سیلاب اور آئی ایم ایف پروگرام کے باوجود پاکستان میں بیرونی فنانسنگ کیوں نہیں آ رہی؟

سیلاب اور آئی ایم ایف پروگرام کے باوجود پاکستان میں بیرونی فنانسنگ کیوں نہیں آ رہی؟

’پاکستان میں 2010 کے سیلاب کے بعد 60 ممالک اور عالمی اداروں کی جانب سے امداد آئی تھی جس میں امریکہ کی جانب سے دی گئی 60 کروڑ ڈالر کی امداد بھی شامل تھی۔ تاہم موجودہ سیلاب کے بعد سے اب تک صرف 12 ملکوں اور بین الاقوامی اداروں کی جانب سے امداد کا اعلان کیا ہے جس میں امریکہ کی جانب سے دی گئی پانچ کروڑ ڈالر کی امداد بھی شامل ہے۔‘
یہ کہنا ہے ڈاکٹر فرخ سلیم کا جو پاکستان میں 2010 کے سیلاب کی تباہ کاریوں کا جائزہ اور اس کی وجہ سے ہونے والے معاشی نقصانات کے لیے عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے رپورٹ مرتب کرنے والی ٹیم کے رُکن تھے۔
ڈاکٹر فرخ سلیم 2010 کے سیلاب اور موجودہ سیلاب کی بعد عالمی امداد کے بارے میں کہتے ہیں کہ 2010 کے سیلاب کی وجہ سے نو سے دس ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہوا تھا جس میں سیلاب کی وجہ سے براہ راست ہونے والے نقصان کے ساتھ دیگر شعبوں کو پہنچنے والا بلواسطہ نقصان بھی تھا جبکہ موجودہ سیلاب کے نقصان کا ابتدائی تخمینہ 20 ارب ڈالر سے زائد بتایا جا رہا ہے۔
پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں کی وجہ سے ناصرف لوگوں کے گھر بار تباہ ہوئے ہیں بلکہ انھیں پہنچنے والے معاشی نقصان کے ساتھ ملک کی مجموعی معاشی صورتحال پر بھی گہرے منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
زرعی شعبے کو پہنچنے والے نقصان کی وجہ سے ملک کی مجموعی اقتصادی شرح نمو بجٹ کے ہدف سے نیچے رہنے کے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
ایسے وقت میں جب پاکستان کو سیلاب کی وجہ سے پہنچنے والے بے تحاشا معاشی نقصان کا سامنا ہے ملک کے وزیر اعظم شہباز شریف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان کے دوست ممالک نے ’ہمیں ہمیشہ پیسے مانگنے والا ملک‘ سمجھ لیا ہے۔ انھوں نے کہا ’جب بھی ہم کسی ملک کے دورے پر جاتے ہیں یا کسی کو فون کرتے ہیں تو وہ سمجھتے ہیں کہ ہم پیسے مانگیں گے۔‘
وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے دیے جانے والے بیان کے بعد سیاسی حریفوں کی جانب سے اُن پر طنز کے وار جاری ہیں تاہم معروضی حالات بتاتے ہیں کہ پاکستان کو فی الحال کہیں سے کوئی فنڈنگ نہیں مل پا رہی۔
گذشتہ مہینے کے آخر میں آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کو ایک ارب ڈالر سے زائد ملنے والی قرض کی قسط کے باوجود پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں کی جانب سے اب تک کوئی فنانسنگ نہیں ہو سکی ہے جبکہ دوست ممالک نے بھی ابھی تک پاکستان کو کوئی رقم فراہم نہیں کی۔

پاکستان کو ماضی اور حال میں ملنے والی امداد؟
پاکستان کی 75 سالہ تاریخ میں ملک کو بہت ساری قدرتی آفات اور ہنگامی حالات کا سامنا رہا ہے۔
گذشتہ 12 برسوں کے دوران پاکستان کو تین بڑی آفتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ سنہ 2010 میں پاکستان کے ایک بڑے حصے کو سیلاب کی تباہ کاریوں نے متاثر کیا جس سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو بیرونی دنیا سے خطیر امداد ملی۔
اقوام متحدہ کے انسانی امور کے رابطہ آفس یعنی ’یو این او سی ایچ اے‘ کی پاکستان میں سیلاب 2010 کی تباہ کاریوں پر جاری رپورٹ اور اس کی فنانشل ٹریکنگ سروس کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کے لیے 2.6 ارب ڈالر کی رقم اکٹھی کی گئی تھی جس میں سے زیادہ حصہ یعنی 26 فیصد امریکہ کی جانب سے ڈالا گیا تھا۔
اداروں اور افراد کی جانب سے دی جانے والی امداد کا حصہ 13.5 فیصد تھا اور جاپان کی جانب ڈالا جانے والا حصہ 11 فیصد تھا۔
پاکستان اُس وقت بھی آئی ایم ایف پروگرام میں شامل تھا اور اس ادارے کی جانب سے پاکستان کو 0.7 فیصد بجٹ خسارہ بڑھانے کی اجازت ملی تاکہ متاثرین سیلاب کی مدد کے لیے زیادہ حکومتی فنڈ مختص کیے جا سکیں۔
سنہ 2019 میں جب دنیا کے دوسرے ممالک کی طرح کورونا وائرس نے پاکستان کا رُخ کیا اور اس کی روک تھام کے لیے حکومت کو لاک ڈاؤن، سمارٹ لاک ڈاؤن اور پابندیاں عائد کرنا پڑیں تو اس سے معیشت کو نقصان ہوا۔
پاکستان کو کورونا وائرس کے منفی اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے عالمی اداروں کی جانب سے امداد ملی۔ کورونا وائرس کے دوران بھی پاکستان آئی ایم ایف پروگرام کا حصہ تھا اور اسے عالمی ادارے کی جانب سے 1.4 ارب ڈالر کی امداد ملی۔
اس ضمن میں عالمی بنک کی جانب سے پندرہ کروڑ ڈالر کی امداد بھی ملی تاکہ پاکستان ویکسین کی خریداری کر سکے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے 50 کروڑ ڈالر کا قرضہ پاکستان کو کورونا ویکسین کی خریداری لے لیے ملا۔
اقتصادی امور کی وزارت کے مطابق پاکستان کو قرضہ دینے والے ممالک جن میں پیرس کلب کے رکن ممالک بھی شامل ہیں کی جانب سے 1.7 ارب ڈالر قرضہ ری شیڈول کرنے کی سہولت حاصل ہوئی۔
موجودہ سیلاب کی وجہ ہونے والی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ کی جانب سے سولہ کروڑ ڈالر سے زائد کی اپیل کی گئی ہے۔ امریکہ کی جانب سے فی الحال تین کروڑ ڈالر کی امداد کا اعلان کیا گیا ہے جب کہ یو ایس ایڈ ایجنسی کی جانب سے دو کروڑ سے زائد کی امداد کا اعلان کیا گیا ہے۔
ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے تیس لاکھ ڈالر کی گرانٹ کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ عالمی بینک کی جانب سے پاکستان کے لیے پہلے سے اعلان کردہ تیس کروڑ ڈالر کو سیلاب متاثرین کے لیے مختص کرنے کا اعلان کیا گیا ہے تاہم ابھی عالمی بینک کی جانب سے بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ کون سا فنڈ ہے۔
ایک جانب پاکستان سیلاب کی تباہ کاریوں سے نبرد آزما ہے اور اس کی وجہ سے معاشی نقصان کا سامنا کر رہا ہے تو دوسری جانب آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی کے بعد بھی پاکستان کے لیے دوسرے عالمی ادروں کی جانب سے اب تک فنڈز ریلیز نہیں کیے جا سکے۔
ایشیائی ترقیاتی بینک اور عالمی بینک کی جانب سے ابھی تک کوئی فنڈز جاری نہیں کیے گئے اور نہ ہی مشرق وسطیٰ کے دوست ممالک کی جانب سے کوئی رقم پاکستان کو فراہم کی گئی جس کی وجہ سے پاکستان کو اس وقت ڈالر کی قلت کا سامنا ہے اور یہ پاکستانی روپے کے مقابلے میں دوبارہ بلند سطح پر موجود ہے۔

پاکستان کو بیرونی فنانسنگ کیوں نہیں حاصل ہو رہی؟
معاشی امور کے سینیئر صحافی شہباز رانا کہتے ہیں کہ اس کی دو بڑی وجوہات ہیں۔
انھوں نے کہا مغربی ممالک اور عالمی مالیاتی اداروں کی زیادہ توجہ یوکرین کی طرف ہے اور وہاں زیادہ فنانسنگ کی جا رہی ہے جس کی وجہ سے اُن کی بیلنس شیٹس بڑھ گئی ہیں اور وہ کسی اور جگہ فنڈنگ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ ڈونر ممالک اور اداروں کا پاکستان کے بارے میں یہ عمومی تاثر یہ ہے کہ پاکستان امداد لینے کا عادی ہو چکا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بیرونی اور عالمی اداروں کی فانسنگ اور امداد کی ایک حد ہوتی ہے اور اس ضمن میں مختص تمام تر رقم پاکستان کو نہیں دی جا سکتی ہے۔
دوسری وجہ کے بارے میں بات کرتے ہوئے شہباز رانا کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جانب سے ابھی تک سیلاب کی وجہ سے ہونے والے معاشی نقصان کا کوئی مستند سروے نہیں کیا گیا ہے، کبھی 12 ارب ڈالر تو کبھی 18 ارب ڈالر اور اب 40 ارب ڈالرز کے نقصان کی بات ہو رہی ہے جس کی وجہ سے ان نمبرز کی ساکھ نہیں رہی اور کوئی قابل ذکر فنڈنگ نہیں مل رہی۔
آئی ایم ایف پروگرام کے بعد دوست ممالک سے پیسے نہ ملنے کی وجہ پر تبصرہ کرتے ہوئے رانا نے کہا کہ ان ممالک نے کیش دینے کا وعدہ نہیں کیا تھا بلکہ انھوں نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے کہا تھا جس میں وقت لگے گا۔
انھوں نے کہا کہ کیش نہ دینے کی وجہ پاکستان کا ٹریک ریکارڈ ہے جس کی وجہ سے یہ ممالک کیش نہیں دے رہے۔
فرخ سلیم نے بتایا کہ فنانسنگ نہ آنے کی ایک وجہ تو ڈونرز کا شاید اُکتا جانا ہے کہ پاکستان بار بار پیسے مانگنے آ جاتا ہے تو دوسری جانب یہ بات بھی حقیقت ہے کہ ترقی یافتہ ڈونر ممالک یوکرین کی مالی امداد میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔
وزیر مملکت برائے خزانہ ڈاکٹر عائشہ پاشا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم چاہتے ہیں کہ پاکستان معاشی طور پر خود کفیل ہو تاکہ ہمیں بار بار بیرونی اداروں سے اُدھار اور دوست ممالک سے اُدھار نہ لینا پڑے۔
انھوں نے کہا اس کے لیے سخت اصلاحات کرنی ہوں گی تاکہ ہر مشکل وقت میں پاکستان کو بار بار عالمی اداروں اور دوستوں کے پاس نہ جانا پڑے۔

پاکستان کو مستقبل قریب میں کوئی فنانسگ مل سکتی ہے؟
پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کی قسط جاری ہونے کے باوجود بیرونی فنانسنگ نہ آنے اور اس کے مستقل قریب میں آنے کے بارے میں ڈاکٹر عائشہ نے کہا بیرونی فنانسنگ جلد پاکستان آئے گی۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک، عالمی بینک اور ایشیا انفراسٹرکچر ترقیاتی بینک کی جانب سے پاکستان میں جلد فنانسنگ موصول ہو گی۔
انھوں نے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ افراد اور معیشت کے لیے پاکستان نے اپیل لانچ کی ہے اور اس کا رسپانس بھی آ رہا ہے۔ انھوں نے اس بات کی تصدیق کی دنیا میں یوکرین جنگ کی وجہ سے مسائل بڑھے ہیں اور پھر اس کے بعد عالمی مہنگائی نے بھی پاکستان جیسے ممالک کے لیے بیرونی فنانسگ میں مشکلات پیدا کی ہیں۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں