‘پہلا مشن مکمل، اب عمران خان کو واپس اپنی کرسی پر لے کر آئیں گے’

‘پہلا مشن مکمل، اب عمران خان کو واپس اپنی کرسی پر لے کر آئیں گے’

حکومت میں شامل جماعتیں چوہدری پرویز الہیٰ کو وزیرِ اعلیٰ پنجاب بنانے کے سپریم کورٹ کے حکم پر شدید تنقید کر رہی ہیں۔ تاہم پاکستان تحریکِ انصاف نے عدالتی فیصلے پر بدھ کو جشن منانے کا اعلان کیا ہے۔
سپریم کورٹ کے ڈپٹی اسپیکر رولنگ کیس کے فیصلے کے بعد چوہدری پرویز الہیٰ وزیرِ اعلیٰ پنجاب بن گئے ہیں اور انہوں نے منگل اور بدھ کی درمیانی شب صدر عارف علوی سے ایوانِ صدر میں اپنے عہدے کا حلف بھی اٹھا لیا ہے۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد حمزہ شہباز وزیرِ اعلیٰ پنجاب نہیں رہے لیکن حکومت میں شامل جماعتوں پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی، جمعیت علماء اسلام (ف) اور دیگر نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر کڑی تنقید کی ہے۔
البتہ نئے وزیرِ اعلیٰ چوہدری پرویز الہیٰ کے صاحبزادے مونس الہیٰ کہتے ہیں کہ اللہ کے فضل سے ایک مشن پورا ہو گیا ہے اور اب دوسرے مشن کے لیے تن من دھن کی بازی لگائیں گے۔
انہوں نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ اب عمران خان کو واپس اپنی کرسی پر لے کر آئیں گے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے عدالتی فیصلے پر کہا کہ عدلیہ کی ساکھ کا تقاضا یہی تھا کہ فل کورٹ تشکیل دیا جاتا تاکہ انصاف نہ صرف ہوتا بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آتا۔ ان کے بقول عدالتی فیصلے سے قانون دانوں، سائلین، میڈیا اور عوام کی حصولِ انصاف کے لیے توقعات کو دھچکا لگا ہے۔
وزیرِ اعظم کا مزید کہنا تھا کہ کوئی ادارہ کسی دوسرے کے اختیار میں مداخلت نہیں کرسکتا، آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔
مسلم لیگ (ن) کی ہی نائب صدر مریم نواز نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ حکومت کو سخت مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور اس موقع پر اٹھنا چاہیے۔ لیڈر ایسے حالات سے بنتے ہیں جب انہیں کسی مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
پیپلز پارٹی کے رہنما سعید غنی کہتے ہیں عدالتوں سے وزرائے اعظم قتل ہوتے، ہٹتے دیکھے لیکن وزیرِ اعلیٰ بنتے پہلے بار دیکھا ہے۔
انہوں نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ہمیں بھی اپنی جماعت کے ساتھ لفظ ‘انصاف’ کا اضافہ کر دینا چاہیے تاکہ ہم بھی انصافی اداروں کو اپنے لگنے لگیں۔
جے یو آئی (ف) اور پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے جمہوریت کا عدالتی قتل کیا ہے۔ ان کے بقول، ہم نے کبھی فوجی آمریتوں کو قبول نہیں کیا تو عدالتی مارشل لاؤں کو بھی کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔
واضح رہے کہ 22 جولائی کو حمزہ شہباز کے وزیرِ اعلیٰ منتخب ہونے کی رولنگ ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی دوست محمد مزاری نے دی تھی جس کے خلاف تحریکِ انصاف کے وزارتِ اعلیٰ کے لیے امیدوار چوہدری پرویز الہیٰ نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔
چوہدری پرویز الہیٰ کی درخواست پر سماعت چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیر اختر پر مشتمل تین رکنی بینچ نے کی تھی۔
مذکورہ ججز پر مشتمل بینچ پر سماعت سے قبل ہی حکمراں اتحاد نے تنقید کرتے ہوئے فل کورٹ تشکیل دینے کی درخواست کی تھی جسے سپریم کورٹ نے مسترد کر دیا تھا۔
سپریم کورٹ کا فیصلہ چوہدری پرویز الہیٰ کے حق میں آنے کے بعد چیئرمین تحریکِ انصاف عمران خان نے اعلیٰ عدالت کے ججز کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ دھمکیوں، دھونس کے خلاف اور آئین و قانون کے ساتھ کھڑے رہے۔
عمران خان نے اعلان کیا کہ بدھ کو وہ یومِ تشکر منائیں گے اور پاکستان کے عوام اور خاص طور پر اپنی حمایت کرنے والوں کے ساتھ جشن منائیں گے۔
واضح رہے کہ پنجاب میں چوہدری پرویز الہیٰ کی حکومت کے قیام کے بعد پی ٹی آئی کی ملک کے تین صوبوں میں حکومت ہو گی۔ عمران خان کی جماعت کی خیبرپختونخوا میں حکومت ہے جب کہ بلوچستان میں وہ اتحادی حکومت کا حصہ ہے اور پنجاب میں اس کا مسلم لیگ (ق) کے ساتھ اتحاد ہے۔
پنجاب کے نئے وزیرِ اعلیٰ چوہدری پرویز الہیٰ بدھ کو عمران خان سے ملاقات کریں گے اور کابینہ کے لیے وزرا کے ناموں پر مشاورت بھی کی جائے گی۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ سرکاری ٹی وی پر ایوانِ صدر سے وزیرِ اعلیٰ کا حلف براہِ راست نہ دکھانے کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور وہ اگلے مہینے نوکریوں پر نہیں رہیں گے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ سیکریٹری انفارمیشن نے ایک کریمنل کے احکامات کی بجا آوری میں اپنی ذمے داریوں سے انحراف کیا اور اس حرکت کو نہیں بھولیں گے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں