امارت اسلامی افغانستان کو تسلیم کیا جائے

امارت اسلامی افغانستان کو تسلیم کیا جائے

افغان طالبان کے سپریم لیڈر ملا ہبۃ اللہ اخوندزادہ نے کابل میں امارت اسلامی افغانستان کے زیر اہتمام سہ روزہ ملک گیر علماء کانفرنس کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ شرعی قوانین کا نفاذ ہی کامیاب اسلامی ریاست کی ضمانت ہے۔ ہمیں اپنے ملک میں مکمل اسلامی نظام نافذ کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ باہر کی طاقتیں ہمیں یہ نہ بتائیں کہ ہمیں ملک کو کیسے چلانا ہے۔ انہوں نے پڑوسی ممالک اور عالمی برادری سے اپیل کی کہ امارت اسلامی افغانستان کو تسلیم کیا جائے۔ اپنی تقریر میں امیر طالبان نے خود انحصاری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بیرون ملک سے ملنے والی امداد سے ہم بہت سی چیزوں پر پابند ہوجائیں گے اور آزادی کے حقیقی مفہوم سے دور ہوجائیں گے۔
اس سے قبل افغانستان کے وزیر اعظم ملامحمد حسن، نائب وزیراعظم ملا عبدالمنان حنفی، ملا عبدالغنی برادر وزیر خارجہ ملا امیرخان متقی، وزیرداخلہ سراج الدین حقانی سمیت افغانستان کے مختلف حصوں سے آئے ہوئے تمام مکاتب فکر کے علماء نے اپنے خطابات میں افغانستان میں شرعی قوانین کے نفاذ، امن و امان کے قیام اور پڑوسی ممالک سمیت دنیا سے بہتر تعلقات کے قیام کے سلسلے میں امارت اسلامی افغانستان کی کوششوں اور اقدامات کا ذکر کیا۔ کانفرنس میں شریک تین ہزار سے زائد علماء و عمائد نے ہاتھ اٹھا کر ایک قرارداد منظور کی جس میں امارت اسلامی افغانستان کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا گیا۔
افغان امور پر گہری نظر رکھنے والے مبصرین کے مطابق امارت اسلامی افغانستان کی جانب سے کابل میں ملک کے تمام صوبوں اور تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علماء کے کامیاب ”لویہ جرگہ“ کا انعقاد اور افغانستان کے علماء کے نمائندہ اجتماع کی جانب سے امارت اسلامی افغانستان پر اعتماد کا اظہار افغانستان کے امن و استحکام کے لیے ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس سے یہ حقیقت دنیا پر واضح ہوگئی ہے کہ افغانستان میں اسلامی نظام کے نفاذ نے افغان قوم کو ایک طویل عرصے کے بعد وحدت کی ایک لڑی میں پرو دیا ہے اور افغان عوام کی غالب اکثریت امارت اسلامی افغانستان کے زیرسایہ امن و سلامتی کی زندگی میسر آنے پر خوش اور مطمئن ہے۔ یقیناً امارت اسلامی افغانستان کے سامنے مشکلات کا ایک پہاڑ کھڑا ہے اور بہت سے ایسے پیچیدہ مسائل درپیش ہیں جن سے نمٹنا طالبان کی حکومت کے لیے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے لیکن اب تک کا منظرنامہ یہ بتا رہا ہے کہ طالبان قیادت نہ صرف یہ کہ اس چیلنج سے نمٹنے کی صلاحیت سے بہروہ ور ہے بلکہ وہ نہایت تدبر اور حکمت عملی کے ساتھ اس مشن پر آگے بھی بڑھ رہی ہے۔
طالبان حکومت کی کامیابی کہ وجہ طالبان قیادت کا اپنی ترجیحات اور پالیسیوں کے حوالے سے یکسو اور پرعزم ہونا ہے۔ امارت اسلامی افغانستان نے اسلامی نظام اور اپنی قومی خودمختاری پر سمجھوتا نہ کرنے اور انتظامی معاملات میں زیادہ سے زیادہ توسع اور گنجائش رکھنے کی جو پالیسی اپنائی ہوئی ہے، اس نے افغان قوم کو ایک زبردست حوصلہ اور ولولہ بخشا ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ افغان قوم امارت اسلامی کے جھنڈے تلے متحد ہوچکی ہے۔
ابھی امارت اسلامی افغانستان کے قیام کو ایک برس کا عرصہ مکمل نہیں ہوا مگر طالبان نے تمام تر رکاوٹوں اور مشکلات کے باوجود اس عرصے میں ملک کے طول و عرض میں اپنی عمل داری قائم رکھی ہوئی ہے، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی فعالیت کے ساتھ ساتھ افغانستان کی قومی فوج کی تنظیم نو کا عمل بھی مکمل ہوچکا ہے اور افغان عوام کو امن، سلامتی اور تحفظ کا احساس دلایا گیا ہے جس کے نتیجے میں افغانستان میں کاروبار زندگی تیزی سے بحالی اور ترقی کی جانب گامزن ہے اور بہت سے ایسے لوگ جو طالبان کی آمد کے بعد بیرونی پروپیگنڈے کے زیر اثر آکر ملک سے باہر چلے گئے تھے، اب واپس آرہے ہیں۔ افغانستان سے معدنیات اور پھلوں کی برآمدات کا سلسلہ تیز ہوگیا ہے اور بیرونی سرمایہ کار افغانستان میں سرمایہ کاری کے بہتر مواقع کی موجودی کے باعث افغانستان کا رخ کررہے ہیں۔ امارت اسلامی افغانستان کے تمام پڑوسی مماک اور علاقائی قوتوں سے روابط قائم ہیں اور روس اور چین سمیت کئی ممالک افغانستان میں سرمایہ کاری میں دل چسپی دکھا رہے ہیں۔ یہاں تک کہ خود امریکا بھی طالبان حکومت کے ساتھ سلسلہ جنبانی کے قیام کے لیے کوشاں ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق امریکا اور طالبان کے وفد کے درمیان قطر میں مذاکرات ہوئے ہیں جن میں امن معاہدے کی پیش رفت اور افغانستان کے منجمد اثاثوں کی بحالی سے متعلق فریقین نے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ طالبان حکومت کے وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی نے مذاکرات کے حوالے سے ٹوئٹر پر لکھا کہ امریکی وزارت خزانہ کے نمایندے بھی اجلاس میں شرکت تھے جن کے ساتھ منجمد افغان اثاثوں کی بحالی سے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا۔ عبدالقہار بلخی کے مطابق امریکی وفد نے یقین دہانی کرائی ہے کہ امریکا ایک مستحکم افغانستان کی خواہش رکھتا ہے اور افغانستان میں کسی مسلح اپوزیشن کی حمایت کے امکان کو مسترد کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکا نے بھی اس حقیقت کا ادراک کرلیا ہے کہ افغانستان کا مستقبل اب طالبان ہی سے وابستہ ہے اور خطے سے وابستہ بچے کھچے امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے امارت اسلامی افغانستان سے براہ راست رابطہ رکھنا ناگزیر ہے۔
اس پس منظر میں طالبان کے سپریم لیڈر ملا ہبۃ اللہ کی جانب سے عالمی برادری سے امارت اسلامی افغانستان کو تسلیم کرنے کا مطالبہ بے جا نہیں ہے۔ طالبان لیڈر کی یہ بات بھی سو فی صد اصولی ہے کہ کسی خارجی طاقت کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ افغانستان کو حکومت چلانے سے متعلق ڈکٹیشن دے۔ آج کی دنیا میں کوئی بھی ملک کسی بیرونی طاقت کو اپنے اندرونی معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں دیتا۔ افغانستان میں نظام حکومت کو کس طرح چلانا ہے؟ اس کا فیصلہ افغان عوام اور ان کی قیادت نے کرنا ہے۔ باقی دنیا کو طالبان سے جو توقعات ہوسکتی ہیں، ان میں افغان سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینا ہے جس کی ضمانت کئی دفعہ طالبان دے چکے ہیں۔ عالمی قوتوں کی افغان عوام کے ساتھ ہمدردی کی یہی صورت ہوسکتی ہے کہ وہ افغانستان کی حکومت تسلیم کریں تا کہ وہاں امن و ترقی کا سفر آگے بڑھایا جاسکے۔ یہاں اس حقیقت کا اعادہ شاید بے جا نہ ہو کہ افغانستان میں پائے دار امن و استحکام کا قیام امریکا سمیت پوری دنیا کے مفاد میں ہے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں