نگاہ مرد مومن

نگاہ مرد مومن

حضرت نورمحمد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
‘‘جب سیداحمد شہید ہفتے میں ایک دن جنگل میں سیر کے لیے تشریف لے جاتے تو بڑے بڑے لوگ یہ حسرت کرتے تھے کہ ہمیں بھی سید صاحب کے ساتھ جانے کا موقع مل جائے۔ ایک روز یہ موقع ملا اور مین سیدصاحب کے ساتھ چل پڑا۔
سیدصاحب گھورے پر تشریف فرماتے۔ خانم بازار دہلی سے گزرے۔ اس گلی میں ایک مشہور طوائف کا مکان تھا۔ وہ نہایت حسین اور پڑھی لکھی تھی۔ اِس گلی میں معمولی آدمی کا گزر بھی ناممکن تھا۔ گلی میں اس کی بڑی سی حویلی تھی، جس پر بڑے بڑے شہزادے اور امیرزادے حاضر ہوا کرتے تھے۔ جب سید احمد شہید اس کے مکان سے گزرے تو حسنِ اتفاق سے وہ اپنے دروازے پر زرق و برق لباس میں ملبوس کھڑی تھی۔
سید صاحب نے اس کی طرف ایک نظر اٹھائی۔ وہ چیخ پڑی اور سید صاحب کے گھوڑے کے پیچھے دوڑ پڑی۔ ساتھ ساتھ آواز لگارہی تھی:
‘‘اے شہ سوار! خدا کے واسطے ذرا گھوڑا روک لے۔’’
آپ نے گھوڑا روک لیا تو وہ بے تحاشا گھوڑے کے اگلے دونوں پیروں کو لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
سید صاحب بار بار فرماتے تھے کہ بی بی! سن تو سہی، بات تو بتلا کہ تو کون ہے اور کیوں روتی ہے؟ گھوڑے کے پاؤں چھوڑ دے اور اپنا مطلب بتا۔
وہ مگر برابر روتی رہی۔ گھوڑے کے پاؤں پکڑے ہوئے تھے۔ جب اسے رونے سے افاقہ ہوا تو اس نے کہا کہ جی میں توبہ کرنا چاہتی ہوں اور کچھ نہیں چاہتی۔
سید صاحب نے پوچھا کہ اِس وقت تمھارے مکان میں مرد ہیں؟
اس نے کہا: جی ہاں۔
سید صاحب نے فرمایا: ‘‘توبہ کے بعد نکاح کرے گی؟’’
اس نے اقرار کیا اور عرض کیا کہ آپ جو فرمائیں گے، وہ کروں گی۔
اس وقت اس کے گھر میں کل 10 آدمی تھے۔ فرمایا سب کو بلاؤ۔ سب آگئے اور جس شان سے یہ عورت آئی تھی، اسی شان سے یہ بھی آئے اور رو رو کر سب تائب ہوگئے۔
اب سید صاحب نے فرمایا: ‘‘آپ سب اکبری مسجد چلیں، میں آتا ہوں۔’’
تھوڑی دیر بعد سید صاحب مسجد پہنچ گئے اور اُن نو میں سے ایک کے ساتھ اس کی نکاح کردیا۔ پھر سید صاحب نے پوچھا: ‘‘بی بی! اب کہاں جاؤ گی؟’’
کہنے لگی: ‘‘خاوند کے ساتھ اُن کے گھر جاؤں گی۔’’
کسی نے کہا کہ اپنے بنگلے پر نہیں جاؤ گی؟
اس نے کہا: ‘‘اس بنگلے پر میں لعنت بھیجتی ہوں۔ گناہ کے کار و بار سے بنایا تھا، اب اس سے نفرت ہو رہی ہے۔’’
راوی کہتے ہیں کہ یہ عورت اپنے خاوند کے ساتھ بالاکوٹ جہاد میں بھی گئی۔ اکبری مسجد میں جو نو مرد تائب ہو کر سید صاحب سے بیعت ہوئے تھے، وہ سب شہید ہوگئے۔ یہ خاتون خود مجاہدین کے گھوڑوں کی خدمت کرتی، چارہ بناتی۔ کام کر کر کے اُس کے ہاتھوں پر نشان پڑگئے تھے۔ کسی نے از راہ تعجب پوچھا کہ جب آپ کی خدمت کے لیے شہزادے موجود ہوتے تھے، اس وقت آپ زیادہ خوش تھیں یا اب اس حالت میں خوش ہیں؟
وہ مسکرائیں اور فرمایا: ‘‘سامنے جو پہاڑی ہے، خدا کی قسم! اب الحمدللہ میرے پاس ایمان و یقین اتنا زیادہ ہے کہ اگر اُس پہاڑی پر رکھ دوں تو یہ پہاڑی میرے ایمان و یقین کے بوجھ کو اٹھا نہیں سکے گی۔ الحمدللہ! اب سکون ہی سکون ہے، پہلے تو میں مصیبت میں تھی۔ (از یادگار ملاقاتیں)
غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں
جو ہو ذوق یقین پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں
کوئی اندازہ کرسکتا ہے اُس کے زور بازو کا
نگاہ مرد مؤمن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں