اعلان کیا ہے کہ ہم راضی نہیں ہیں کسی شخص کی ناک سے خون نکل آئے۔ اگر کسی کی عزت پر دست درازی ہوجائے، ہمیں اتنی تکلیف ہوتی ہے کہ اس کو ہم اپنی موت سمجھتے ہیں۔ اگر کسی غیرمسلم سے کوئی سامان چرایا گیاہے، ہم نے لوگوں کو پہاڑوں میں بھیجائے کہ اس چیز کو تلاش کرکے لے آئیں۔ اگر کسی کو اغوا کیاگیاہے، ہم نے عوام سے درخواست کی ہے کہ انہیں چھڑوانے کے لیے محنت کریں۔
مولانا عبدالحمید نے کہا: ہمارے خیال میں ملک کا امن محفوظ رہنا چاہیے اور بات چیت، گفتگو اور تنقید کا راستہ ہرگز بند نہیں ہونا چاہیے۔ ہم کسی کے نقصان نہیں چاہتے ہیں اور سب کی بھلائی کے لیے سوچتے ہیں۔ امید ہے عوام کے معاشی مسائل حل ہوجائیں اور سب کی رنجشیں جس سطح پر ہوں ، ختم ہوجائیں۔
ممتاز عالم دین نے اپنے خطاب کے آخر میں کہا: سب مسالک اپنی تقریبات میں آزاد ہیں اور شیعہ برادری کے افراد جس ملک میں بھی ہوں، انہیں اپنی مذہبی تقریبات منعقد کرنے کی آزادی حاصل ہونی چاہیے تاکہ مکمل سکیورٹی اور امن کی فضا میں اپنے عقائد کے مطابق عمل کریں۔اندرون و بیرون ملک اہل تشیع کو محرم میں مجلس عزا قائم کرنے میں سکیورٹی فراہم ہونی چاہیے تاکہ وہ امن و سکون سے اپنی اپنی تقریبات منعقد کرائیں۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں