ایرانی شہری جوہری اسلحہ نہیں چاہتے ہیں جوہری معاہدہ سب کے مفاد میں ہے

ایرانی شہری جوہری اسلحہ نہیں چاہتے ہیں جوہری معاہدہ سب کے مفاد میں ہے

اہل سنت ایران کی ممتاز دینی و سماجی شخصیت نے عیدالاضحی ﴿دس جولائی دوہزار بائیس﴾ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے ایران کے عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری معاہدے کو سب کے مفاد میں قرار دیا۔ انہوں نے کہا ایران کے شہری جوہری اسلحہ نہیں چاہتے ہیں۔
مولانا عبدالحمید نے نماز عید سے پہلے دو لاکھ سے زائد فرزندانِ توحید سے خطاب کرتے ہوئے کہا: خارجی طاقتوں اور بین الاقوامی پابندیوں کی وجہ سے آج ایرانی قوم بدترین معاشی مسائل سے دوچار ہیں۔ حکومت اور ریاست کے پاس جو کچھ ہے، وہ قوم ہی کے مرہونِ منت ہے، لیکن آج یہ قوم سختیوں سے دوچار ہے۔ قومی کرنسی کی قدر بری طرح گرچکی ہے اور ملک کی معیشت سخت بحرانوں سے دست و گریبان ہے۔ حکام کو چاہیے مناسب منصوبہ بندی سے عوام کے معاشی مسائل کا حل نکالیں اور پابندیوں کا خاتمہ کرائیں۔
انہوں نے مزید کہا: آج اسلامی جمہوریہ ایران کے لیے جوہری معاہدہ تک پہنچنے کے لیے بہترین موقع میسر ہے جس کا فائدہ ایرانی قوم ہی کو پہنچ جائے گا۔ سپریم لیڈر نے بھی فتوا دیا ہے کہ جوہری سلاح بنانا حرام ہے۔ لہذا یہ بہترین موقع ہے معاہدہ حاصل کرنے کا جو سب کے مفاد میں ہے۔
معاہدوں میں سیرت النبی صلی الله علیه وسلم کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا: ہمیں اپنے بعض مطالبات سے دستبردار ہونا پڑے گا جیسا کہ نبی کریم صلی الله علیه وسلم نے صلح حدیبیہ میں دشمن کی شرایط مان لی اور صلح کا معاہدہ ہوگیا، بعد میں یہ صلح اسلام اور مسلمانوں کے مفاد میں ہوا۔ آج یہ معاہدہ میں ہمارے مفاد میں ہوگا؛ پابندیاں ختم ہوجائیں گی اور کرنسی کی قدر بڑھ جائے گی۔ اربوں بلاک شدہ ڈالرز ہمارے خزانے میں آئیں گے اور تیل کو اس کی حقیقی قیمت میں آزاد مارکیٹ میں بیچ سکیں گے۔

خطے میں ٹینشن قوم کے دشمنوں کے مفاد میں ہے
خطیب اہل سنت نے ایران کے جوہری معاہدے پر دستخط کو قوم کے مفاد اور اسرائیل کے نقصان میں یاد کرتے ہوئے کہا: خطے سے ٹینشن کی فضا ختم کرنی چاہیے، رونہ اس کا فائدہ اسرائیل اور ہمارے دیگر دشمن اٹھائیں گے۔ اسی ٹینشن کی وجہ سے ہمارے بہت سارے ہمسایہ ممالک دشمنوں سے زیادہ قریب ہوچکے ہیں ۔
انہوں نے مزید کہا: موجودہ حالات میں مذاکرات اور ڈپلومیسی کو زیادہ سے زیادہ فعال رکھنا چاہیے اور اپنے ہی عوام کی بات پر توجہ کرنی چاہیے۔ نظام حکومت کا اعتبار عوام ہی کے مرہونِ منت ہے۔ اسی قوم نے سابق ڈکٹیٹر رجیم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیا اور موجودہ حکومت سرِ کار آئی۔ ہر حال میں قوم کی بات کو ترجیح دینی چاہیے اور اس کے مطالبات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

مسلح ادارے عوام کی زمینوں پر قبضہ ختم کریں
مولانا عبدالحمید نے اپنے بیان کے ایک حصے میں زاہدان اور چابہار سمیت مختلف شہروں میں کچے مکانات کی کثرت اور عوام کی ہاؤسنگ کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے عوامی زمینوں پر مسلح اداروں اور بعض سرکاری محکموں کی جانب سے قبضے پر تنقید کی۔
انہوں نے کہا: مہنگائی کی وجہ سے عوام نہ اپنا مکان بناسکتے ہیں نہ ہی کرایہ کے مکانات کا کرایہ ادا کرنا ان کے بس میں ہے۔ ایسے میں شہر کے آس پاس جو عوام کی زمینیں ہیں، ان پر بعض مسلح ادارے اور سرکاری محکمے قبضے کررہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جو لوگ کرایہ ادا کرنے سے قاصر ہیں، وہ کہاں جائیں؟ کب انہیں زمین ملے گی؟
ممتاز عالم دین نے کہا: مسلح اداروں سے درخواست ہے عوام کی زمینوں پر جو انہیں ان کے آباؤ اجداد سے ملی ہیں، قبضہ نہ کریں۔ مسلح ادارے عوام کے دلوں میں ہیں اور وہ انہیں احترام کرتے ہیں، لیکن انہیں عوام کی زمینوں پر قبضہ گیری میں مقابلہ سے گریز کرنا چاہیے تاکہ عوامی ناراضگی پیدا نہ ہو۔یہ زمین عوام کی ہیں اور انہیں ان زمینوں میں مکان تعمیر کرنے کی اجازت ملنی چاہیے۔
انہوں نے کہا: عوام کو یہ بات پسند نہیں کہ زاہدان کی زمینیں بیچ کر اس کا پیسہ سرکاری خزانہ میں ڈالا جائے۔ بلکہ ان کا پیسہ زاہدان ہی پر خرچ کیا جائے اور عوام کے مسائل حل کرایا جائے۔
مولانا عبدالحمید نے کہا: ہمارے پاس جو کچھ ہے عوام ہی کے صدقے ہے اور وہ ہمارے محسن ہیں۔ لہذا اپنے محسنوں کو دکھ نہ پہنچائیں۔

عوام کی آزادی کا خیال رکھاجائے
صدر دارالعلوم زاہدان نے سب لسانی اور مسلکی و مذہبی برادریوں کو تعصب چھوڑنا اور بھائی چارہ کا دامن تھامنے کا مشورہ دیا۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں