نئے ہجری اسلامی سال کا آغاز

نئے ہجری اسلامی سال کا آغاز

قرآن کریم کے مطابق سورج اور چاند کی گردش اور روز و شب کا سلسلہ اللہ تعالی کی قدرت کاملہ کی نشانیوں میں سے ہے اور ہر مہینے کے آغاز پر چاند دیکھنے کے بعد اللہ تعالی سے امن و سلامتی اور برکت و عافیت کی دعا مانگنا احادیث سے ثابت ہے۔ اس لیے نئے قمری اسلامی سال کے آغاز کے موقع پر ہمیں اپنی انفرادی زندگیوں اور بحیثیت قوم و ملت اجتماعی زندگی کا جائزہ لے کر رجوع الی اللہ کا اہتمام کرنے اور نئے آنے والے ماہ و سال کے لیے نیا ولولہ، عزم اور جذبہ حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ وقت کا گزرنا ویسے بھی احساس ذمہ داری کا پیغام ہوتا ہے۔
نئے ہجری اسلامی سال کے آغاز کے موقع پر جب ہم اسلامی دنیا کی طرف ایک نظر دوڑاتے ہیں تو ہمارے لیے خوشیوں، مسرتوں اور کامرانیوں کا سامان کم کم دکھائی دیتا ہے جبکہ دود و الم اور انتشار و خلفشار کے مظاہر زیادہ دکھائی دیتے ہیں۔ گزشتہ دو عشروں سے اسلامی دنیا کے متعدد حصے خوفناک لڑائی، خانہ جنگی، نسل کشی اور تباہی و بربادی کے خونین مناظر سے پر رہے۔ ویسے تو اسلامی دنیا کے خلاف عالمی کفریہ طاقتوں کی یلغار پندرہویں صدی ہجری کے آغاز پر سرد جنگ کے خاتمے اور نیو ورلڈ آرڈر کے اعلان کے بعد سے ہی تیز ہوگئی تھی تا ہم نائن الیون کے بعد دنیا میں غیر معمولی صورت حال پیدا ہوگئی اور پہلے افغانستان اور پھر عراق پر باقاعدہ جارحیت کی گئی جس کے دوران لاکھوں مسلمان قتل، مجروح اور بے گھر ہوگئے۔ تقریباً ایک عشرے کی براہ راست مہم جوئی کے بعد جب عالمی طاقتوں نے یہ محسوس کیا کہ براہ راست جارحیت کے ذریعے اسلام کے ”خطرے“ کا مقابلہ کرنا زیادہ کارگر حکمت عملی نہیں ہے بلکہ اس سے مسلمانوں کے حوصلے مزید بلند اور عزائم مزید پختہ ہو رہے ہیں تو انہوں نے اسلامی دنیا کے خلاف ایک نئی قسم کی انتہائی خطرناک حکمت عملی اپنائی جس کا ہدف عالم اسلام کے مختلف حصوں میں نسلی، گروہی اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر انتشار و خلفشار اور خانہ جنگی کی فضا قائم کرنا تھا۔
چنانچہ 2011ء کے آغاز پر تیونس سے ”عرب بہار“ کے نام سے ایک پر اسرار تحریک کا آغاز ہوگیا جس نے دیکھتے ہی دیکھتے مصر، لیبیا، بحرین، یمن اور شام کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور کئی ممالک میں تخت الٹ دیے گئے اور پورا عالم عرب انقلاب کے نعروں سے گونجنے لگا۔ چونکہ اس تحریک کے نتیجے میں متعدد اسلامی ممالک میں کئی عشروں سے قابض ڈکٹیٹروں سے نجات کی امید پیدا ہوگئی تھی اس لیے اسلامی دنیا کے بیشتر عوام نے اس انقلابی لہر کی حمایت کی اور اس کا حصہ بنے مگر انجام کار یہ انقلاب نہ صرف عالم عرب بلکہ پورے عالم اسلام کے لیے ایک عذاب بن گیا۔ مصر میں کچھ عرصے کے لیے تو ایک عوامی و انقلابی حکومت قائم ہوگئی مگر پھر عالمی طاقتوں نے اپنا کھیل کھیلا اور مصر پر عبدالفتاح السیسی کی شکل میں ایک نئے سفاک ڈکٹیٹر کو مسلط کردیا گیا۔ تیونس جہاں سے عرب بہار کا آغاز ہوا تھا، مسلسل سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے۔ یمن اور شام بدترین خانہ جنگی کا شکار ہوگئے۔ صرف شام میں گزشتہ دس برسوں کے دوران سات لاکھ سے زائد انسان لقمہ اجل بنے جبکہ دسیوں لاکھ اس وقت بھی مختلف ممالک میں دربدر پھر رہے ہیں۔ دوسری جانب فلسطین کا مسئلہ امریکا کی جانب سے القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت ماننے اور فلسطینیوں کی رہی سہی امداد بھی بند کردینے کے بعد مزید گھمبیر ہوچکا ہے جبکہ کشمیر کے مسئلے کی صورت حال یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کے ہاتھوں نہتے کشمیریوں کے قتل عام میں ہرگز رتے دن کے ساتھ اضافہ ہورہا ہے اور دنیا اس پر صم بکم عمی بنی بیٹھی ہوئی ہے۔ اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ صورت حال یہ ہے کہ دنیا میں ابلاغی دہشت گردی کی توپیں بھی مسلمانوں پر آگ برسا رہی ہیں اور دنیا کے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے ایمان و عقیدت کے مرکز و منبع حضور رسالت ماب صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرکے امت مسلمہ کی مسلسل دل آزاری کی جارہی ہے۔
جہاں تک وطن عزیز پاکستان کا تعلق ہے تو اگرچہ پاکستان قوم، ہماری مسلح افواج اور قومی سلامتی کے اداروں نے انتھک محنت اور جد و جہد سے ملک کے اندر پنپنے والے فتنوں پر بہت حد قابو پالیا ہے اور الحمدللہ ہمیں کسی خانہ جنگی یا داخلی انتشار کا خطرہ درپیش نہیں ہے مگر خارجہ محاذ پر ہماری مشکیں کسنے کی تیاریاں مکمل ہیں اور ہمیں معاشی دباؤ کے ذریعے مارنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ وطن عزیز پاکستان کو معاشی لحاظ سے دیوالیہ کرنے کے لیے عالمی قوتوں کی جانب سے تمام منفی حربے استعمال کیے جارہے ہیں۔ تمام شرائط ماننے کے باوجود پاکستان کو آئی ایم ایف کے قرضے کی قسط کی ادائی میں ٹال مٹول سے کام لیا جارہا ہے جبکہ کئی عالمی مالیاتی اداروں نے بھی پاکستان کو قرضوں اور امداد کی فراہمی کو آئی ایم ایف کی قسط ملنے پر موقوف کیا ہوا ہے، اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ملک میں ڈالر کی قلت ہوگئی ہے اور پاکستانی کرنسی کے مقابلے میں ڈالر کے نرخ آسمان پر پہنچ گیا ہے جس کے نتیجے میں عوام خوفناک مہنگائی کی زد میں ہیں۔ اس صورت حال میں پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کو امریکا سے باضابطہ درخواست کرنا پڑی ہے کہ وہ پاکستان کو قرضے کی فراہی کے لیے آئی ایم ایف سے سفارش کرے۔ اسی سے زیادہ لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان کو قرضے کی فراہمی میں اصل رکاوٹ کون ہے۔
نئے اسلامی سال کے آغاز پر یہ عالم اسلام اور وطن عزیز پاکستان کا سارا منظر نامہ دنیا کے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے لیے کچھ حوصلہ افزا نہیں ہے مگر دوسری جانب یہ حقیقت بھی روز روشن کی طرح واضح ہے کہ مسلمانوں کی اس تمام تر مظلومیت و مقہوریت کے باوجود ایک طرف اسلام دنیا میں سب سے تیزی سے پھیلنے والا مذہب بن چکا ہے تو دوسری طرف مسلمانوں کے مقبوضہ علاقوں کشمیر، فلسطین، افغانستان و غیرہ میں مسلمانوں کا جذبہ حریت بھی سلامت ہے۔ افغانستان میں اتحادی افواج کی ہزیمت کے بعد وہاں ایک اسلامی حکومت کا قیام عمل میں آچکا ہے جو تمام تر مشکلات اور رکاوٹوں کے باوجود کامیابی کے ساتھ چل رہی ہے۔ فلسطین کے مسلمانوں کا عزم ناقابل تسخیر ثابت ہوا ہے اور وہ اپنی سرزمین کا ایک انچ حصہ بھی صہیونیت کو دینے پر آمادہ نہیں۔ پوری اسلامی دنیا کے نوجوانوں میں امت مسلمہ کے مفادات سے وابستگی کے جذبات بڑھ رہے ہیں اور ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے جدید وسائل و ذرائع کا استعمال روز افزوں ہے۔ یہ ایک خوشگوار احساس ہے جو مسلمانوں کو نئے سال میں ایک نئے عزم کے ساتھ جینے اور حالات کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ دیتا ہے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں