دارالعلوم زاہدان کے استاذ اور فضلائے جامعہ کے ذمہ دار انتقال کرگئے

دارالعلوم زاہدان کے استاذ اور فضلائے جامعہ کے ذمہ دار انتقال کرگئے

زاہدان (سنی آن لائن) جامعہ دارالعلوم زاہدان (ایران) کے استاذ اور فضلائے جامعہ کے امور کے ذمہ دار مولانا فقیرمحمد نوتانی دل کا دورہ پڑنے سے سنیچر یکم جولائی کو اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے، انا للہ و انا الیہ راجعون۔

مولانا فقیرمحمد نوتانی جامعہ دارالعلوم زاہدان کے استاذ، امور فضلائے جامعہ کے ذمہ دار اور تبلیغی جماعت سے وابستہ تھے۔ اس سے ایک دن قبل ہی ان کے والد وفات پاچکے تھے۔

مولانا فقیرمحمد 1972ء کو زاہدان کے معروف قصبہ چمگ (چشمہ زیارت) میں ایک دیندار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے 1985ء میں جامعہ دارالعلوم زاہدان میں اپنے علمی سفر کا آغاز کیا اور 1993ء میں اسی جامعہ سے دورہ حدیث مکمل کیا۔ انہوں نے بیس سال دارالعلوم زاہدان کے صدیقی پبلیکیشن کے انچارج کی حیثیت سے خدمات سرانجام دی۔ اس عرصے میں مختلف دینی و علمی کتابیں فارسی زبان میں شائع کرانے میں انہوں نے کردار ادا کیا۔کچھ عرصہ جامع مسجد الخلیل زاہدان میں خطیب بھی رہے۔

جب جامعہ دارالعلوم زاہدان نے اپنے فضلا سے ربط و تعلق کو منظم کرنے کا ارادہ کیا، تو اس کام کی ذمہ داری مولانا فقیر محمد کے سپرد ہوئی جو ایران کے مختلف علاقوں سے بخوبی واقف تھے اور دعوت و تبلیغ کے سلسلے میں وہاں ہر سال باربار سفر کرتے تھے۔

مولانا فقیر محمد نوتانی کی نماز جنازہ جامع مسجد مکی کے احاطے میں شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید کی امامت میں ادا کی گئی۔ نماز سے پہلے صدر جامعہ مولانا عبدالحمید نے اپنے ممتاز شاگرد کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے انہیں ایک قابل، سرگرم اور خیرخواہ انسان یاد کیا۔

مولانا فقیر محمد کی تدفین ان کے آبائی گاؤں کے قبرستان میں ہوئی جہاں مولانا مفتی محمدقاسم قاسمی اور مولانا عبدالغنی بدری نے حاضرین سے خطاب کیا۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں

تازه ترین