خطیب اہل سنت زاہدان:

افراط و تفریط اسلام میں منع ہیں

افراط و تفریط اسلام میں منع ہیں

مولانا عبدالحمید نے اپنے تازہ ترین خطبہ جمعہ میں اسلامی احکام کو اعتدال پر مبنی قرار دیتے ہوئے مسلمانوں کو افراط و تفریط اور انتہاپسندی سے پرہیز اور ہر کام میں اعتدال و میانہ روی اختیار کرنے کی ترغیب دی۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے قرآنی آیت: «وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا» کی تلاوت سے اپنے خطاب کا آغاز کرتے ہوئے کہا: اللہ تعالیٰ نے ہمیں مسلم امہ قرار دیاہے اور اسلام ہمارے لیے سب سے بڑا فخر ہے۔ اسلامی تعلیمات بہترین ہیں جو قیامت تک انسانیت کے لیے مشعل راہ ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: بہترین زندگی وہی ہے جو قرآن و سنت کے مطابق ہو۔ اسلام عدالت، حریت اور بہادری کا دین ہے۔ اسلامی احکام اور تعلیمات سب اعتدال و میانہ روی پر مبنی ہیں۔ اسلام زندگی کے ہر شعبے میں ہمیں میانہ روی کا سبق دیتاہے۔
شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے کہا: اسی لیے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی امت کو امت وسط قرار دیاہے جس کا مطلب ایسی قوم جو انتہاپسندی اور افراط و تفریط سے دور ہے۔ اسلام میں افراط و تفریط منع ہیں؛ بعض احکام کو ماننا اور کچھ کو مسترد کرنا نادرست اور ناقابل قبول ہے۔
انہوں نے مزید کہا: اسلام میں حقوق اللہ اور حقوق الناس دونوں اہم ہیں؛ لیکن لوگوں کے حقوق پر زیادہ تاکید آئی ہے۔ جو لوگ دیگر افراد کے حقوق پامال کرتے ہیں، وہ اعتدال کی راہ پر نہیں ہیں۔ اسلام نے والدین اور اولاد، پڑوسیوں اور رشتہ داروں سے لے کر دیگر عام لوگوں تک کے حقوق کی خیال داری پر زور دیاہے۔ انسانی حقوق اسلامی لٹریچر میں دیگر مذاہب اور تہذیبوں کی نسبت سے زیادہ اہم ہے۔
مولانا عبدالحمید نے کہا: جو آزادی اسلام نے انسانوں کو دیا ہے، اگر اس کی پاسداری کی جائے، پوری دنیا کے لوگ راضی ہوجائیں گے۔ انصاف کی فراہمی بہت اہم ہے۔ اگرچہ انصاف دینے کی وجہ سے ہم خود نقصان سے دوچار ہوجائیں، پھر عدل و انصاف کا معاملہ کرنا چاہیے۔ سب مسالک اور فکری مکاتب کو اعتدال سے کام لینا چاہیے اور ایک دوسرے کو برداشت کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ مسلمانوں میں مختلف فرقے اور مسالک موجود ہیں؛ ان سب فرقوں کو فراخدلی اور اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

حکام اہل سنت کی نماز برداشت کریں؛ آزادی چھیننا قابل برداشت نہیں ہے
اہل سنت ایران کے ممتاز دینی و سماجی رہ نما شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے بیان کے ایک حصے میں ایران کی سنی برادری پر بڑھتے ہوئے مذہبی دباؤ پر تنقید کرتے ہوئے ان کی مذہبی آزادی چھیننے کے متوقع خطرات سے حکام کو آگاہ کیا۔
زاہدان میں خطاب کرتے ہوئے خطیب اہل سنت زاہدان نے کہا: ہر میدان میں اعتدال سے کام لے کر دوسروں کو برداشت کرنی چاہیے۔ ایران مختلف قومیتوں اور مسالک کا ملک اور وطن ہے۔ شیعہ حضرات خاص کر وہ لوگ جو حکمران بنے ہوئے ہیں ایسا رویہ اختیار کریں کہ سب کے حقوق بشمول عیسائی، یہودی، دراویش اور دیگر فرقوں انہیں میسر ہوں، اور قانون کا حکم بھی یہی ہے۔
انہوں نے شیعہ و سنی کے بھائی چارہ کی خیال داری پر زور دیتے ہوئے کہا: ایران میں سنی برادری کی آبادی کم نہیں ہے؛ کم از کم دو کروڑ سنی مسلمان اس ملک کے شہری ہیں۔ اس بڑی آبادی کے کچھ حقوق اور آزادیاں ہیں اور ان میں بعض قابل افراد بھی ہیں جو اعلیٰ عہدوں پر فائز رہ سکتے ہیں۔ ان کے قانونی اور اسلامی حقوق کا تحفظ ضروری ہے۔

اگر کسی کو اسلام کی بو بھی لگی ہو، نماز کو برداشت کرے گا
مولانا عبدالحمید نے اعلیٰ حکام کو خبردار کیا انتہاپسندی حکومت اور سرکاری اداروں میں جڑ نہیں پکڑنی چاہیے۔
انہوں نے کہا: ہمیں اس بات پر خوف ہے کہ حکومتی سطح پر پائی جانے والی انتہاپسندی سے اتحاد اور امن عامہ خطرے میں پڑجائیں گے۔اگر اس انتہاپسندی کی وجہ سے ہمارے حقوق اور آزادیوں میں رکاوٹ آجائے، یہ بہت خطرناک واقعہ ہوگا۔ گزشتہ کچھ عرصے سے ملک میں کچھ پریشان کن اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ مختلف شہروں میں ہمارے نمازخانوں پر دھاوا بول دیا گیاہے؛ حالانکہ نماز ایسی کوئی چیز نہیں جس سے کسی کو تشویش ہو۔ کسی کو اسلام کی تھوڑی سی بو بھی لگی ہو، وہ کم از کم نماز کو برداشت کرے گا۔ ہماری نماز میں تمہارا کیا نقصان ہے؟
خطیب اہل سنت زاہدان نے مزید کہا: مشہد، شیراز، تہران اور بعض دیگر علاقوں میں اہل سنت کے نمازخانوں پر دباؤ بڑھ گئے ہیں؛ اس منبر سے حکام کو مخاطب کرکے کہتاہوں انتہاپسندی کے ان واقعات کو روکیں۔ صدر مملکت اور سپریم لیڈر سے ہماری درخواست ہے اہل سنت کو ناراض کرنے کی اجازت نہ دیں۔
انہوں نے کہا: ہم نے بہت سارے مسائل اور مشکلات کو سہہ کر آواز نہیں اٹھائی ہے تاکہ کوئی اہل سنت پر الزامات نہ لگائے۔ ہم نے ریاستی اداروں اور حکومت کا ساتھ دیا ہے اور اب ہمیں توقع نہیں کہ ہماری نماز تک کو برداشت نہ کی جائے۔ حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے کہ ہمارے حقوق کا تحفظ کرے۔ اگر سنی برادری پر کوئی دباؤ آتاہے، ہم اپنے جائز اور قانونی حقوق اور آزادیوں کا دفاع کریں گے۔

ہم اپنی نماز برداشت نہ کرنے والوں کے خلاف ڈٹے رہیں گے
مولانا عبدالحمید نے یاددہانی کرتے ہوئے کہا: ایران سب ایرانیوں کا وطن ہے؛ اگر گزشتہ چوالیس سالوں میں اہل سنت نے امتیازی رویوں کو برداشت کی ہے، اس کی واحد وجہ بھائی چارہ کی حفاظت و پاسداری ہے۔
انہوں نے مزید کہا: اعلیٰ وفاقی اور صوبائی عہدوں کو اہل سنت کے لیے شجرہ ممنوعہ قراردیا گیاہے۔ مسلح اداروں میں بھی اہل سنت کی تعداد نہ ہونے کی برابر ہے۔ ہم نے ہمیشہ اپنا مطالبہ پیش کرتے ہوئے صبر سے کام لیا ہے تاکہ مسائل حل ہوجائیں، لیکن اگر کوئی ہمارے مذہبی مسائل میں مداخلت کرکے عدم برداشت کا مظاہرہ کرے، ہم پرزور آواز میں احتجاج کریں گے۔ ہمیں برداشت کیے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے۔
ممتاز دینی و سماجی شخصیت نے کہا: بندہ اس ملک کا خیرخواہ ہے اور ملک و ملت کے جذبہ خیرخواہی ہمارے دلوں میں ہے۔ اہل سنت کا ہر فرد اپنی مذہبی آزادی چاہتاہے اور جس کے پاس کوئی طاقت ہے، اسے ہماری آزادی چھیننے کی اجازت نہیں ہے۔ جب تک ہماری رگوں میں خون ہے، ہم ان عناصر کے سامنے ڈٹے رہیں گے جو ہماری نماز کو برداشت نہیں کرتے اور ہماری تعلیم میں رکاوٹ ڈالنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: ہم نے کبھی فرقہ واریت نہیں پھیلائی اور ہمیشہ رواداری اور ایک دوسرے کو برداشت کرنے پر یقین رکھا ہے۔ ہمارے لیے شیعہ و سنی اور مسلم و غیرمسلم برابر ہیں؛ ہمارے لیے انسانیت اہم ہے۔ اہل سنت ایران کے امن میں استحکام کے بارے میں پیش پیش رہے ہیں۔ انتخابات میں دوسروں سے زیادہ ہم نے حصہ لیا ہے۔ خاص کر گزشتہ سال متنازع صدارتی الیکشن میں جب بائیکاٹ کی مہم جاری تھی، سنی برادری نے تمام تر دباؤ کے باوجود انتخابات میں حصہ لیا۔

حکام ہمارے خطوط کا جواب دیں
صدر جامعہ دارالعلوم زاہدان نے خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا: ہمیں اعلیٰ حکام سے توقع ہے جب ہم کوئی خط لکھتے ہیں، ہمارے خطوط کا جواب بھیج دیں اور ہمیں غیرفیصلہ کن صورتحال میں نہ رکھیں۔ جب ہم خط میڈیا میں شائع کراتے ہیں، پھر شکوہ کرتے ہیں کہ اسے کیوں عام کیا گیا۔ لہذا جب ہم کوئی خط لکھتے ہیں یہ ہمارا حق ہے کہ ہماری شکایت سنی جائے اور ہمیں کوئی جواب دیا جائے۔ آپ ہمارا حق ضائع نہ کریں اور ہماری آواز سنیں اور ہمیں مطمئن کریں۔
انہوں نے کہا: چھوٹے درجے کے حکام کو سمجھایاجائے کہ ہمارے لیے مسائل پیدا نہ کریں۔ انہیں کہاجائے کہ اہل سنت کو برداشت کریں؛ جیسا کہ ہم نے سب ملکوں کے اہل سنت مشورہ دیا ہے کہ اپنے اپنے ملکوں کے شیعہ حضرات کو برداشت کریں اور انہیں مذہبی تقریبات میں آزادی دیں۔ یہ ہمارا عقیدہ ہے کوئی عارضی پالیسی نہیں۔

ہماری ویب سائٹس بھی اندرون ملک بند ہیں
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اہل سنت کے مسائل پر ملکی ذرائع ابلاغ سے شکوہ کرتے ہوئے کہا: ہم ملکی ذرائع ابلاغ اور سرکاری ٹی وی سے سخت ناراض ہیں اور ہمیں ان سے گلہ ہے کہ کبھی بھی انہوں نے ہمارے مسائل کو درست انداز میں رپورٹ نہیں کی۔ ہمارے مسائل اور تقریبات کو بہت کم کوریج دیے۔
انہوں نے مزید کہا: دو ویب سائٹس ہم نے خود بنائی جنہیں شروع سے بند کرکے ملک میں فلٹر کیا گیا۔ ملک سے باہر سرگرم ذرائع ابلاغ جو بعض اوقات ہمارے مسائل کو کوریج دیتے تھے، گزشتہ انتخابات کے بعد انہوں نے بھی ہمارا بائیکاٹ کیاہوا ہے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں