بلوچستان میں طوفانی بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریاں: متاثرین کھلے آسمان تلے حکومتی امداد کے منتظر

بلوچستان میں طوفانی بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریاں: متاثرین کھلے آسمان تلے حکومتی امداد کے منتظر

بلوچستان کے ضلع نوشکی میں 28 جولائی کو ہونے والی طوفانی بارشوں اور پھر اس کے بعد سیلاب کی وجہ سے بے گھر ہونے والے سینکڑوں خاندان مشکلات سے دوچار ہیں لیکن ان میں بخت بی بی اور تاج محمد کی مشکلات دوسروں سے بظاہر کئی گنا زیادہ ہیں کیونکہ ان میں سے ایک بیوہ اور دوسرا جسمانی طور پر معذور ہے۔
سیلابی ریلے نے دونوں کے گھروں کو منہدم کر دیا ہے اور وہ اب کسی طرح رہنے کے قابل نہیں اور ان کے پاس گھروں کی دوبارہ تعمیر کے وسائل بھی نہیں۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بخت بی بی نے بتایا کہ شوہر کی موت کے بعد سات بچوں کو پالنا، ان کے لیے کوئی آسان کام نہیں تھا لیکن اب سیلاب نے چھت کو بھی سر سے چھین لیا ہے۔
دونوں ہاتھوں اور آنکھوں سے معذور تاج محمد کہتے ہیں کہ ’لوگوں کے عطیات اور امداد سے بچوں کے لیے جو گھر مشکل سے بنایا تھا، اب وہ بھی نہیں رہا۔‘
بخت بی بی اور تاج محمد نے بتایا کہ تین دن گزرنے کے باوجود ابھی تک انھیں نہ حکومت کی جانب سے کوئی خیمہ ملا ہے اور نہ کھانے پینے کی اشیا اور وہ پریشان ہیں کہ بچوں کو کہاں سے کھلائیں کیونکہ سیلاب ان کا سب کچھ بہا کر لے گیا ہے۔
سیلاب کے باعث ان کے آس پڑوس کے گھر بھی ان کی مدد کے قابل نہیں رہے ہیں۔
صرف نوشکی نہیں بلکہ بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ 26 اضلاع میں سے اکثر میں متاثرین مشکل صورتحال سے دوچار ہیں۔
لسبیلہ میں لوگوں کی مشکلات دوسرے علاقوں میں کہیں زیادہ ہیں کیونکہ ضلع میں 75 رابطہ سڑکیں بحال نہ ہونے کی وجہ سے کئی علاقوں میں لوگ ایک ہفتے سے زائد کے عرصے سے سیلابی پانی میں پھنسے ہوئے ہیں۔
نوشکی اور لسبیلہ کی طرح سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں زیادہ تر لوگ حکومت کی جانب سے فراہم کردہ ریلیف سے مطمئن نہیں۔
تاہم سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ سیلاب متاثرین کی مددکے لیے تمام وسائل کو بروئے کار لایا جا رہا ہے اور اب تک ہزاروں خاندانوں کو خیمے اور راشن فراہم کیے گئے ہیں۔

’بارشوں اور سیلاب سے پہلے تباہی کے ایسے مناظر نہیں دیکھے‘
دیگر علاقوں کی طرح نوشکی میں بھی بارشیں ہوتی رہی ہیں لیکن 28 جولائی کی شام کو ہونے والی طوفانی بارش نے جو تباہی مچاہی، علاقہ مکینوں اور مقامی صحافیوں کے مطابق اس کی مثال نوشکی شہر کی تاریخ میں نہیں ملتی۔
طوفانی بارش کے ساتھ شہر کے شمال کی جانب قادر آباد کے علاقے میں حفاظتی ڈیم میں شگاف نے تباہی کی شدت میں اضافہ کیا جس سے گھروں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا۔
نوشکی میں متاثرہ علاقوں میں بعض گھروں کے ملیا میٹ ہونے سے متعلق جو ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہو رہیں ہیں، انھیں دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ جیسے پہلے وہاں گھر نہیں بلکہ برساتی نالے تھے۔
نوشکی سے تعلق رکھنے والے سینیئر صحافی شاہ نظر بادینی نے بتایا کہ انھوں نے نوشکی شہر میں بارشوں اور سیلاب سے تباہی کے ایسے مناظر نہیں دیکھے۔
ان کا کہنا ہے کہ ویسے تو طوفانی بارشوں سے پورا ضلع متاثر ہوا لیکن جہاں تک گھروں کو پہنچنے والے نقصان کی بات ہے، اس حوالے سے نوشکی شہر کے گردونواح کے علاقوں میں گھروں کو بہت زیادہ نقصان پہنچا اور وہ رہنے کے قابل نہیں رہے ہیں۔
شاہ نظر نے بتایا کہ جن علاقوں میں گھروں کو زیادہ نقصان پہنچا ان میں قاضی آباد، قادر آباد، کلی مینگل ، کلی سردار بادینی، کلی شریف خان، کلی فقیران اور کلی غریب آباد کے علاوہ نوشکی شہر سے دس بارہ کلو میٹر کے فاصلے پر کلی بٹو اور احمد وال کے علاقے شامل ہیں۔

شدید گرمی سے بے گھر ہونے والے افراد کی مشکلات میں اضافہ
نوشکی کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جہاں گرمیوں کے موسم میں دن کے وقت گرمی کی شدت زیادہ ہوتی ہے۔
گھر رہائش کے قابل نہ رہنے کے باعث بخت بی بی اور تاج محمد سمیت نوشکی کے لوگ شدید گرمی میں پریشان کن صورتحال سے دوچار ہیں۔
تباہ شدہ گھر کی زمین پر کچھ بکھری اشیا کے پاس بیٹھی بخت بی بی نے بتایا کہ ’سیلابی پانی ان کے لیے قیامت صغریٰ سے کم نہیں تھا۔۔۔ میں اور میرے بچے پانی میں بہنے لگے لیکن ہمسایوں نے ہمیں بچا لیا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ان کے چار بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں۔ بیٹوں میں سے ایک پیروں سے معذور جبکہ ایک کا دماغی توازن ٹھیک نہیں اور باقی دو بیٹے چھوٹے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ ’میرے شوہر پہلے ہی فوت ہو گئے تھے جبکہ معذور بیٹا شادی شدہ ہے جس کے چار بچے ہیں۔وہ درزی ہے لیکن اسے کبھی روزگار ملتا ہے اور کبھی نہیں ملتا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ان کے گھر میں تین کمرے اور ایک جھونپڑی تھی جو سب سیلابی پانی میں منہدم ہو گئے اور گھر کے برتن اور بستر بھی پانی بہا لے گیا۔
بخت بی بی نے بتایا کہ پہلی رات انھوں نے مسجد میں گزاری جس کے بعد اب اپنے تباہ شدہ گھر کے پلاٹ پر آ گئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’پہلے روز ہمیں کھانے پینے کی کچھ اشیا دی گئیں مگر اس کے بعد سرکار کی جانب سے کچھ نہیں ملا بلکہ دیگر لوگوں نے کھانے پینے کے لیے امداد کی ہے۔‘
دونوں ہاتھوں اور آنکھوں سے معذور تاج محمد بھی اپنے گھر کے ملبے پر موجود تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے لوگوں کے عطیات سے جو گھر بنایا تھا وہ سیلابی پانی کی نذر ہو گیا۔
انھوں نے بتایا کہ ’میرے بچے بھوکے بیٹھے ہیں۔ ہمارے پاس سرکار کا کوئی آدمی نہیں آیا۔ ڈر ہے کہیں میرے بچے بھوک سے نہ مر جائیں۔‘
قادرآباد کی طرح نوشکی کے دیگر علاقوں میں بھی متاثرین یہ شکایت کر رہے ہیں کہ انھیں امدادی اشیا نہیں ملیں جس کے خلاف سینیچر کے روز نوشکی شہر اور احمدوال میں لوگوں نے احتجاج بھی کیا۔
تاہم ڈپٹی کمشنر نوشکی نعیم گچکی کا کہنا ہے کہ جب 28 جولائی کو طوفانی بارش نے تباہی مچادی تو انتظامیہ کی جانب سے ریسکیو کا سلسلہ شروع کر دیا گیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ بارش اور سیلاب سے کافی تعداد میں گھروں کو نقصان پہنچا ہے اور متاثرین کو خوراک کی فراہمی کے علاوہ خیمے بھی فراہم کیے جارہے ہیں جبکہ بٹو کے علاقے میں ایک خیمہ بستی بھی قائم کی گئی ہے۔
ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ قدرتی آفات کو روکنا ناممکن ہے تاہم حکومت اور انتظامیہ لوگوں کو ریلیف کی فراہمی کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔

لسبیلہ کے مختلف علاقوں میں لوگ تاحال پھنسے ہوئے ہیں
اگرچہ بلوچستان کے اکثر اضلاع میں سیلاب نے تباہی مچائی ہے تاہم لسبیلہ اور جھل مگسی ایسے دو اضلاع ہیں جہاں بہت سارے علاقے مکمل طور پر زیر آب آگئے ہیں۔
24 جولائی کو ضلع لسبیلہ کے متعدد علاقے زیر آب آنے کے باعث ہزاروں لوگ پھنس گئے جن میں اوڑکی سے تعلق رکھنے والے خیر محمد بلوچ بھی شامل تھے جو اپنے خاندان کے سو افراد کے ہمراہ پھنس گئے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ انھیں نکالنے کے لیے کوئی نہیں آیا بلکہ جب پانی کم ہوکر تین فٹ تک رہ گیا تو ان کے خاندان کے مرد حضرات نے ہمت کر کے اپنی مدد آپ کے تحت تیسرے روز بچوں اور خواتین کو ایک محفوظ مقام پر پہنچایا۔
خیر محمد بلوچ کا مزید کہنا تھا کہ پانچویں روز اس محفوظ مقام پر سرکار کے لوگوں نے تھوڑا بہت راشن پہنچایا تھا جو کہ ان کے خاندان اور ان کے ساتھ آنے والے دیگر لوگوں کے لیے بالکل ناکافی تھا۔
انھوں نے بتایا کہ وہ اور ان کے خاندان کے لوگ تو محفوظ مقام تک نکلنے میں کامیاب ہوئے مگر اب بھی لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد پھنسی ہوئی ہے۔
لسبیلہ کے دیگر علاقوں کے متاثرین بھی میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کے دوران امدادی اشیا کی فراہمی کی اپیلیں کرتے نظر آئے۔
لسبیلہ سے تعلق رکھنے والے سینیئر صحافی پیر بخش کلمتی نے بتایا کہ لسبیلہ میں لوگوں کی مشکلات ابھی تک بہت زیادہ ہیں کیونکہ 24 جولائی سے متعدد علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ لاکھڑا اور کنراج ایسے علاقے ہیں جہاں لوگ گذشتہ سات روز سے پھنسے ہوئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جن علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے وہاں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے لوگوں کو راشن فراہم کیا جارہا ہے لیکن ان کے پاس پکانے کے لیے کوئی انتظام نہیں کیونکہ دیگر اشیا کی طرح برتن بھی سیلاب میں بہہ گئے ہیں۔

چیف سیکریٹری بلوچستان کی جانب سے لسبیلہ میں ریلیف سرگرمیاں تیز کرنے کی ہدایت
چیف سیکریٹری بلوچستان عبدالعزیز عقیلی نے اتوار کے روز ضلع لسبیلہ کا دورہ کیا اور وہاں ان کی صدارت میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس بھی ہوا۔
ایک سرکاری اعلامیہ کے مطابق اجلاس کو بتایا گیا کہ ضلع میں کوئٹہ کراچی مین ہائی وے سے اب تک 75 ایسی رابطہ سڑکیں ہیں جن سے تاحال زمینی رابطہ منقطع ہے۔
اعلامیہ کے مطابق چیف سیکریٹری نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں جلدی بیماریوں کے علاوہ ملیریا اور ڈائریا کے پھیلنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سیکریٹری صحت کو مختلف علاقوں میں میڈیکل کیمپ لگانے کی ہدایت کی۔
اجلاس میں چیف سیکریٹری نے علاقے میں ریلیف کی فراہمی اور لوگوں کو محفوظ مقامات پر نکالنے کے لیے مزید ہیلی کاپٹروں کو استعمال میں لانے کی ہدایت کی ہے۔
سرکاری اعلامیہ کے مطابق اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ صرف ضلع لسبیلہ میں 19 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ لوگوں کے تیس ہزار کے لگ بھگ مال مویشی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

سیلاب سے ہلاک ہونے والے بچوں اور خواتین کی مجموعی تعداد زیادہ
جون کے وسط سے شروع ہونے والی بارشوں سے بلوچستان میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کے مطابق 31 جولائی تک ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 136 تھی جن میں 56 مرد ، 33 خواتین اور 47 بچے شامل تھے۔
پی ڈی ایم اے بلوچستان کے ڈائریکٹر ریلیف عطا اللہ مینگل نے خواتین اور بچوں کی مجموعی ہلاکتوں کی تعداد زیادہ ہونے کی متعدد وجوہات بتائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بعض علاقوں میں جب تیز سیلابی ریلے آئے تو مرد حضرات کے مقابلے میں کمزور ہونے کی وجہ سے خواتین اور بچے اپنے آپ کو نہیں بچا سکے اور ریلوں میں بہہ گئے جبکہ بعض علاقوں میں خواتین اور بچے ایک دوسرے کو بچانے کی کوشش کے دوران بھی ہلاک ہوئے۔
انھوں نے ضلع چاغی کے علاقے دشت گوران میں تین لڑکیوں کی ہلاکت کے واقعے کے بارے میں بتایا کہ یہ آپس میں بہنیں تھیں جن میں سے ایک سیلابی پانی میں ڈوب گئی تو اس کے بعد دونوں بہنیں اسے بچانے کے لیے پانی میں کود گئیں اور وہ بھی ہلاک ہو گئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح ضلع مستونگ میں دو خواتین سیلابی ریلے میں بہہ گئی تھیں۔ ان میں سے جب ایک پانی میں گر گئی تھی تو اسے بچانے کی کوشش کے دوران دوسری خاتون بھی پانی میں بہہ کر ہلاک ہو گئی۔

بلوچستان کے کئی اضلاع سیلاب سے متاثر ہیں
بلوچستان کے مجموعی 34 اضلاع میں سے 26 اضلاع طوفانی بارشوں اور سیلابی ریلوں سے متاثر ہوئے ہیں۔
پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر ریلیف عطااللہ مینگل نے بتایا کہ ان میں بعض اضلاع جزوی طور پر متاثر ہوئے ہیں جبکہ بعض بہت زیادہ متاثر ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جو اضلاع زیادہ متاثر ہوئے ان میں لسبیلہ، جھل مگسی، کچھی، نوشکی، پنجگور، قلات، کوئٹہ، پشین اور قلعہ سیف اللہ شامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ان اضلاع میں سیلاب سے متاثرہ خاندانوں میں سے 14ہزار کو خیمے اور راشن کے علاوہ مزید 23 ہزار خاندانوں کو راشن فراہم کیا گیا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ متاثرہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں نے مزید 21 ہزار خیموں اور 27 ہزار راشن کا مطالبہ کیا ہے جس کا مطلب ہے کہ سیلاب سے متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے لسبیلہ کے دورے کے موقع پر کہا کہ نہ صرف متاثرین کو ہر ممکن ریلیف فراہم کیا جائے گا بلکہ ان کے نقصانات کا ازالہ بھی کیا جائے گا۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں