ایران: سنی عالم دین حساس ادارے کی حراست میں انتقال کرگئے

ایران: سنی عالم دین حساس ادارے کی حراست میں انتقال کرگئے

بندرعباس (سنی آن لائن) ایران کے جنوبی صوبہ ہرمزگان کے ضلع سیریک سے تعلق رکھنے والے بلوچ سنی عالم دین “مولوی موسیٰ رحیمی” بندرعباس میں واقع سپاہ پاسداران کی انٹیلی جنس برانچ کی حراست میں اتوار (چوبیس جولائی) کو انتقال کرگئے۔
اہل سنت ایران کی آفیشل ویب سائٹ “سنی آن لائن” کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، مولوی رحیمی کو تقریبا دو ماہ قبل حساس ادارے کے اہلکاروں نے سیریک میں واقع ’مہمانی‘ گاؤں سے اپنی حراست میں لی تھی۔
ضلع سیریک صوبہ ہرمزگان کے مشرق میں بحر مکران کے ساحل پر واقع ہے جس کی آبادی سنی بلوچ برادری پر مشتمل ہے۔
سکیورٹی اہلکاروں نے اتوار کے دن مرحوم کے بھائی کو اطلاع دی تھی کہ ان کے قیدی کی طبیعت خراب ہے۔ جب مولوی موسیٰ کے بھائی بندرعباس پہنچے، تو انہیں ان کے بھائی کی موت کی خبر دی گئی۔ بندرعباس صوبہ ہرمزگان کا صوبائی دارالحکومت ہے۔
مولوی موسیٰ رحیمی جامعہ عین العلوم گشت کے فاضل تھے جو ایرانی بلوچستان کے ضلع سراوان میں واقع ہے۔ موصوف اپنے گاؤں کے امام اور خطیب تھے۔
ممتاز دینی و سماجی رہ نما، مولانا عبدالحمید نے اس واقعے پر مرحوم کے اہل خانہ اور صوبہ ہرمزگان کے علما اور عوام سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔
جامعہ دارالعلوم زاہدان کے صدر نے سکیورٹی حکام سے مطالبہ کیا ہے اس واقعے کی انکوائری کرکے حقایق سامنے لائیں۔
مولوی موسیٰ رحیمی کی گرفتاری اور موت کی اصل وجوہات تاحال نامعلوم ہیں۔
شورائے مدارس اہل سنت جنوب (ہرمزگان، فارس، بوشہر) نے بیان شائع کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے ابہامات دور کرنے اور رائے عامہ کو حقایق سے آگاہ کرنے کا مطالبہ پیش کیا ہے۔
ایرانی کردستان کے ممتاز عالم دین اور رہ نما ’کاک حسن امینی‘ نے بھی تعزیتی پیغام شائع کرتے ہوئے مولوی رحیمی کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ انہوں نے لکھاہے سکیورٹی اور عدلیہ کے حکام قانونی اور عقل سے جوڑ رکھنے والے دلائل سامنے لائیں اور اس سانحے کی انکوائری کریں۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں