شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید:

مسالک اور مذاہب کی توہین غیرمہذب لوگوں کا کام ہے

مسالک اور مذاہب کی توہین غیرمہذب لوگوں کا کام ہے

خطیب اہل سنت زاہدان نے محرم الحرام کی آمد کی جانب اشارہ کرتے ہوئے سب مسالک اور مذاہب کی مقدسات کے احترام کرنے پر زور دیتے ہوئے بین الاقوامی قراردادوں کی رو سے مذہبی آزادی اورمختلف ملکوں میں اہل تشیع کی مجالس عزا اور ماتمی جلوسوں کی سکیورٹی یقینی بنانے پر تاکید کی۔
سنی آن لائن نے مولانا عبدالحمید کی آفیشل ویب سائٹ کے حوالے سے رپورٹ دی، ممتاز عالم دین نے انتیس جولائی دوہزار بائیس کو زاہدان میں ہزاروں فرزندانِ توحید سے خطاب کرتے ہوئے کہا: پست لوگوں نے پوری تاریخ میں پاک اور مظلوم ہستیوں کا خون بہایاہے جیسا کہ سیدنا عمر، سیدنا عثمان اور سیدنا علی رضی اللہ عنہم کو شہید کردیا گیا۔ سیدنا علی کو رمضان المبارک میں، سیدنا عثمان کو ذوالحجہ میں اور سیدنا عمر کو ذوالحجہ کے آخر اور محرم کے شروع میں شہادت کی موت نصیب ہوئی۔
انہوں نے مزید کہا: اہل بیت(رض) خاص طورپر حضرت علی اور حضرت حسین(رض) کا تعلق سب مسلمانوں اور حریت پسندوں سے ہے۔ ان کی محبت مسلمانوں کا مشترکہ عقیدہ ہے۔ حضرت امام حسین(رض) کی تحریک ہم سب مسلمانوں اور حریت پسند لوگوں کے لیے عملی مثال ہے۔
شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے کہا: ہمارا عقیدہ ہے کہ دنیا کے سب لوگ اپنے اپنے مذہبی مسائل پر عمل کرنے میں آزاد ہیں۔ لوگوں کو ان کے مذہبی مسائل سے روکنا غلط ہے؛ چاہے شیعہ ہوں یا سنی۔ جب ایک بین الاقوامی قرارداد پر دستخط ہوا ہے کہ لوگوں کے مذہبی اور عقیدتی امور میں مداخلت نہیں ہونی چاہیے، اس معاہدے پر عمل کرنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا: پہلی بات یہ ہے کہ اہل تشیع حضرات جو محرم میں ماتمی جلوس نکالتے ہیں اور مجلس عزا قائم کرتے ہیں، دنیا کے جس کونے میں رہتے ہیں، انہیں اپنے مسلک کے مطابق تقریبات منعقد کرنے کی آزادی حاصل ہو اور وہاں کے حکام انہیں سکیورٹی فراہم کریں۔
انہوں نے مزید کہا: پہلی بات یہ ہے کہ اہل تشیع حضرات جو محرم میں ماتمی جلوس نکالتے ہیں اور مجلس عزا قائم کرتے ہیں، دنیا کے جس کونے میں رہتے ہیں، انہیں اپنے مسلک کے مطابق تقریبات منعقد کرنے کی آزادی حاصل ہو اور وہاں کے حکام انہیں سکیورٹی فراہم کریں۔ دوسری بات یہ ہے کہ ایک دوسرے کا احترام کریں اور کسی بھی مسلک کی مقدسات کی توہین سے گریز کیا جائے۔ مقدسات کی گستاخی بہت سنگین غلطی ہے۔ قرآن پاک نے ہم مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ دوسروں کے باطل معبودوں کی بھی توہین نہ کریں تاکہ کہیں وہ اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی نہ کریں۔
مولانا عبدالحمید نے کہا: تمام اسلامی مسالک اور حتی کہ دیگر مذاہب کی مقدسات کا احترام ضروری ہے۔ توہین اور گستاخی کرنا جاہل اور غیرمہذب لوگوں کا کام ہے۔ توہین کرنا کسی بھی دین اور مذہب میں درست نہیں ہے۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے اپنے بیان کے آخر میں ملک اور صوبہ میں حالیہ بارشوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: سب سے پہلے قول و عمل سے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں اس عظیم نعمت اور بارش کی رحمت پر۔ الحمدللہ چشموں کے پانی جاری ہوچکے ہیں اور ڈیموں میں پانی آگیا ہے۔ بعض علاقوں میں کچھ شہری متاثر ہوچکے ہیں اور ان کے ساتھ تعاون اور ان کے غموں کا ازالہ کرنا ضروری ہے۔

حرمین شریفین سے محبت ہمارے دل و جان میں پیوست اور ایمان کا لازمی جز ہے
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان کے سنی نمازیوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا: آج شہر اور نماز جمعہ کی فضا نورانی ہے اور اس کی وجہ حاجیوں کی آمد اور مجلس میں ان کی حاضری ہے۔ حاجی سرزمین وحی اور مقربین کے شہروں سے ایمان کی عطر لے کر آئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: حرمین شریفین سے محبت ہمارے ایمان کا حصہ ہے اور سب مسلمان ان مقدس مقامات سے پیار کرتے ہیں۔ مکہ مکرمہ خدا کا شہر ہے جہاں اللہ کا گھر واقع ہے اور اسلام کا ایک اہم رکن یعنی حج وہاں ادا ہوتاہے۔ مدینہ منورہ وحی نازل ہونے کی جگہ ہے جہاں نبی کریم ِ نے اپنی زندگی کے آخری سال گزارے اور وہیں ان کی تدفین ہوئی۔
خطیب اہل سنت نے حج سے واپس آنے والے حاجیوں کو نصیحت کرتے ہوئے کہا: حجاج جس توبہ پر انہوں نے مکہ اور عرفات میں کی ہے ، پابند رہیں۔ حج کی قبولی کی نشانی یہ ہے کہ حاجی کی زندگی میں تبدیلی آئے اور حج کے بعد والے اعمال حج سے پہلے بہتر ہوجائیں؛ باجماعت نماز پڑھے اور تقویٰ و پرہیزگاری کا خیال رکھے۔
انہوں نے مزید کہا: حرمین شریفین اطاعت شعاری، اخلاص اور للہیت کے مقامات ہیں؛ ہمارے بزرگ اسی تقویٰ، للہیت اور اطاعت سے اونچے مقامات پر فائز ہوئے اور ان ہی اعمال کی برکت سے یہ سرزمین دنیا میں مقبول و محبوب ہے۔
مولانا عبدالحمید نے کہا: تقویٰ اور للہیت ہی سے بندہ اپنے رب کا مقرب اور محبوب بن جاتاہے اور اللہ تک پہنچتاہے۔ اسی دولت سے انبیا(ع) اور اولیا و بزرگانِ دین نیک نامی اور مقبولیت حاصل کرچکے ہیں۔ لہذا حاجی حضرات بھی اپنی توبہ پر استقامت کریں اور حج میں پڑھی جانے والی نمازوں اور نیک کاموں کو اب بھی جاری رکھیں۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں