ایران کے شمالی علاقہ جات میں سنی برادری کا تعارف

ایران کے شمالی علاقہ جات میں سنی برادری کا تعارف

نوٹ: ایران کے مختلف شمالی علاقوں میں سنی برادری کی بڑی تعداد آباد ہے۔ شمال مشرق میں خراسان شمالی اور گلستان کے صوبے واقع ہیں جہاں زیادہ تر ترکمن اور بلوچ برادری کے افراد رہتے ہیں۔ بحیرہ قزوین (خزر) کی دوسری جانب صوبہ گیلان اور اردبیل آتے ہیں جہاں سنی برادری بھی آباد ہے۔ یہاں کے سنی باشندے فارسی، تالشی، ترکی اور تاتی زبانوں میں گفتگو کرتے ہیں۔ ان ہی صوبوں کی سنی برادری کے بارے میں سہ ماہی مجلہ ‘ندائے اسلام’ نے شیخ سید شافی قریشی سے گفتگو کی ہے۔ اس انٹرویو کے اصلی نکات سنی آن لائن اردو کے قارئین کی خدمت میں پیش ہیں:

گیلان اور اردبیل تاریخ کے آئینے میں
صفوی حکمرانوں سے پہلے ان علاقوں کے تمام باشندے اہل سنت والجماعت اور شافعی مسلک پر تھے۔ شیخ یوسف اردبیلیؒ جنہوں نے فقہ شافعی میں ‘الانوار’ کو تصنیف کی اور شیخ عبدالقادر جیلانیؒ جو شہرہ آفاق ہیں،یہ سب اس بات کی دلیل ہے کہ یہاں اہل سنت رہتے تھے اور ان میں بڑے بڑے علما گذرے ہیں۔ ظالم اور خونخوار صفویوں کی حکومت جب ایران میں قائم ہوئی، ان علاقوں میں بھی دیگر شہروں کی طرح قتل و خونریزی کا بازار گرم ہوگیا اور انہوں نے لوگوں کو اپنا مسلک تبدیل کرنے پر مجبور کردیا۔ اگر وہ ایسا نہ کرتے تو انہیں بہیمانہ انداز میں شہید کیاجاتا تھا اور ان کی جائیداد اور سرمایے پر قبضہ ہوتا تھا۔ ان حالات میں کچھ لوگ ہجرت پر مجبور ہوئے، کچھ لوگوں نے شیعہ مسلک اپنانے کا اظہار کیا اور بعض نے خفیہ انداز میں اپنا مسلک محفوظ رکھا۔
بلاشبہ ان سخت حالات میں علما نے عوام کے دین کی حفاظت میں بڑا کلیدی کردار کیا ، چنانچہ وہ صفوی دارالحکومت کے پڑوس میں رہتے ہوئے اہل سنت والجماعت کے مسلک پر قائم رہے۔ انہوں نے نہایت حکمت او ر دوراندیشی سے کام لیتے ہوئے لوگوں کے درست عقاید کی حفاظت کی۔ ہرچند مجبوری کی وجہ سے ان میں بعض بدعتیں بھی آئیں، لیکن الحمدللہ رفتہ رفتہ یہ بدعتیں بھی ختم ہوئیں۔

موجودہ حالات
ماضی میں صوبہ گیلان کے آستارا، تالش اور رضوان شہر علاقوں میں صرف تین جامع مساجد ہوا کرتی تھیں، لیکن اب اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے وہاں پچاس سے زائد جامع مساجد میں نماز جمعہ قائم ہوتی ہے۔ گزشتہ چار عشروں میں پنج وقتہ نمازوں کو باجماعت پڑھنے، قرآن سیکھنے اور تلاوت کرنے، دینی مجالس اور ضروری احکام کی نشستوں کے انعقاد کا رجحان کافی بڑھ چکاہے۔ بہت ساری بدعتیں بھی ختم ہوچکی ہیں۔
صوبہ اردبیل کے شہر عنبران میں اور دیگر سنی بستیوں میں باجماعت نماز اور جمعہ کی نماز قائم ہوتی ہے۔ صرف نمین نامی شہر میں اہل سنت کو مسجد تعمیر کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے، حالانکہ اس شہر میں آٹھ سو سنی خاندان آباد ہیں۔ چنانچہ یہ لوگ تراویح، جمعہ اور عیدین کی نماز پڑھنے کے لیے آس پاس کے علاقوں میں جانے پر مجبور ہیں۔
اسی صوبے کا ایک علاقہ خلخال ہے جہاں سنی برادری ہشتچین نامی شہر میں رہتے ہیں۔ اس شہر کی بارہ بستیاں اہل سنت کی ہیں جن میں کجل، شمس آباد اور کزج شامل ہیں۔ ان بستیوں اور نمین شہر میں باجماعت نماز، جمعہ، عیدین اور تراویح کی نماز پڑھی جاتی ہے۔
اردبیل اور گیلان کی سنی مساجد ایران کے دیگر علاقوں کی بہ نسبت کم ہیں۔ صرف تالش میں اہل سنت کو پانچ نئی مساجد تعمیر کرنے کی ضرورت ہے۔ نمین میں ایک مسجد بھی نہیں ہے۔ مینا آباد جہاں تین سو سنی گھرانے رہتے ہیں، ان کے پاس صرف ایک مسجد ہے اور انہیں تین مزید مساجد کی ضرورت ہے۔ تالش کی‘ ویزنہ’ نامی بستی میں اہل سنت کو چار مساجد کی ضرورت ہے، لیکن وہ ایک ہی مسجد میں نماز پڑھ سکتے ہیں۔ رضوان شہر میں بھی یہی حالت ہے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ ان علاقوں میں شیعہ و سنی بھائی بھائی بن کر رہتے ہیں اور ان کے اچھے تعلقات ہیں۔ ان میں کوئی چپقلش اور فرقہ وارانہ اختلاف نہیں پایا جاتاہے اور وہ ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں۔

تالش کے مدارس و مساجد
جب میں نوجوان تھا اور دینی تعلیم حاصل کرنے کے بعد تالش میں اپنی دوکان چلاتا تھا، ہشتپر شہر میں اہل سنت کے لیے جامع مسجد تعمیر کروانے کی توفیق ہوئی۔ اسی طرح میں نے لڑکوں اور پھر لڑکیوں کے لیے دو مدرسے قائم کیے۔ اس علاقے میں پندرہ مسجدیں میری نگرانی تعمیر ہوئیں اور ان میں بعض جامع مسجد ہیں۔ پورے علاقے میں الحمدللہ یہ دو مدرسے طلبہ و طالبات کے لیے علمی اور ثقافتی مرکز بن چکے ہیں۔ دعوت و تبلیغ کا کام بھی ہورہاہے اور علمائے کرام اور محنتی طلبہ کی کوششوں کے نتیجے میں قرآن سیکھنے کا رجحان زیادہ ہے اور لوگ دین کی طرف راغب ہورہے ہیں۔ بعض علما دیگر علاقوں میں پڑھ کر واپس آچکے ہیں اور دینی خدمات میں مصروف ہیں۔شیخ احمد ہاشمی جو بہت سارے علما کے استاذ ہیں، انہوں نے ایرانی انقلاب سے پہلے پاکستان میں تبلیغی جماعت میں وقت لگایا اور پھر اپنے علاقے میں کام کیا۔
دین کی طرف توجہ کے ساتھ ساتھ، ان علاقوں کے سنی باشندے تعلیم کے حوالے سے بھی کافی توجہ دکھاتے ہیں اور ان میں بڑے بڑے ڈاکٹرز، انجینئرز و۔۔۔ پائے جاتے ہیں۔ بعض گاؤں ایسے ہیں جن کے سب باشندے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ شیخ مسعود انصاری جنہوں نے علوم قرآنی پر بڑا کام کیا ہے اور شاہ ولی اللہؒ کے فارسی ترجمہ قرآن کو تصحیح بھی کی ہے، خلخال ہی سے تعلق رکھتے ہیں۔شیخ انصاری نے قرآن پاک کا فارسی ترجمہ بھی لکھاہے جو کافی مقبول ہے۔ تہران یونیورسٹی کے اسلامیات کے پروفیسر اور سابق صدر روحانی کے مشیر ڈاکٹر ذوالفقارطلب بھی اسی علاقے کے ہیں۔
مجموعی طور صوبہ گیلان کے سنیوں میں اردبیل اور بطور خاص خلخال کے علما اور داعیوں نے کام کیا اور خلخال میں کردستان کے علما اور مشایخ نے کام کیا۔ ان علما میں شیخ عثمان نقشبندی، ماموستا مدرس اور شیخ سعداللہ افندی شامل ہیں۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں