مولانا عبدالحمید:

مشرق وسطیٰ میں امن فلسطین کی آزادی اور مقبوضہ علاقوں سے اسرائیل کے انخلا سے قائم ہوگا

مشرق وسطیٰ میں امن فلسطین کی آزادی اور مقبوضہ علاقوں سے اسرائیل کے انخلا سے قائم ہوگا

زاہدان (سنی آن لائن) خطیب اہل سنت زاہدان نے امریکی صدر جو بائیڈن کے تل ابیب اور سعودی عرب کے دورے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا اس دورے کا مقصد ’اسرائیل کو محفوظ بنانا‘ ہے۔ انہوں نے پندرہ جولائی دوہزار بائیس کے خطبہ جمعہ میں کہا کہ مشرق وسطی اور پوری دنیا کو پرامن بنانے کی راہ فلسطین کی آزادی اور مقبوضہ علاقوں سے اسرائیل کا انخلا ہے۔

ایرانی بلوچستان کے صدر مقام زاہدان میں ہزاروں فرزندانِ توحید سے خطاب کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے کہا: مشرق وسطیٰ میں امریکی صدر جو بائیڈن کے دورے کا مقصد اسرائیل کے امن یقینی بنانا ہے۔ اس مقصد کے لیے اس کی کوشش یہی ہے کہ عرب ممالک کا ایک بلاک بناکر ان کے تعلقات اسرائیل سے بنایاجائے۔

ممتاز عالم دین نے کہا: امریکی حکومت اور یورپین ممالک اور بڑی طاقتوں کی بڑی غلطیوں میں ایک غلطی یہ ہے کہ مسئلہ فلسطین کا حل ان کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ وہ دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف لڑتے ہیں اور ایک پرامن مشرق وسطیٰ چاہتے ہیں، لیکن دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی کے لیے سب سے پہلے ان منازعات اور اختلافات کو حل کرانا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا: جب کئی عشروں سے ارضِ فلسطین پر اسرائیل کا قبضہ ہے اور ان کی زمین پر یہودیوں کی بستیاں بناکر انہیں آباد کیا جارہاہے اور ایک طرف سے فلسطینی باشندے اپنی آزادی کے لیے جدوجہد کررہے ہیں اور تم ان مسائل پر آنکھیں بندکرتے ہو، پھر یہ خطہ کیسے پرامن ہوسکتاہے؟!

صدر دارالعلوم زاہدان نے کہا: اچھا ہوتا جس طرح مسٹر بائیڈن نے جس طرح تل ابیب کے دورے میں مستقل فلسطینی ریاست کی بات کی تھی، اسی طرح وہ اسرائیلیوں کو اس بات پر آمادہ کرتے کہ وہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے انخلا کرکے فلسطین کو فلسطینیوں کے حوالے کردیں تاکہ دو مستقل ریاستیں بن جائیں اور کام کریں۔

انہوں نے مزید کہا: اسرائیل کے بارے میں ہمارا خیال بعض لوگوں کے خیالات سے مختلف ہے (دنیا کے نقشے سے اسرائیل کو مٹانا) اور ہمارا خیال ہے اعتدال اچھی چیز ہے۔ اسرائیل بیت المقدس (یروشلم) اور دیگر مقبوضہ علاقوں سے نکل جائے؛ اگر ایسا ہوجائے پھر امریکی حکومت کو اسرائیل سے تعلقات بنانے کی خاطر عرب ممالک کے بلاک بنانے کی کوئی ضرورت نہیں ہوگی۔

مولانا عبدالحمید نے سوال اٹھایا: جب تک فلسطین کا مسئلہ حل نہیں ہوگا، تم کیسے اسرائیل اور مشرقِ وسطیٰ کو امن فراہم کرنا چاہتے ہو اور عرب ممالک کو اپنے ساتھ رکھ سکتے ہو؟ اس صورت میں ان ممالک کے شہری اپنی حکومتوں پر دباؤ ڈالیں گے کہ فلسطین کا کیا بنا؟ فلسطین کی آزادی کی صورت میں عالم اسلام کے بہت سارے مسائل بشمول اسرائیل فلسطین تنازع اور بدامنی کے تمام مسائل حل ہوجائیں گے۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا: کینسر کی بیماری کا علاج اس بیماری کی جڑ ختم کرنے سے ممکن ہے، جب تک کینسر کی جڑ موجود ہے، ظاہر کے علاج سے فائدہ نہیں ہوگا اور وہ بیماری کہیں اور سے نمایاں ہوگی۔ اسرائیل اور فلسطین کا کئی سالوں پر محیط تنازع کینسر کی طرح ہے جس کا بنیادی علاج ضروری ہے۔ اگر تمہیں دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف جنگ جیتنا ہے، پھر ناانصافی اور قبضہ گیری کا دنیا سے خاتمہ کریں۔ دہشت گردی بمباری اور عوام کو مارنے سے ختم نہیں ہوگی، نفاذِ عدل اور مظلوم کی آواز سننے اور امتیازی رویوں کے خاتمے سے اس کا علاج ممکن ہے۔

خطیب اہل سنت نے کہا: کسی کو سفر کرنے اور خرچ کرنے کی ضرورت نہیں۔ ظالم اسرائیل اور مظلوم فلسطینیوں کو مذاکرات کے ذریعے ڈائیلاگ اور انصاف کا سہارا لیتے ہوئے ہمیشہ کے لیے اپنے مسائل کا حل نکالنا چاہیے۔

پردے کے مسئلے میں حکام افہام وتفہیم اور ترغیب سے کام لیں

اپنے بیان کے ایک حصے میں مولانا عبدالحمید نے ایران میں پردے کے بارے میں جاری مباحثوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: قرآن پاک نے لباس کو زیب و زینت یاد کیا ہے جس کا ایک فائدہ جسم ڈھانپنا ہے۔ اگر یہ کپڑے نہ ہوں انسان دیکھنے کے قابل نہیں ہوتا اور لوگ ایک دوسرے سے بھاگ جائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا: لباس خواتین کے لیے بھی خوبصورتی ہے۔ بے پردہ اور باپردہ خواتین کا مقابلہ کیاجائے، اگر آنکھیں اور سوچ فاسد نہ ہوں، تو باپردہ خواتین زیادہ خوبصورت نظر آئیں گی۔ پردے کرنے کی نصیحت خواتین کی توہین نہیں ہے۔

شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے کہا: بہت سارے لوگ یہ سوچتے ہیں کہ چادر اور سکارف پہننا خواتین کی ترقی میں رکاوٹ ہے اور مغربی خواتین پردہ نہ کرنے کی وجہ سے ترقی یافتہ بن چکی ہیں؛ یہ غلط سوچ ہے۔ ان کی ترقی کا راز بے پردگی میں نہیں بلکہ علم و دانش اور ہنر میں ہے جس کے پیچھے وہ چلی گئیں۔خواتین پردہ کے ساتھ یورپ کی ٹیکنالوجی، صنعت اور علم و دانش حاصل کرسکتی ہیں اور پردہ کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا: مسلمان خواتین کو ہماری نصیحت ہے کہ اسلامی پردہ کا خیال رکھیں۔ یہ ہمارے لیے باعثِ فخر ہے جب دیکھتے ہیں فرانس، جرمنی اور امریکا جیسے ملکوں میں خواتین سکارف پہن کر عوامی مقامات پر آتی ہیں، اس سے معلوم ہوتاہے اللہ تعالیٰ کا حکم ان کے لیے اہم ہے اور وہ اس کا احترام کرتی ہیں۔

ایرانی حکام کو مشورہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا: پردے کے بارے میں حکام سختی کا مظاہرہ نہ کریں اور نرمی سے کام لیں؛ شورمچانے اور خواتین کو پکڑ کر گھسیٹنے اور گاڑیوں میں ڈالنے کے بجائے افہام و تفہیم اور ترغیب سے کام لیاجائے۔

مولانا عبدالحمید نے مزید کہا: میری اس ملک میں کوئی ذمہ داری نہیں ہے، لیکن اسلامی مسائل سے واقف ایک شہری کی حیثیت سے کہتاہوں کہ بالکل نامناسب ہے کو خواتین کو مرد اہلکار پکڑ کر گھسیٹ لیں، اگر ضروری ہو تو یہ کام خواتین اہلکار ہی کریں۔ مرد اہلکار خواتین کو ہاتھوں یا ٹانگوں سے پکڑ کر گھسیٹ لیں کہ خاتون کا جسم ظاہر ہوجائے، یہ نہی عن المنکر نہیں بلکہ خود ایک گناہ اور منکر ہے۔

ممتاز سنی عالم دین نے اپنے بیان کے آخر میں کہا: یہ بات ذہن میں رہے کہ ایرانی عوام دیگر متعدد مسائل سے دوچار ہیں اور حکام کو چاہیے ان پر اپنی توجہ مرکوز کریں۔ موجودہ حالات کا تقاضا ہے کہ حکام معاشی مسائل کے حل کو ترجیح دیں اور پردے کے مسئلے کو جو اسلامی شریعت کا حکم ہے، نرمی اور حکمت سے آگے لے جائیں۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں