بابائے بلوچی مولانا خیر محمد ندوی رحمۃ اللہ علیہ

بابائے بلوچی مولانا خیر محمد ندوی رحمۃ اللہ علیہ

 یادش بخیر۔۔۔۔ جب شاہد حیات ایڈیشنل آئی جی سندھ تھے تو ایک دن وہ لیاری میں آئے اور خطاب کیا۔ دوران ِ خطاب انھوں نے لیاری کی سربرآوردہ شخصیات کا نام لیا، جن میں سے ایک نام مولانا خیر محمد ندوی کا تھا۔ لیاری سے تعلق ہونے کے باوجود میں ان کا نام پہلی بار سن رہا تھا۔ بیٹھے بیٹھے ذہن میں ہی خاکہ بنا دیا کہ یہ شخص ہندوستان سے ہجرت کر کے کراچی کے علاقے لیاری میں آبسے ہوں گے۔ ندوۃ العلماء کے طالب ِ علم ہونے کی وجہ سے بہت سارےعلمی کام کیے ہوں گے۔ لیکن میرا یہ خیال اس وقت مفروضہ ثابت ہوا، جب میں نےبلوچ سیکنڈری اسکول لیاری سے ملحق مدنی مسجد میں ایک کتاب دیکھی۔کتاب کا نام تھا: عملانی فضیلتاں۔ یہ دراصل مولانا زکریا کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ کی مشہور کتاب “فضائل اعمال” کا بلوچی ترجمہ تھا۔  پھر میں نے انٹرنیٹ نگری کا رخ کیا تو اقبال کلمتی کے بلاگ پر  “بلوچی ءِ اولی کتاب” کے نام سے ان کی ایک تصنیف سر سری طور پر پڑھنے کا موقع ملا۔ میں بلوچی سے تاحال نا بلد ہوں۔ سو اس کتاب سے مکمل طور پر استفادہ نہ کرسکا۔

میرے اس مضمون کو کافی سراہا گیا، مگر یار وں دوستوں نے کہا کہ آپ کو اردو میں بھی ان پر ایک مضمون لکھنا چاہیے، کیوں کہ ہمارے ہاں زیادہ تر  لوگ انگریزی سے نا بلد ہیں۔اس لیے آج ان پر اردو میں ایک مضمون تحریر کر رہا ہوں۔

مولانا خیر محمد ندوی 18 دسمبر، 1909ء کو  بلوچستان میں پیدا ہوئے۔ ابھی کم سن تھے کہ ان کا خاندان لیاری میں آبسا۔انھوں  نے  ابتدائی تعلیم مدرسہ احرار الاسلام لیاری سے حاصل کی۔ پھر مدرسہ مظہر العلوم کھڈہ، لیاری میں  چلے گئے۔یاد رہے کہ مدرسہ مظہر العلوم کراچی کا سب سے قدیم دینی ادارہ ہے، جس کا سنگ ِ بنیاد 1884ء میں کراچی کے ایک ممتاز عالم ِ دین  مولانا عبد اللہ میمن  نے رکھا تھا، لیکن اس مدرسے کی اصل وجہ ِ شہرت مولانا صادق کھڈوی بنے، جو مولانا عبد اللہ میمن کے فرزند ارجمند اور شیخ الہند مولانا محمود الحسن رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد ِ خاص تھے۔ مولانا صادق کھڈوی بھی لیاری کے ایک عظیم سپوت گزرے ہیں۔ شیخ الہند  کی پر خلوص اور حریت سے بھر پور تحریکوں کے دست ِ راست رہے۔ ان کے دور میں مدرسہ مظہر العلوم حریت سے بھر پور تحریکوں کی وجہ سے کافی مشہور ہوگیا۔ مولانا ایک کارنامہ یہ بھی ہے کہ انھوں نے مدرسہ مظہر العلوم کا الحاق دا ر العلوم دیوبند سے کرایا۔  مولانا عبید اللہ سندھی رحمۃ اللہ علیہ بھی اس مدرسے کے طالب ِ علم رہے۔

مظہر العلوم سے عربی اور مذہبی تعلیم حاصل کرنے کے بعد  خیر محمد لکھنؤ چلے گئے اور وہاں معروف دینی درس گاہ  ندوۃ العلماء سے تعلیم حاصل کی۔ اسی وجہ سے ندوی کہلا تے ہیں۔ 1933ء میں وہ لکھنؤ سے واپس آگئے اور یہاں معلمی  کو اپنا پیشہ بنایا۔ سترہ سالوں تک مختلف گورنمنٹ اسکولوں میں پڑھاتے رہے۔ایک پرائمری اسکول میں ہیڈ ماسٹر کی حیثیت سے بھی خدمات سر انجام دیں۔ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ وہ لیاری نوالین میں قائم بلوچ سیکنڈری اسکول کے بانی تھے۔یہ تعلیمی ادارہ 1950ء کو معرض ِ وجود میں آیا۔ 1972ء میں یہ گورنمنٹ اسکول بن گیا۔

مولوی صاحب ماہر ِ تعلیم تو تھے ہی، لیکن ساتھ ساتھ مصنف و ادیب بھی تھے۔ بلوچی زبان کے لیے ان کی خدمات گراں قدر ہیں۔ “بلوچی قاعدہ”، “اخلاق گلدان”،   “کچکول” ان کی مشہور بلوچی تصانیف ہیں۔ تقسیم ِ ہند کے بعد  انھوں نے پہلے بلوچی ادبی رسالے کا اجراء کیا، جس کا نام “اومان” تھا۔ یہ ادبی رسالہ پہلی بار 1951ء میں شائع ہوا۔ یہ گیارہ سال تک کامیابی سے شائع ہوتا رہا۔ اس کے بعد اس پر پابندی لگا دی گئی، کیوں کہ اس رسالے میں داد شاہ نامی ایک ایرانی باغی کی کہانی شائع ہوئی تھی۔ یہاں یہ بات بھی قابل ِ ذکر ہے کہ 25 دسمبر، 1949ء کو ریڈیو پاکستان نے ان کی سرپرستی میں بلوچی پرگرام نشر کیا۔ بلوچی زبان کے لیے ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

اردو وکی پیڈیا کے مطابق:

“آپ کی خدمات ہمہ جہت اور متنوع ہیں لہٰذا آسانی کی خاطر بلوچی زبان کے فروغ کے سلسلے میں آپ کی جدوجہد کو چند دائروں میں تقسیم کرکے اس کا مختصر جائزہ پیش کریں گے۔

(الف): بلوچی میں اخبار و جرائد کا اجراء:

مولانا خیر محمد ندوی نے بلوچی زبان کو فروغ و استحکام بخشنے کے واسطے مختلف زمانوں میں درج ذیل اخبار و جرائد نکالے:

(1)… کراچی سے “ینگ بلوچستان ” کے نام سے اخبار

(2)…ماہنامہ “اومان”1951ء تا 1961ءکو اس وقت نکالا، جب بلوچی رسم الخط بھی وجود میں نہیں آیا تھا۔

(3)…ماہنامہ “اولس”، میر جعفر خان جمالی کے ہاتھ سے افتتاح کروایا۔

(4)…ماہنامہ” سوغات” کراچی، 1978ء کو یہ دینی تبلیغی مجلہ جاری فرمایا۔

(ب): ریڈیو پاکستان پر بلوچی پروگراموں کا سلسلہ:

(1)… مولانا خیر محمد ندوی نے “بلوچ ایجوکیشنل سوسائٹی ” کے توسط سے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کراچی میں بلوچوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے، لہٰذا ان کیلئے ریڈیو پاکستان میں بلوچی زبان میں پروگراموں کے لیے وقت مختص کیا جائے، چنانچہ آپ کی کوششوں سے 25 دسمبر 1949ء کو ریڈیو پاکستان سے پہلی مرتبہ بلوچی پروگراموں کا سلسلہ شروع ہوگیا ۔ آپ اس پروگرام کے انچارج متعین ہوگئے۔

1955ء کو ایک وفد کے ہمراہ آپ نے وفاقی وزیر اطلاعات پیر علی محمد راشدی سے مطالبہ کیا کہ بلوچی زبان کا مرکزی ہیڈ کوارٹر کوئٹہ ہے۔ لہذا وہاں سے بھی بلوچی پروگرام شروع کئے جائیں، یہ مطالبہ بھی منظور ہوا۔

(ج): بلوچی مشاعروں و مذاکروں کا اہتمام:

مولانا ندوی نے بلوچ ادیبوں اور شاعروں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کیلئے مختلف مواقع فراہم کئے، مشاعرے منعقد کئے، چنانچہ 1955ء میں ایک مشاعرے کا اہتمام کیا، بطور مہمان خصوصی وفاقی وزیر پیر علی محمد راشدی نے شرکت کی، اسی مشاعرے میں انہوں نے کوئٹہ سے ریڈیو پاکستان پر بلوچی پروگرام کی اجازت دی تھی۔

(د): بلوچی اکیڈمیوں کا قیام:

مولانا خیر محمد ندوی نے ایسے سماجی علمی اور تحقیقی ادارے اور انجمنیں قائم کیں، جہاں سے بلوچی زبان کی ترویج و اشاعت کا کام ہوسکے۔ مثلا:

(1)…قاضی سربازی اکیڈمی، 1990ء میں قائم کی۔

(2)…بہت پہلے 1950ء کو “بلوچ ایجوکیشنل سوسائٹی ” قائم کی، جس کے تحت متعدد تعلیمی ادارے وجود میں آئے، جیسے: 1950ء میں بلوچ پرائمری سکول کا قیام، 1961ء میں بلوچ سیکنڈری سکول، 1966ء میں بلوچ انٹر میڈیٹ کالج؛ بدقسمتی سے بھٹو حکومت میں یہ تمام تعلیمی ادارے قومی ملکیت میں لئے گئے ۔

(ر): بلوچی زبان میں تصنیفی خدمات :

مولانا خیر محمد ندوی رحمہ اللہ کو تصنیف وتالیف کا عمدہ ذوق تھا، اپنے سیّال اور علم ریز قلم سے بلوچی زبان وادب کو بیش بہا ذخیرے سے نوازا، خصوصا ًدینی ادب کے حوالے سے بلوچی زبان میں ان کا کام تجدیدی نوعیت کا ہے۔ بلوچی زبان کے فروغ و ترویج کے حوالے سے آپ کی تصنیفی خدمات کا مختصر خاکہ حسب ذیل ہے :

(1)…سب سے پہلے “بلوچی قاعدہ” لکھنے کا اعزاز آپ کو حاصل ہے۔

(2)…مختلف مضامین و نظموں پر مشتمل  مجموعہ“کچکول” شائع کیا۔

(3)…اسی نوعیت کی ایک کتاب اخلاق ءِ گلدان”

(4)…فضائل اعمال از شیخ زکریا کاندھلوی کا بلوچی ترجمہ: عملانی فضیلتاں۔

(5)…بلوچی معلم (بلوچی اردو بول چال)۔

(6)…استاد ءِ ادب

(7)…حنفی نماز”

مولانا ایک مستند مذہبی عالم ِ دین تھے۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے قرآن ِ حکیم کے بلوچی ترجمہ و تفسیر کے عظیم کام کو  پایہِ تکمیل کو پہنچا یا۔ اس ترجمہ و تفسیر  کا آغاز ان کے ایک قریبی رشتے دار مولانا قاضی  عبد الصمد سربازی نے کیا تھا۔لیکن ایک پارے کی تفسیر اور انیس پاروں کا ترجمہ تحریر کرنے کے بعد وہ ریاست قلات میں قاضی القضاہ   یعنی چیف جسٹس مقرر کردیے گئے۔ پھر کچھ عرصے بعد ان کا انتقال ہو گیا۔ یوں اس عظیم کام کو مولانا نے مکمل کیا۔بے شک ان کا یہ کارنامہ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

مولانا کا انتقال 26 نومبر 2000ء کو ہوا۔  اللہ تعالیٰ انھیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں