ایران میں صحابہ کرامؓ کی شان میں گستاخی کی نئی لہر؛ سنی علمائے کرام کی سخت تنقید

ایران میں صحابہ کرامؓ کی شان میں گستاخی کی نئی لہر؛ سنی علمائے کرام کی سخت تنقید

زاہدان (سنی آن لائن) گزشتہ دنوں اسلامی جمہوریہ ایران کی عدلیہ کے سربراہ محسنی اژہ ای اور ایک معروف شیعہ مرجع تقلید آیت اللہ جوادی آملی کی جانب سے حضرت امیرمعاویہؓ کی شان میں گستاخانہ الفاظ استعمال کرنے پر ایران کے طول و عرض میں رہنے والے سنی علمائے کرام نے مذمتی بیانات کے علاوہ اپنے خطبہ جمعہ میں بھی ردعمل کا اظہار کیا۔
سنی آن لائن کو موصول ہونے والی رپورٹس کے مطابق، سنی خطیبوں نے صحابہؓ کی شان میں گستاخی کی پرزور مذمت کرتے ہوئے عدلیہ سربراہ کی برطرفی و معزولی اور مناسب سزا کی درخواست بھی سپریم لیڈر کے سامنے رکھی۔
زاہدان کے مولانا عبدالحمید نے اپنے انیس اگست دوہزار بائیس کے بیان میں کہا: اگر کسی کے دل میں صحابہ کرام اور اہل بیت عظام کی محبت نہیں ہے، ہمارا خیرخواہانہ مشورہ اس کو یہی ہے کہ کم از کم ان حضرات کی توہین و گستاخی سے بازآجائے۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے مزید کہا: کوئی بھی شخص یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ ہم حضرت حسنؓ سے بڑھ کر معاویہؓ کو جانتے ہیں۔ آپؓ حضرت معاویہ ؓ کو بہتر جانتے تھے، تب ہی مسلمانوں کے امور ان کے سپرد کیا۔ ہرچند ہمارے نزدیک صرف نبی کریم ﷺ معصوم تھے اور صحابہ و اہل بیت ؓ معصوم نہیں تھے، لیکن شیعہ حضرات کا عقیدہ ہے کہ ان کے ائمہ معصوم تھے اور معصوم خطا کا ارتکاب نہیں کرتا۔ لہذا حضرت حسنؓ کا عمل درست اور شناخت پر مبنی تھا۔
ایران کے شمالی صوبہ گلستان کے شہر گالیکش میں نماز جمعہ سے پہلے خطاب کرتے ہوئے مولانا محمدحسین گورگیج نے چیف جسٹس محسنی اژہ ای کی برطرفی کا مطالبہ پیش کرتے ہوئے فرقہ واریت پھیلانے والوں کو لگام لگانے پر زور دیا۔
اہل سنت ایران کی ممتاز دینی شخصیت نے کہا: امیرمعاویہؓ کی شان میں گستاخی سے ڈیڑھ ارب سے زائد اہل سنت کے جذبات مجروح ہوئے۔ حکام اپنی کمزوریوں کی فکر کریں اور صدر اسلام کے واقعات چھوڑ دیں؛ ملک کے موجودہ مسائل حل کرائیں اور لوگوں کو معاویہ و ابوسفیانؓ اور دیگر افراد سے مصروف نہ رکھیں۔
ایرانی بلوچستان کے وسطیٰ شہر ‘ایرانشہر’ کے امام و خطیب شیخ الحدیث مولانا عبدالصمد دامنی نے بھی اس حوالے سے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا: قرآن پاک نے واضح طورپر صحابہؓ کے مقام کو بیان فرمایاہے اور ان کے دفاع اور پاکی میں کلام الہی ہی کافی ہے۔
جامعہ دارالعلوم حقانیہ ایرانشہر کے صدر و شیخ الحدیث نے مزید کہا: اللہ تعالیٰ نے سورت النساء کی آیت پچانوے میں صحابہ کرامؓ کے بارے میں ارشاد فرمایاہے: ‘‘وکلا وعداللہ الحسنیٰ’’؛ اللہ تعالیٰ سب صحابہ کو بلااستثنا جنت کی خوشخبری دی ہے۔ لہذا مسٹر اژہ ای اہل سنت والجماعت سے اس توہین پر معافی مانگے تاکہ قیامت کے دن نبی کریم ﷺ کے دربار میں شرمندہ نہ ہو۔
ضلع سراوان کے شہر ‘گشت’/ Gosht کے خطیب مولانا سید عبدالکریم حسین پور نے اپنے خطبہ جمعہ میں کہا: نبی کریم ﷺ نے کم و بیش بیس سالوں میں اپنے صحابہ کی ایسی تربیت کی جو بعد میں اللہ کے آخری دین کو دنیا میں پھیلاسکیں؛ یہ نہیں ہوسکتا کہ آپﷺ کے بعد ایسے لوگ برسرکار آئیں جو دین، ایمان اور انسانیت کی نعمت سے محروم ہوں۔ صحابہؓ کے مخالفین کے بقول، یہ عدلِ الہی کے خلاف ہے۔
جامعہ عین العلوم گشت کے مہتمم نے کہا: جب عام لوگ صحابہؓ کی توہین کرتے ہیں ہم اسے ان کی جہالت پر محمول کرتے ہیں، لیکن جب قاضی القضات کی حد تک اعلیٰ عہدیدار صحابہ رسول ﷺ کی توہین کرتے ہیں، پھر کیسے ہم اتحاد بین المسلمین کی توقع کریں؟! مسلمانوں کی نوے فیصد آبادی کی مقدسات کی توہین کی جاتی ہے اور پھر بھائی چارہ کا نعرہ لگایاجاتاہے؛ یہ نہیں ہوسکتا۔
انہوں نے کہا: چیف جسٹس کی جانب سے صحابہ کی شان میں گستاخی ناقابل قبول ہے۔ گستاخانِ صحابہ نبی کریم ﷺ کی تربیت پر سوال اٹھاتے ہیں۔ کیا ان حضرات کی تربیت نبی کریمﷺ اور براہ راست وحی اور قرآن سے نہیں ہوئی تھی؟ ذرا عقل سے کام لیں؛ ہر مذہب کے ماننے والے اپنی سب سے بڑی مذہبی شخصیت کے ساتھیوں اور شاگردوں کو عزت کرتے ہیں اور انہیں اپنے مذہب میں بہترین سمجھتے ہیں، لیکن کچھ لوگ نبی کریم ﷺ کے آس پاس رہنے والوں کا تعارف بدترین لوگوں سے کرتے ہیں۔
خاش کے مولانا محمدعثمان، مولانا عبدالستار حسین زہی، قصرقند کے مولانا فض اللہ رئیسی اور کنارک کے مولانا نواب حوت نے صحابہ رضی اللہ عنہم کی شان میں گستاخی کو ناقابل برداشت یاد کرتے ہوئے صحابہ کی شان میں گستاخی کرنے والوں کو جو کسی بھی لباس اور عہدے پر ہوں، سزا دینے اور فرقہ واریت روکنے پر زور دی۔
سراوان کے مولانا عبدالصمد ساداتی نے کہا: مقدسات اور ایک دوسرے کے عقائد کی توہین عالم اسلام کے اہم مسائل میں شمار ہوتی ہے۔ حکام اپنی ناکامیوں اور مشکلات کو نبی کریم ﷺ کے صحابہ، اہل بیت اور ازواج مطہرات ؓ سے نسبت نہ دیں۔ وہ اپنے اعمال کی فکر کریں، ان سے ان کے اپنے ہی اعمال سے پوچھا جائے گا۔ ماضی کے جھگڑوں میں پڑنا اور صحابہ و اہل بیتؓ کی توہین سے ملک کا کوئی مسئلہ حل نہیں ہوتا، بلکہ الٹا مسائل بڑھتے ہی جائیں گے۔
بلوچستان کے مشرقی شہر سراوان ہی کے عالم دین مولانا اسحاق سپاہی نے بھی جامع مسجد محمدی میں خطاب کرتے ہوئے کہا: کسی بھی مذہب اور مسلک نے توہین کرنے اور گستاخی کرنے سے ترقی نہیں کی ہے۔ توہین سے نفرت کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتی۔ گستاخی کرنے والے جان لیں کہ وہ مسلمانوں کے دشمنوں کے میدان میں ان ہی کے حق میں کھیل رہے ہیں۔
صوبہ خراسان کے شہر نشتیفان کے مولانا شیرمحمد نیک کردار نے چیف جسٹس کے گستاخانہ بیان کی مذمت کرتے ہوئے سب مسلمانوں سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے سپریم لیڈر کو مشورہ دیا کہ چیف جسٹس کو تنبیہ کرے تاکہ مسلمانوں میں تفرقہ پیدا نہ ہوجائے اور بہت سارے مسلمانوں کے جذبات مجروح نہ ہوں۔
خراسان کے علاقہ مشہدریزہ کے خطیب مولوی عبدالکریم علی بائی نے اپنے بیان میں کہا: صحابہؓ کی جان نثاری نہ ہوتی آج ہماری کوئی قدر نہ ہوتی اور ہم اپنے دین اور اقدار میں صحابہؓ ہی کے مدیون ہیں۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں