مولانا محی الدین بلوچستانی؛ حیات و خدمات

مولانا محی الدین بلوچستانی؛ حیات و خدمات

ایرانی بلوچستان کے ممتاز عالم دین مولانا محی الدین بلوچستانی صوبہ سیستان بلوچستان کے علاقہ ’سیستان‘ کے تپہ دز نامی گاؤں میں 1950ء میں پیدا ہوئے۔ مولانا محی الدین کے والد سمیت دیگر قریبی اعزہ برادری اور دین کی خدمت میں مشہور تھے۔ آپؒ کے والد دینی مبلغ اور اپنے گاؤں کے پیش امام تھے جنہوں نے آخری دم تک امامت کی۔
اسی طرح، صوبہ بلوچستان کے صدرمقام کوئٹہ میں واقع جامعہ عربیہ تجوید القرآن کے بانی، مولانا قاری غلام نبی ؒ بھی مولانا محی الدین کے چچا تھے۔ مذکورہ جامعہ کا شمار بلوچستان کے ممتاز دینی مدارس میں ہوتاہے جہاں سینکڑوں طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔

علمی اسفار
دینی تعلیم کے حصول کے لیے، مولانا محی الدین نے کوئٹہ کا رخ کیا۔ تین سال جامعہ تجوید القرآن میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد،آپؒ مزید اعلیٰ تعلیم کے لیے کراچی روانہ ہوئے۔
کراچی میں، مولانا بلوچستانی نے ممتاز عالمی دینی ادارہ جامعہ فاروقیہ میں داخلہ لیا۔ جامعہ کے بانی مولانا سلیم اللہ خان رحمہ اللہ کے صاحبزادے مولانا ڈاکٹر عادل خان شہید اسی جامعہ میں مولانا محی الدین کے ہم سبق ساتھی اور کلاس فیلو تھے۔ کراچی میں آپؒ نے بعض دیگر شخصیات سے بھی علمی و دینی استفادہ کیا جن میں مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمدشفیع اور جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے شہید شیخ الحدیث مولانا مفتی نظام الدین شامزئیؒ شامل ہیں۔
مولانا محی الدین بلوچستانی نے کراچی کے بعد، جنوبی پنجاب کے ضلع رحیم یارخان کا رخ کیا جہاں آپ نے شیخ الحدیث والتفسیر مولانا عبدالغنی جاجروی رحمہ اللہ کے قائم کردہ جامعہ اسلامیہ بدرالعلوم حمادیہ میں تعلیم حاصل کی اور وہیں دورہ حدیث کی کتابیں بھی پڑھیں۔

خراسان کے دیس میں
ایران کے اسلامی انقلاب (1979ء) کے ابتدائی سالوں میں جب مولانا محی الدین اپنے آبائی علاقہ واپس آئے، جامعہ دارالعلوم زاہدان کے بانی مولانا عبدالعزیز ملازادہ رحمہ اللہ نے مولانا محی الدین کو خراسان کے علاقہ صالح آباد کے عوام کی دینی خدمت کے لیے بھیجا۔ آپؒ ایک ایسے علاقے میں خدمت کے لیے گئے جہاں اکثر لوگوں کا تعلق بلوچ برادری سے تھا اور مولانا محی الدین ان کی روایات اور ثقافت سے واقف تھے۔
صالح آباد میں مولانا محی الدین نے ایک مسجد کی امامت سے خدمت کا آغاز کیا۔ لیکن آپ ہرگز ایک گاؤں یا اپنی مسجد تک محدود نہ تھے اور آپؒ کی علمی، اصلاحی اور ثقافتی سرگرمیوں کا دایرہ پورے خراسان تک وسیع تھا۔ مولانا محی الدین اس سے بڑے پیمانے پر پوری سنی برادری کی خدمت کا منصوبہ رکھتے تھے۔
مولانا محی الدین نے صالح آباد میں ایک جامع مسجد تعمیر کی جہاں کوئی جامع مسجد نہیں تھی۔ اس شہر میں سنی برادری کا کوئی دینی مدرسہ نہیں تھا اور علما کی تعداد بھی کافی کم تھی۔ مذکورہ جامع مسجد کی تعمیر اس علاقے میں بڑا فائدہ مند ثابت ہوئی اور اس عظیم خدمت کی وجہ سے بچوں اور بڑی عمر کے لوگوں کو دینی تعلیم کے لیے مسجد کی صورت میں ایک درسگاہ میسر ہوئی جہاں وہ ایک دوسرے سے رابطے میں بھی رہتے تھے۔

مدرسہ تعلیم القرآن کا قیام
ایک جامع مسجد تعمیر کروانے کے بعد، مولانا محی الدین نے علاقے کی ضرورتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک دینی مدرسے کے قیام پر کام شروع کیا، چنانچہ 1982ء کو انہوں نے مدرسہ تعلیم القرآن کا سنگِ بنیاد صالح آباد میں رکھا۔بڑی مشقت سہنے کے بعد اور سکیورٹی حکام کی رکاوٹوں اور دھمکیوں کے باوجود تین سال بعد اس مدرسے کی عمارت قائم ہوئی۔
مذکورہ مدرسے کی تعمیر میں انہوں نے کافی مشقت اٹھائی۔ مقامی لوگ اکثر غریب تھے اور انہیں یہ مدرسہ بنانے میں کافی محنت کرنی پڑی۔ مولانا محی الدین چندہ اکٹھے کرنے کے لیے مختلف دیہات اور بستیوں میں جاتے اور لوگوں سے پیسے وصول کرتے تھے۔
اس مدرسے کی افتتاحی تقریب میں وقت کے نامور علمائے کرام نے شرکت کی جن کا تعلق خراسان اور بلوچستان سے تھا۔ دارالعلوم زاہدان کے صدر دارالافتا مولانا مفتی خدانظر، سابق رکن پارلیمان مولانا نظرمحمد دیدگاہ، مولانا عبدالملک شہید (مولانا عبدالعزیز کے صاحبزادہ) اور سراوان کے مولانا شہداد مسکانزئی رحمہم اللہ ان میں شامل تھے۔
مولانا محی الدین صالح آباد میں جو زاہدان سے 926 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، دارالعلوم زاہدان کے بانی اور ایرانی بلوچستان کے نامور عالم دین مولانا عبدالعزیز ملازادہ رحمہ اللہ کے مشوروں اور رہ نمائیوں کے مطابق خدمت کیا کرتے تھے۔ مولانا عبدالعزیز ؒ نے ایران کے مختلف علاقوں میں عوام کے تقاضوں اور ضرورتوں کے پیش نظر بعض علمائے کرام کو بطورِ امام و خطیب اور دینی مبلغ بھیجا تھا اور یہ سلسلہ اب ان کے جانشین مولانا عبدالحمید کی سرپرستی میں جاری ہے۔
ایک مختصر عرصے کے بعد، مدرسہ تعلیم القرآن خطے کا ایک بڑا مدرسہ بن گیا جس نے عوام کی بیداری میں کلیدی کردار ادا کیا اور تشنگانِ علوم نبوی نے اس مدرسے کا رخ کیا۔ اس مدرسے کی خدمات کا دایرہ بڑھتا گیا اور پورے علاقے میں اس کا اثر و رسوخ بڑھنے لگا۔ مولانا محی الدین کی گرفتاری سے قبل اس مدرسے کے طلبا کی تعداد لگ بھگ ڈھائی سو تھی؛ اس دوران میں خراسان کے کسی بھی دینی ادارے میں اتنے طلبہ نہیں تھے۔
رمضان المبارک کا مہینہ جب آتا، مولانا محی الدین اپنے شاگردوں اور طلبہ کو مختلف بستیوں اور علاقوں میں تشکیل کرتے تاکہ لوگوں کو قرآن اور ضروری مسائل سکھائیں اور نمازوں میں بھی ان کی امامت کریں۔
آپؒ نے بطور مہتمم مدرسے کے امور میں طلبہ و اساتذہ پر کافی توجہ دی اور دن رات مدرسے میں وقت گزارا۔ ان کی انتھک محنت نے طلبہ و اساتذہ پر مثبت اثر چھوڑا اور انہیں مزید محنت اور لگن سے تعلیمی سلسلہ جاری رکھنے پرابھارا۔اسی وجہ سے مدرسہ دن دگنی رات چگنی ترقی کا سفر طے کرنے لگا۔
1996ء میں مذکورہ مدرسے کو حکام نے بند کردیا اور یہ بندش چار سالوں تک جاری رہی۔ تقریبا ایک سال تک بعض مسلح اداروں نے اس مدرسے کو اپنی چھاؤنی بنائی۔ لیکن بعد میں دوبارہ تعلیمی سلسلہ جاری رکھنے کی سرکاری اجازت ملی اس شرط پر کہ صرف حفظ و ناظرہ کی کلاسیں قائم ہوں اور مدرسۃ البنات تک محدود رہے۔
یاد رہے اسی مدرسے کے سامنے مولانا محی الدین کا ذاتی مکان تھا۔ جب مولانا اس نئے گھر میں منتقل ہونے والے تھے کہ انہیں گرفتار کیا گیا اور مذکورہ مکان کو حکام نے سرکاری تحویل میں لیا اور کئی سال گزرنے کے بعد اسے بلڈوز کرکے مسمار کیا گیا۔

عوام سے مضبوط تعلق
ایران میں حالات کچھ اس طرح ہیں کہ علمائے کرام دینی خدمت کے لیے عوام سے جڑے رہنے کے بغیر نہیں رہ سکتے۔ مولانا محی الدین بلوچستانی کا تعلق صالح آباد اور آس پاس کے شہروں سرخس اور تربت جام کے عوام سے کافی مضبوط تھا۔ آپؒ قبائلی عمائدین کا احترام کرتے تھے اور ہمیشہ عوام سے رابطہ میں رہتے تھے۔ مولانا ؒ عوام کو درست عقائد بھی تعلیم دیتے تھے اور ساتھ ساتھ ان کی روایات کا بھی احترام کرتے تھے۔
بیانِ توحید اور بدعات و خرافات کی بیخ کنی کے سلسلے میں مولانا محی الدین نے بڑی خدمات سرانجام دی؛ آپؒ ہمیشہ توحید بیان کرنے والی قرآنی آیات کو عوام کے سامنے تلاوت کیا کرتے تھے جن سے ان کے عقائد بھی ٹھیک ہوتے تھے اور شرک آلود اور خرافات پر مبنی روایات اور عقائد کا رد بھی ہوتا تھا۔ مولانا محی الدین حق گوئی کے پاداش میں بہت سی سختیاں برداشت کرکے کلمہ حق زبان پر لانے میں کسی کی پرواہ نہ کی۔ آپؒ نے محبت، حوصلہ اور احترام سے لوگوں کی مخلصانہ خدمت کی۔

پسِ دیوار زنداں اور جلاوطنی
پہلی بار 1985ء میں مولانا محی الدین کو انٹیلی جنس اہلکاروں نے گرفتار کرکے مشہد جیل بھیج دیا۔ اس جیل میں انہوں نے ایک سال گزارا۔ اس کے بعد انہیں صوبہ بدر کرکے صوبہ اصفہان کے ایک چھوٹے شہر میں پانچ سال جلاوطن رکھا گیا۔مولانا محی الدین نجف آباد شہر میں سخت گزارتے تھے اور بعض اوقات پیٹ بھرنے کی خاطر محنت مزدوری بھی کیا کرتے تھے۔ نجف آباد میں پانچ سال جلاوطنی کی سزا گزارنے کے بعد، انہوں نے 1991ء کو صالح آباد کا رخ کیا۔ لیکن سکیورٹی حکام اور حساس اداروں نے انہیں فورا صالح آباد چھوڑنے کا حکم دیا چنانچہ انہیں زاہدان آنا پڑا۔
زاہدان میں مولانا محی الدین چار سال سے کم عرصہ رہے اور اس دوران انہیں مختلف پابندیوں کا سامنا بھی تھا۔ جب افغانستان میں اسلامی تحریک طالبان نے اپنی تحریک آگے بڑھائی اور امارت اسلامیہ کا اعلان کیا، مولانا محی الدین نے افغانستان کی جانب ہجرت کرنے کو ترجیح دی۔ افغانستان میں ان کا زیادہ تر قیام قندھار میں رہا۔ اس دوران ان کی زیادہ تر سرگرمیاں اصلاحی اور تبلیغی تھیں۔ دوہزار ایک میں نائن الیون واقعے کے بعد جب مغربی افواج نے افغانستان پر حملہ کیا، مولانا محی الدین نے پاکستان کے شہر کوئٹہ کو اپنا مسکن بنایا اور زندگی کے آخری سالوں اور ایام کو اسی شہر میں گزارا۔

سانحہ وفات
مولانا محی الدین زندگی کے آخری ایام میں دل کی بیماری میں مبتلا تھے اور اسی بیماری کو اللہ تعالیٰ نے ان کی موت کا سبب بنایا۔ مولانا بلوچستانی 29 مئی 2020ء کو بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں انتقال کرگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں