فتح نامہ سندھ

فتح نامہ سندھ

برصغیر میں مسلمانوں کی آمد کی داستان محمد بن قاسم سے شروع ہوتی ہے۔
یہ 92ھ کی بات ہے۔ حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کو رحلت فرمائے ایک صدی بھی نہ گزری تھی کہ اسلام کا پیغام سندھ کی سرزمین میں گونج رہا تھا۔ بت کدے مسمار ہو رہے تھے اور مساجد میں اذان کی صدائیں بلند ہورہی تھیں۔
مسلمانوں کی آمد کا واقعہ چند عرب خواتین کی گرفتاری کے بعد پیش آیا تھا۔ سری لنکا کے راجا نے مرحوم عرب تاجروں کے اہل و عیال کو کشتیوں میں سوار کرکے ان کے آبائی وطن واپس بھیجنے کا انتظام کیا تھا۔ اس بحری قافلے کو دیبل کے ساحل کے پاس سندھی جہازرانوں نے لوٹ لیا اور عورتوں کو یرغمال بنالیا۔ بنی یربوع کی ایک خاتون نے چیخ کر کہا: ’’اے حجاج مدد کو پہنچ‘‘۔ حجاج بن یوسف نے جو خلیفہ ولید بن عبدالملک کی طرف سے عراق کا گورنر تھا، یہ ماجرا سنا تو بے اختیار کہہ اٹھا: ’’لبیک لبیک۔‘‘ پھر اس نے عبیداللہ بن نبہان کو لشکرکشی کا حکم دیا۔ وہ سندھ میں داخل ہوتے ہوئے ساحل کے قریب مقامی فوج سے لڑتے ہوئے شہید ہوگئے۔ اس کے بعد بدیل بن طہفہ کو بھیجا گیا، وہ بھی شہید ہوگئے۔ لشکروں کو دونوں بار پسپائی کا سامنا کرنا پڑا۔ آخر میں حجاج نے محمد بن قاسم کو روانہ کیا۔ فتح و نصرت نے اس بار قدم چومے۔ اس خوش بخت اور عالی ہمت نوجوان کے ہاتھوں دیبل سے لے کر ملتان تک کا وسیع و عریض علاقہ اسلام کے پرچم تلے آگیا۔ مسلمان عورتیں بازیاب کرالی گئیں، اصل مجرم راجہ داہر کیفر کردار کو پہنچا اور سندھ نے باب الاسلام کا مقام پالیا۔
تاریخ کے طلبہ جب بر صغیر کی اسلامی حکومت کا یہ پہلا باب پڑھ کر اس کی تفصیل کی تلاش میں نکلتے ہیں، تو انہیں اکثر و بیشتر مایوسی ہوتی ہے، کیوں کہ تاریخ کے مشہور اسلامی مآخذ یعنی البدایہ و النہایہ، الکامل فی التاریخ، تاریخ ابن خلدون، تاریخ اسلام ذہبی، تاریخ ابن عساکر، تاریخ ابوالفدائ اور تاریخ الخلفائ سیوطی میں ان فتوحات کی زیادہ تفصیلات نہیں ہیں۔ الکامل فی التاریخ میں نسبتاً کچھ تفصیل مل جاتی ہے، مگر اس سے بھی اس موضوع پر خاص ریسرچ کرنے والے کی تسلی نہیں ہوسکتی۔ سب سے زیادہ مدد فتوح البلدان بلاذری سے مل سکتی ہے، جو فتوحات اسلامیہ کا قدیم ترین ماخذ ہے، جسے تیسری صدی ہجری میں مدون کیا گیا۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ بلاذری میں بھی یہ سارا واقعہ پانچ چھ صفحات سے زیادہ مواد پر مشتمل نہیں۔ راقم ان سطور میں ایک ایسی مستند تاریخی دستاویز کا تعارف کرا رہا ہے، جسے برصغیر میں مسلمانوں کی تاریخ کے سب سے بنیادی ماخذ کی حیثیت حاصل ہے۔ یہ دستاویز ’’چچ نامہ‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ ’’چچ‘‘ دراصل راجہ داہر کے باپ کا نام تھا، جس نے سندھ کے تمام اضلاع کو فتح کرکے ایک بہت بڑی متحدہ راجدھانی قائم کی تھی۔ چچ نامہ کا تقریبا چوتھائی حصہ چچ کی فتوحات پر مشتمل ہے، اس کے بعد راجہ داہر اور مسلمانوں کی کش مکش کا ذکر آتا ہے اور پھر آخر تک محمد بن قاسم کی فتوحات کا تذکرہ چلتا ہے۔
اس تاریخی دستاویز کو پہلی بار منظر عام پر لانے والے بزرگ علی بن حامد الکوفی سندھ اور پنجاب کے مسلمان حاکم ناصرالدین قباچہ کے درباری تھے۔ انہیں برصغیر کے حالات جمع کرنے کا شوق ہوا، تو اپنی باقی عمر اسی مشغلے میں گزار دی۔ اس دوران ان کی ملاقات قبیلہ بنوثقیف کے ایک بزرگ قاضی اسماعیل بن علی الثقفی سے ہوئی، جن کے جد امجد محمد بن قاسم کے ساتھ سندھ آئے تھے اور یہیں بس گئے تھے۔ انہوں نے ایک دستاویز میں ان فتوحات کو پوری تفصیل سے قلم بند کیا تھا۔ بظاہر وہ فوج کے کسی اچھے عہدے پر تھے، کیونکہ وہ حجاج بن یوسف کے وہ خطوط بھی نقل کرتے ہیں، جو محمد بن قاسم یا خلیفہ ولید کے نام تحریر کیے گئے۔ محمد بن قاسم جب مکران پہنچا، تو حجاج کا درج ذیل مراسلہ اسے موصول ہوا: ’’جب دیبل کے قریب پہنچ جاؤ تو پڑاؤ کے وقت بہت چوکنا رہنا۔ خندقیں کھود کر خیمہ گاہ کو محفوظ بنانا۔ اکثر بیدار رہنا۔ لشکر میں جتنے لوگ قرآن مجید پڑھنا جانتے ہوں وہ سب ﴿پڑاؤ کے دوران﴾ تلاوت میں مشغول رہیں۔ باقی لوگ دعائیں کرتے رہیں۔ محنت اور مجاہدے کے ساتھ ہوشیار رہنا اور وقار و سکون اختیار کرنا۔ اللہ کا ذکر ہر وقت تمہاری زبان پر رہے۔ اللہ سے مدد و نصرت طلب کرتے رہنا، تا کہ اللہ تمہارا حامی و ناصر بن جائے۔ لاحول و لاقوۃ کا کثرت سے ورد کرتے رہا کرو، یہ وظیفہ تمہارا مددگار ہوگا۔ دیبل کے سامنے پہنچ کر خیمے لگاؤ تو ان کے گرد اٹھارہ فٹ چوڑی اور نو فٹ گہری خندق بنوانا، خندق کے گرد نو فٹ اونچا پشتہ لگوانا۔ دشمنوں کی نعرہ بازی اور فحش گوئی کے رد عمل میں کبھی جنگ شروع نہ کرنا۔ ہدایات پر عمل پیرا رہنا۔ ان شائ اللہ کامیاب رہو گے۔‘‘ ﴿چچ نامہ: 97﴾
یہ اس دستاویز کے دو اقتباسات تھے۔ قارئین نے پڑھ کر اندازہ لگایا ہوگا کہ اس دور کے مسلم حکام میں قومی حمیت اور اسلامی غیرت کس درجے کی تھی۔ قاضی اسماعیل بن علی کے پاس یہ دستاویز ایک خاندانی وراثت کی شکل میں محفوظ چلی آرہی تھی۔ اسے خواجہ ابراہیم منہاج الدین نامی کسی عالم نے 215ھ میں دوسری صدی ہجری کے معروف مؤرخ المدائنی سے نقل کیا تھا۔ یہ کتاب عربی زبان میں تھی۔ علی بن حامد نے قاضی صاحب سے یہ دستاویزلی اور فارسی زبان میں ترجمہ کرکے اسے عام کردیا۔ یہ کتاب مسلمان اور ہندو حکمرانوں کے ہاں یکساں مقبول ہوئی، کیونکہ سندھ کی تاریخ کا اس سے زیادہ قدیم اور معتبر ماخذ اور کوئی نہ تھا۔
مسلم درباروں میں اسے تاریخ منہاج الدین، تاریخ قاسمی یا فتح نامہ سندھ کے ناموں سے یاد کیا جاتا تھا۔ ہندو راجاؤں کے ہاں اسے ’’چچ نامہ‘‘ کے نام سے موسوم کیا گیا اور ہندوستان میں مسلمانوں کے زوال کے ساتھ ساتھ ہر جگہ یہی دوسرا نام مشہور ہوگیا۔ چچ نامہ کا فارسی نسخہ صدیوں تک علمائ اور اہل قلم کے پاس رہا، مگر پھر جیسے جیسے علم تاریخ سے بے اعتنائی بڑھی اور انگریز کی آمد کے بعد جوں جوں فارسی زبان متروک ہوئی، چچ نامہ بھی متروک چیزوں میں شامل ہوگیا۔ اس کے بعض نسخے مستشرقین اپنے ہاں لے گئے۔ ایک قلمی نسخہ دارالمصنفین لکھنؤ میں تھا، جس کے حوالے شاہ معین الدین ندوی کی تاریخ میں ملتے ہیں۔ ایک نسخہ دانش گاہ پنچاب کے کتب خانے میں تھا۔ غرض اکا دکا نسخے ہی رہ گئے تھے، جو تلاش بسیار سے بعض لائبریریوں میں مل جاتے تھے، مگر کتب فروشوں کے ہاں یہ کتاب عنقا تھی۔ آخر 1940ئ کے لگ بھگ ڈاکٹر عمر بن محمد داؤد پوتا نے اسے اپنے قیمتی حواشی و تصحیح کے ساتھ دوبارہ شایع کرایا۔ تاریخ سے دل چسپی رکھنے والے حضرات کو میرا مشورہ ہے کہ وہ اس کا مطالعہ ضرور کریں، اگر اس کے لیے کچھ زحمت اٹھا کر فارسی بھی سیکھنا پڑے تو گھاٹے کا سودا نہیں ہوگا۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں