طاقتور مؤمن

طاقتور مؤمن

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: طاقتور مؤمن کمزور مؤمن سے بہتر ہے، (صحیح مسلم، حدیث نمبر: ۲۶۶۴) عام طور پر ہمارے معاشرہ میں جب طاقت کا ذکر کیا جاتا ہے تو لوگ اِس سے جسمانی طاقت مراد لیتے ہیں؛ لیکن اگر غور کیا جائے تو اِس کا مفہوم اپنے اندر بڑی وسعت رکھتا ہے، طاقت ایک وصف ہے اورانسان کی مختلف صلاحیتیں اِس وصف کی حامل ہو سکتی ہیں، مثلاً طاقت اخلاق و کردار کی بھی ہوتی ہے اور بعض دفعہ اخلاق و کردار کی طاقت سے وہ کام لیا جاتا ہے جو ہاتھ پائوں کی طاقت سے نہیں لیا جاسکتا، جسمانی طاقت سے تو زر وزمین کو فتح کیا جا سکتاہے؛ لیکن اخلاق کی طاقت سے انسان کے دل جیتے جاتے ہیں، اسی طرح طاقت دولت و ثروت کی بھی ہوتی ہے، ایک جسمانی اعتبار سے کمزور شخص بھی مال و دولت کے ذریعے بڑے بڑے معرکوں کو جیت سکتا ہے، ایک بہت بڑی طاقت وہ ہے جو سیاست کے ذریعے حاصل ہوتی ہے، سیاسی طاقت کے ذریعہ افراد اور قومیں ملک و قوم کی تقدیر کی مالک ہو جاتی ہیں، طاقت علم، ٹکنالوجی اور زبان و قلم کی بھی ہوتی ہے، ایک صاحب علم شخص اگرچہ کہ و ہ نحیف الجثہ ہو؛ لیکن وہ اچھے خاصے ڈیل ڈول والے انسان پر بھی تفوّق حاصل کر لیتا ہے، یہی سب سے بڑی طاقت ہے، ایک صاحب علم شخص ایک ہزار نا تعلیم یافتہ افراد پر بھاری ہوتا ہے، ایک ایسی قوم جو علم و فن سے بہرہ ور ہو اگر چہ وہ تعداد کے اعتبار سے چھوٹی اقلیت ہو؛ لیکن وہ ایسی قوموں پر بھاری ہو جاتی ہے، جو تعداد کی کثرت کے اعتبار سے ریگستان کے ذرّات سے بھی بڑھی ہوئی ہو؛ مگر علم سے تہی دست اور فکر و نظرکے سرمایہ سے تہی دامن ہو، دنیا میں اِس کی بہت سی مثالیں ہیں، جن کو سَر کی آنکھوں سے دیکھا جا سکتا ہے اور جن کے کارنامے تاریخ کے صفحات پر اپنی عظمت کے نقوش ثبت کیے ہوئے ہیں ۔
ابھی کل کی بات ہے کہ ہم برطانیہ کے غلام تھے، جو انگریز برطانیہ سے ہندوستان آئے، ہندوستان کے اصل باشندوں کے مقابلے میں اُن کی تعداد اتنی کم تھی کہ شاید آٹے میں نمک کا تناسب بھی اُس سے زیادہ ہوتا؛ لیکن یہ وہ دور تھا جب مشرق سے مغرب تک برطانیہ کے اقتدار کا آفتاب عالم تاب روشن تھا، کہا جاتا ہے کہ انگریزوں کی سلطنت میں سورج کے غروب ہونے کی نوبت نہیں آتی تھی، اگر مغرب میں امریکہ اور کینیڈا تک برطانیہ نے حکومت کی ہے تو مشرق میں مشرق بعید کے ممالک بھی اُس کی غلامی کے زیر سایہ زندگی بسر کرتے رہے ہیں؛ حالاںکہ برطانیہ کے باشندے نہ صرف تعداد کے اعتبار سے بہت کم تھے؛ بلکہ اصل مملکت برطانیہ کا رقبہ بھی اتنا محدود تھا کہ ہندوستان کا چھوٹے سے چھوٹا صوبہ بھی اپنے رقبے میں اُس سے بڑھا ہوا ہوگا، مجھے جب برطانیہ جانے کا موقع ملا تو معلوم ہوا کہ برطانیہ کے ایک طرف سے دوسرے طرف کا فاصلہ صرف چھ سو میل یا اُس سے کچھ زیادہ ہے، یہ کس طاقت کا اثر تھا؟ یہ جسمانی طاقت یا عددی طاقت کا نتیجہ نہیں تھا، یہ علم اور ٹکنالوجی کی طاقت کا نتیجہ تھا، خود جاپان کو دیکھئے کہ ایک چھوٹا سا اور چند جزیروں پر مشتمل ملک ہے؛ لیکن اُس کی ٹکنالوجی کی طاقت کا کرشمہ ہے کہ پوری دنیا اُس کے سامنے سَر جُھکاتی ہے، اگر ایک ہی شئے جاپان کی بنائی ہوئی ہو اور کسی دوسرے ملک کی بھی، تو خریدار تفصیلات معلوم کئے بغیر بلا تکلف خیال کرتا ہے کہ جاپان کی بنائی ہوئی شئے مہنگی تو ہو سکتی ہے؛ لیکن معیار کے اعتبار سے وہی فائق ہوگی، یہ علم اور ٹکنالوجی کی طاقت کا اثر ہے ۔
اگر اِس پس منظر میں رسول اللہ ﷺ کے ارشاد کو سمجھا جائے تو مؤمن کے قوی ہونے کا مفہوم بہت وسیع ہو جاتا ہے اور اس وسعت میں یہ بات شامل ہے کہ جو مؤمن علم کی طاقت سے آراستہ ہو، اور تعلیم یافتہ ہو، وہ ایسے مسلمان سے بہتر ہے جس نے جہالت پر قناعت کر رکھا ہو، جو علم کی روشنی سے محروم ہو، غالباً اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ایسے مؤمن کو پسند فرماتے ہیں جو حرفت سے واقف ہو اورٹکنالوجی سے آگاہ ہو: ’’ان اﷲ یحب المؤمن المحترف‘‘ (المعجم الاوسط، حدیث نمبر: ۸۹۳۴) کیوںکہ جو قوم علوم و فنون کی حامل ہوتی ہے، جو قوم صنعت و ٹکنالوجی کی دولت رکھتی ہے، جس قوم کے پاس فکر و فن کا سرمایہ ہو تاہے، وہ دوسروں کو دینے کی صلاحیت رکھتی ہے، اُس کے پاس لینے والا ہاتھ نہیں ہوتا؛ بلکہ دینے والا ہاتھ ہوتا ہے، دنیا کو اُس کی ضرورت ہوتی ہے، وہ اپنی صلاحیت کے ذریعے سربلندی وسرفرازی حاصل کرتی ہے، یہودیوں کی تعداد کتنی کم ہے؟ امریکہ جیسے ملک میں اُن کی تعداد پانچ فیصد سے بھی کم ہے؛ لیکن ذرائع ابلاغ جیسا مؤثر وسیلہ پوری طرح اُن کے ہاتھوں میں ہے، بینکنگ کا نظام صد فیصد اُن کی گرفت میں ہے، اسی لئے کسی امریکی صدر کی مجال نہیں کہ وہ یہودیوں پر کُھل کر تنقید کر ے اور جن لوگوں نے دبے لفظوں میں تنقید کی، اُن کو ناکوں چنے چبوا دیئے گئے، یہ سب تعلیم کا کرشمہ ہے؛ اسی لئے ہم دیکھتے ہیں کہ نوبل انعام پانے والوں میں اکثریت یہودیوں کی ہے، خود ہم اپنے ملک میں برہمنوں کو دیکھ سکتے ہیں، برہمنوں کی تعداد تین چار فیصد سے زیادہ نہیں؛ لیکن عملاً پورے ملک کا اقتدار اُن کے ہاتھوں میں ہے، وہی سیاسی طالع آزمائوں کی جیت و ہار کا فیصلہ کر تے ہیں اور ملک کی داخلہ و خارجہ پالیسی مرتب کرتے ہیں، یہ نتیجہ ہے اُن کی تعلیمی جد و جہد اور اِس میدان میں انتھک کوششوں کا، اس کا اثر ہے کہ ملک کے ساٹھ فیصد سے زیادہ کلیدی عہدوں پر برہمن یاہندوستان کی اونچی ذاتوں کے لوگ مسلط ہیں، اِس لئے ہمیں ایک ایسی اُمت بننا چاہئے جو علم کے زیور سے آراستہ اورصنعت و ٹکنالوجی کی صلاحیت سے مالا مال ہو؛ تاکہ ہمارا ہاتھ اونچا ہاتھ رہے، ہم اِس لائق ہوں کہ ملک کو کچھ دے سکیں، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: اونچا ہاتھ نیچے ہاتھ سے بہتر ہے: الید العلیا خیر من الید السفلٰی (صحیح بخاری، حدیث نمبر: ۱۴۷۲) یعنی جو فرددینے والا ہاتھ رکھتا ہو وہ اُس فرد سے بہتر ہے جس کے پاس صرف لینے والا ہاتھ ہو، جس قوم کے پاس لوگوں کو دینے کی صلاحیت ہو، وہ اُس قوم سے بہتر ہے جس کے ہاتھ میں کاسۂ گدائی ہو اور وہ دوسری قوموں سے پیسوں کی، عزت و وقار کی، ملازمتوں کی، معاشی مدد کی اور سیاسی عہدوں کی بھیک مانگتی رہے ۔
ایک موقع پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: اے پیغمبر! آپ فرما دیجئے کہ جو لوگ علم رکھتے ہیں اور جو لوگ علم سے محروم ہیں کیا وہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟ نصیحت و عبرت تو وہی حاصل کرتے ہیں جو عقل والے ہوں: قُلْ ھَلْ یَسْتَوِیْ الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَالَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ اِنَّمَا یَتَذَکَّرُ اُوْلُوْا الْاَ لْبَابِ (الزمر: ۹) یہ آیت اگرچہ ایک خاص پس منظر میں نازل ہوئی ہے؛ لیکن اس میں دو باتوں کی طرف واضح اشارہ موجود ہے، ایک یہ کہ علم والے اور بے علم، تعلیم یافتہ اور جاہل دونوں برابر نہیں ہیں، دوسرے یہ کہ وقت اور حالات کا تجزیہ کرنا، اُس سے عبرت و نصیحت حاصل کرنا یہ اُن ہی لوگوں کا کام ہے جو عقل و فہم رکھتے ہوں اور جنھوں نے علمی کاوشوں کے ذریعے اپنی فہم و بصیرت میں اضافہ کیا ہو، یہ اہل علم اور علم سے محروم لوگوں کے درمیان نا برابری صرف آخرت میں ہی ظاہر نہیں ہوگی؛ بلکہ دنیا میں بھی شب و روز اِس کی مثالیں ہمارے سامنے آتی رہتی ہیں، تعلیم یافتہ اور غیر تعلیم یافتہ لوگوں کے درمیان ہر میدان میں فرق پایا جاتا ہے، ایک تعلیم یافتہ قوم سیاسی نظام میں جو حصہ داری حاصل کر سکتی ہے، علم سے تہی دامن قوم کبھی وہ اثر و رسوخ حاصل نہیں کر سکتی، جو گروہ علم سے آراستہ ہو و ہ میدانِ جنگ میں علم سے محروم قوم کو شکست دے سکتا ہے، وہ معیشت کے میدان میں بھی عزت وسربلندی حاصل کرتا ہے، اور جو قومیں علم سے محروم ہوتی ہیں، ذلت و رسوائی، غربت و افلاس اورپسماندگی اُن کا مقدر بن جاتا ہے، جو گروہ تعلیم یافتہ اور صاحب علم ہوتا ہے، وہ حکومت کے کلیدی اور اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوتا ہے، اُس کی ہر بات کان لگا لگا کر سُنی جاتی ہے، اور جو گروہ جہالت کے دلدل میں پھنسا ہوا ہو وہ چیخ چیخ کر اپنی مظلومیت کا رونا روئے تب بھی نہ کسی کی آنکھ نم ہوتی ہے اور نہ کسی کی آواز اُس کے حق میں بلند ہو پاتی ہے؛ اس لئے اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہیں ہوگا کہ جہالت میں پھنسے ہوئے لوگ نہ صرف دین کے اعتبار سے اہل علم کی برابری حاصل نہیں کر پاتے؛ بلکہ وہ ہر میدان میں اُن سے پیچھے رہتے ہیں، اُن کے استحصال کا نشانہ بنتے ہیں اور اُن کی ذلت و خواری کی داستان طویل سے طویل تر ہوتی جاتی ہے ۔
تعلیم میں پسماندگی کا بنیادی سبب تعلیمی تسلسل کو برقرار نہ رکھ پانا ہے، مسلمان بچوں کی بڑی تعداد ساتویں آٹھویں کلاس تک پہنچ کر تعلیم ترک کر دیتی ہے اور میٹرک تک بھی اُن کے پہنچنے کی نوبت نہیں آتی، اُس کے بعد ایک بڑی تعداد جو میٹرک کرتی ہے، وہ اُس سے آگے نہیں بڑھتی، ہر مرحلہ پر یہی صورت حال پیش آتی ہے، یہاں تک کہ اعلیٰ تعلیم میں اُن کا تناسب کم سے کم ترین ہو جاتا ہے، تعلیمی تجزیہ کاروں نے لکھا ہے کہ آئی اے ایس، آئی پی ایس وغیرہ میں مسلمانوں کی تعداد اِس لئے کم نہیں ہوتی کہ اُن کی کامیابی کا تناسب اکثریتی فرقہ کے طلبہ سے کم ہوتا ہے؛ بلکہ یہ تعداد اِس لئے کم ہوتی ہے کہ اِن امتحانات میں شرکت کرنے والے مسلمان طلبہ کی ہی تعداد کم ہوتی ہے، جب وہ کم تعداد میں شریک ہوں گے تو ظاہر ہے کہ کامیابی میں بھی اُن کا تناسب کم ہوگا، اس تعلیمی انقطاع کو روکنا مسلمانوں کے لئے ایک قومی فریضہ ہے، یہ اللہ کا شکر ہے کہ مسلمانوں میں بھی حصول تعلیم کا جذبہ بڑھ رہا ہے، سِلَم آبادیوں میں زندگی گزارنے والے غریب مسلمان بھی اپنے بچوں کو اسکولوں میں داخل کرنے لگے ہیں؛ لیکن مشکل یہی ہے کہ چند ہی زینوں پر چڑھنے کے بعد طلب علم کا یہ مسافر حوصلہ کھو دیتاہے اور وہ اپنے تعلیمی سلسلہ کو جاری نہیں رکھ پاتا، اِس کے بنیادی اسباب دو ہیں:
ایک: یہ کہ غریب ماں باپ چاہتے ہیں کہ جلد سے جلد اُن کا بچہ پچیس پچاس روپئے کمانے لگے اور اپنے ماں باپ کے ہاتھ مضبوط کرے، پنکچر کی دکان سے لے کر موٹر میکانک تک کی دکانوں کو دیکھ جائیے، نیز ہوٹلوں اور ڈھابوں کا جائزہ لیجئے کہ وہاں میزیں صاف کرنے، برتن دھونے اور موٹا جھوٹا کام کرنے والے کم عمر بچے کس قوم سے تعلق رکھتے ہیں؟ ہرجگہ نوے فیصد سے زیادہ مسلمان بچے ملیں گے ۔
دوسرے: فقر و محتاجی اور مفلسی، کتابوں کی قیمت، تعلیم کی فیس، یونیفارم کی خریداری، سال دو سال تو غریب مزدور کسی طرح برداشت کر لیتے ہیں؛ لیکن پھر اُن کی ہمت جواب دے جاتی ہے اور اُن کو یقین ہو جاتا ہے کہ ہمارے باغ میں جو غنچہ آیا ہے، کھِلنا اور پھول بننا اُس کے لئے مقدر نہیں ہے، جس طرح ہم نے اپنی زندگی گزاری ہے، اِن کو بھی کانٹوں کے اِسی بستر پر اپنی زندگی گزارنی ہے، یہ دو بنیادی اسباب ہیں جو مسلمان بچوں کو تعلیم میں پست سے پست تر کرتے جا رہے ہیں ۔
اس بیماری کا علاج کیا ہو؟ بنیادی طور پر اس سلسلہ میں تین نکات کو ملحوظ رکھنے کی ضرورت ہے:
اول: مسلمانوں کے غریب اور مزدور طبقے کی تربیت اور اُن کو سمجھانا کہ فاقوں کو گوارا کر لو، پھٹے پرانے کپڑوں پر عید و بقر عید گزار لو، ذاتی مکان کے بجائے کرائے کی جھونپڑی میں اپنا سر چھپا لو، سادگی سے شادی کی تقریب انجام دو؛ لیکن کسی قیمت پر اپنے بچوں کو تعلیم سے محروم نہ رہنے دو؛ تاکہ بالآخر تم غربت سے مرفّہ الحالی کی طرف اور پستی سے بلندی کی طرف سفر کر سکو، مدینہ میں فاقوں کی نوبت تھی، بدر میں جو جنگی قیدی آئے آپ ﷺ اُن کو مالی فدیہ دینے پر مجبور کر سکتے تھے؛ لیکن آپ نے بچوں کی تعلیم کو فوقیت دی اور جو لوگ لکھنا پڑھنا جانتے تھے اُن کے لئے دس دس مسلمان بچوں کی تعلیم کو فدیہ قرار دیا، اس میں سبق ہے کہ مسلمان فاقہ مستی کو تو گوارا کر لے؛ لیکن علم سے محرومی کو گوارا نہیں کرے ۔
دوسری ضروری بات یہ کہ مسلمانوں میں تعلیمی کفالت کا مزاج پیدا ہو، جو لوگ اصحابِ ثروت اور ارباب ِگنجائش ہوں، وہ اپنے خاندان، اپنے سماج اور اپنے پڑوس کے ایسے ایک دو بچوں کی کفالت اپنے ذمہ لے لیں، جن کا سلسلۂ تعلیم غربت کی وجہ سے منقطع ہو رہا ہو، رسول اللہ ﷺ نے اپنے چچا حضرت ابو طالب کی مالی حالت کو دیکھتے ہوئے حضرت علیؓ کی پرورش اپنے ذمہ لے لی تھی، اسی طرح حضرت عباسؓ نے حضرت ابوطالب کے ایک اور صاحبزادے حضرت جعفرؓ کی پرورش اپنے ذمہ لے لی، یہ تعلیم و تربیت کے لئے کفالت کی ایک مثال ہے اور اس مثال کو مسلمانوں میں عام کر نے کی ضرورت ہے، اس طرح بہت سے بچے علم کے زیور سے آراستہ ہو سکتے ہیں اور اپنے تعلیمی سفر کو جاری رکھ سکتے ہیں ۔
تیسرا ضروری کام یہ ہے کہ اِس وقت بچوں کی تعلیم کے سلسلہ میں حکومت کی طرف سے جو سہولتیں دی گئی ہیں اور اقلیتوں کے لئے جو خصوصی رعایتیں کی گئی ہیں، غریب اورناواقف مسلمانوں کے لئے اُن سے فائدہ اُٹھانے کا انتظام کیا جائے اور معلومات فراہم کی جائیں، بد قسمتی یہ ہے کہ ایسی اسکیموں تک مسلمانوں کی رسائی نہیں ہو پاتی اور وہ اپنے جائز حق سے فائدہ نہیں اُٹھا پاتے؛ حالاںکہ آج کل بہت سی ایسی سہولتیں پیدا ہو گئی ہیں کہ غریب سے غریب انسان بھی اپنے بچوں کو ضروری حد تک تعلیم دلا سکتا ہے اور غربت اُس کے عزم و ارادہ کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی ۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ اپنی قوم کو طاقتور مؤمن بنائیں، اُس کو ضعف و کمزوری اور پستی سے باہر لائیں، اُس کے لئے باعزت اور آبرو مندانہ زندگی فراہم کریں تو ہمارے لئے ضروری ہے کہ جہالت اور علم سے محرومی کی اس بیماری کو دُور کرنے کے لئے اُمت کا ایک ایک فرد اس طرح اُٹھ کھڑا ہو جیسے کسی جاں بلب انسان کو بچانے کے لئے ہر سلیم الفطرت انسان دوڑ پڑتا ہے، کاش! یہ دعوت کانوں اور آنکھوں سے گذر کر دلوں تک پہنچ سکے اور قلب کی گہرائیوں میں اُتر سکے ۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں