مولانا عبدالحمید:

حج ’عشقِ الہی‘ اور ’میدانِ محشر کا ایک منظر‘ ہے

حج ’عشقِ الہی‘ اور ’میدانِ محشر کا ایک منظر‘ ہے

خطیب اہل سنت زاہدان نے اپنے چوبیس جون دوہزار بائیس کے خطبہ جمعہ میں حج کو ’سب سے بڑی عالمی عبادت‘ یاد کرتے ہوئے اس فریضہء الہی کو اللہ تعالیٰ سے عشق کی علامت اور امت مسلمہ کے اتحاد کی نشانی ہے جو صحرائے محشر کی منظرکشی کرتاہے۔
مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں ہزاروں فرزندانِ توحید سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ان دنوں دنیا کے مختلف کونوں سے حجاج حرمین شریفین کی جانب حج ادا کرنے کے لیے پہنچ رہے ہیں۔ کعبہ دنیا کی پہلی عبادتگاہ ہے جسے حضرت آدمؑ نے اللہ تعالیٰ کی رہ نمائی کے مطابق تعمیر کی۔ بیت اللہ الحرام پوری دنیا کے مسلمانوں کا قبلہ، سب سے بڑی عبادتگاہ، ایک بین الاقوامی مرکز اور اللہ سے منسوب جائے عبادت ہے جس کا وجود پوری دنیا کے لیے فائدہ مند ہے۔ خانہ کعبہ پوری دنیا کے لیے اتحاد کی علامت اور لوگوں کا مرجع ہے۔
شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے مزید کہا: سب مساجد عبادتگاہیں ہیں، لیکن خانہ کعبہ مرکزی عبادتگاہ اور برکات و خیرات اور عبادت کی جگہ ہے جہاں ایک نماز، صدقہ اور عبادت کا ایک لاکھ گنا زیادہ ثواب ملتاہے۔ اس عظیم مکان کے بانی اللہ کے خاص، مخلص اور مقدس بندے حضرت ابراہیم علیہ السلام تھے جو دنیا کے عظیم پیشوا رہے ہیں۔ کعبہ کی تعمیر کرتے ہوئے حضرت ابراہیم ؑ نے امت مسلمہ کے لیے دعا کی؛ یہ عظیم امت اور نبی کریم ﷺ کی رسالت در حقیقت حضرت ابراہیم ؑ ہی کی دعاکا نتیجہ ہے۔
انہوں نے کہا: روزہ، حج اور نماز میں ایک خاص قسم کا عشق پایاجاتاہے۔ حج عشق کی علامت اور اللہ تعالیٰ کی توجہ کی سب سے بڑی نشانی ہے۔صفا و مروہ، مسجد الحرام، صحرائے مزدلفہ اور منا شعائراللہ اور دین الہی کی یادگار ہیں۔ خانہ کعبہ عشق الہی کے اظہار کا مرکز ہے جو بہت سارے بندوں کے دلوں میں موجزن ہے۔ جب یہ لوگ خانہ کعبہ کی جانب گامزن ہوتے ہیں، یہ عشق مزید نمایاں ہوتاہے۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے کہا: ہجری قمری کا نواں سال تھا کہ حج فرض قرار پایا۔ حضرت ابوبکر ؓ کو حج کرانے اور حضرت علیؓ کو مشرکین سے برائت کے اعلان کی ذمہ داری سونپ دی گئی۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے جو مسلمان حج کی استطاعت رکھتاہو اور حج اس پر فرض ہوچکاہو، لیکن وہ کسی عذر کے بغیر حج ادا نہ کرے، وہ یہودی یا عیسائی مرجائے۔ یہودی حج کو نہیں مانتے تھے۔ نماز چھوڑنا آدمی کو مشرکوں اور حج چھوڑنا آدمی کو یہودیوں اور عیسائیوں کے شبیہ بناتاہے۔
حج میں عشقِ الہی کے بعض مناظر کی تصویرکشی کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے کہا: حاجی زبانِ حال سے کہتاہے: اے پروردگارِ عالم! ہم سب حالات میں آپ ہی کی اطاعت کرتے ہیں۔ حج ریاضت کا مقام ہے جہاں میاں بیوی حالتِ احرام میں باہمی ملاپ کی باتیں بھی نہیں کرسکتے ہیں۔ کسی چون و چرا کے بغیر سب حاجیوں کو اللہ کی اطاعت کرنی چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا: مکہ مکرمہ میں حج ادا کرنے کے بعد، حجاج محبوب کے شہر مدینہ جاتے ہیں جہاں نورِ اسلام کا سرچشمہ ہے اور وہیں سے ہدایت اور حیات دنیا میں پھیل گئی۔ اسی شہر میں نبی کریم ﷺ بس چکے ہیں اور مسلمانوں کے دل اس شہر سے وابستہ ہیں۔ یہ اطاعت اور عاجزی کا شہر ہے۔
صدر دارالعلوم زاہدان نے کہا: حج ایک منظر سے موت، قیامت اور میدانِ محشر کی نمائش ہے۔ صحرائے عرفات میں بندہ جتنا اپنے رب سے قریب ہوتاہے، کہیں اور نہیں ہوتا اور جتنا اس مقام پر شیطان حقیر ہوتاہے، کہیں اور نہیں ہوتا۔ حج ادا کرنے کا مقصد صرف اللہ کی رضامندی حاصل کرنا ہو؛ اللہ تعالیٰ ہمارے ظاہر کو نہیں دلوں کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کرتاہے۔

افغانستان میں زلزلے کے متاثرین کی مدد کی جائے
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے بیان کے ایک حصے میں افغانستان کے صوبے پکتیکا اور خوست میں تباہ کن زلزلے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے سینکڑوں افراد کی موت پر گہرے رنج و غم اور افسوس کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا: افغانستان کے معزز شہریوں کی مشکلات بہت ہیں اور وہ ایک خاص حالات سے گزررہے ہیں۔ لہذا ان کی ہر ممکن مدد کی جائے۔ آپ سب حضرات سے ہماری درخواست ہے کہ زلزلے کے متاثرین سے تعاون کریں۔ محسنین ٹرسٹ جو کئی سالوں سے اندرون و بیرونِ ملک فلاحی کاموں میں پیش پیش رہاہے، آپ کے عطیات کو متاثرین تک پہنچانے کے لیے تیار ہے۔
یاد رہے اس جمعہ میں افغانستان کے زلزلہ متاثرین کے لیے اجتماعی طور پر چندہ اکٹھا کیا گیا۔

جیل میں ڈالنے کے بجائے احتجاج کرنے والوں کی پکار سن لیں
اپنے بیان کے دوسرے حصے میں شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے ایران میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور کمرتوڑ معاشی تنگی پر سخت تنقید کرتے ہوئے ایرانی قوم کو دنیا کی دیگر قوموں اور لوگوں پر ترجیح دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
ممتاز سنی عالم دین نے کہا: اس سے قبل زندگی غریبوں اور بے روزگار لوگوں کے لیے مشکل تھی، لیکن اب سماج کے سب طبقے اور مختلف پیشہ ور معاشی دباؤ میں ہیں۔ افسوس کی بات ہے کہ ملکی معیشت بے لگام ہوکر قابو سے نکل چکی ہے۔
انہوں نے مزید کہا: قیمتیں صبح و شام کو بڑھتی ہی جاتی ہیں۔ ضروری اشیائے خوردونوش عوام کے دسترس سے خارج ہیں جس پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ کبھی دیکھتے ہیں کہ لوگ اپنا خالی دسترخوان سر پر لیے سڑکوں پر نکلتے ہیں۔ دل میں درد اٹھتاہے کہ معزز ایرانی قوم نانِ شبینہ کی محتاج ہے اور غربت سے تنگ آچکی ہے۔

حکام ہمہ تن عوام کی باتیں سننے کے لیے تیار ہوجائیں
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے حکام سے مطالبہ کیا عوام کی باتیں اور ان کی چیخ و پکار سن لیں۔
انہوں نے کہا: حکام کو چاہیے عوام اور تمام طبقوں کی باتیں سن لیں۔ پیشہ ور حضرات، اساتذہ، ریٹائرڈ طبقہ، مزدور اور سب طبقوں کی پکار پر توجہ دیں۔ قرآن پاک میں آیاہے کہ منافقین نے نبی کریم ﷺ کو ’کان‘ کہا کہ سب کی باتیں سنتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کی تعریف کی کہ وہ سب کی سنتے ہیں اور اسی میں تمہارا مفا دہے۔ یہ ہمارے لیے ایک سبق ہے کہ حکام ہمہ تن کان ہوں اور عوام کی باتیں سن لیں۔ اگر کوئی شخص ایسا نہیں ہے، پھر وہ سنت اور سیرت پر عمل نہیں کرتا۔
خطیب اہل سنت نے کہا: حکام کو چاہیے عوام سے ملیں اور ان کے درمیان رہیں، کوئی احتجاج کرتاہے، اس کی بات سن لیں اور اس کا مسئلہ حل کرائیں۔ اس بارے میں مدارس اور عصری جامعات کی سرکردہ شخصیات اور دانشوروں سے مشورہ لیاجائے۔
مولانا عبدالحمید نے زور دیتے ہوئے کہا: ہمارے پاس جو کچھ ہے، اسی قوم کی طرف سے ہے اور وہ ہمارے محسن ہیں۔ دباؤ کم کریں اور احتجاج کرنے والوں کو جیل میں ڈالنے کے بجائے، ان کی باتیں سن کر ان کے مسائل حل کرائیں۔

ایرانی قوم کو پہلی ترجیح رکھیں
جامعہ دارالعلوم زاہدان کے صدر نے اپنے ہی لوگوں کی معیشت اور اس کے مسائل کو ترجیح دینے اور موجودہ پالیسیوں میں بڑی تبدیلی لانے پر زور دیتے ہوئے کہا: برسوں سے ایک شہری، طالب علم اور خیرخواہ کی حیثیت سے آواز اٹھاتے چلے آرہے ہیں کہ پالیسیوں میں عوام کے مفادات کو مدنظر رکھ کر تبدیلی لانی چاہیے اور ان کی باتیں سن لیں۔ دیگر افراد نے بھی ایسی ہی پکار اٹھائی ہے۔ اگر ملک سے باہر تمہاری کچھ ترجیحات ہیں، یاد رکھیں کہ پہلی ترجیح ایرانی عوام ہی کے ساتھ ہے۔
مولانا عبدالحمید نے کہا: میں اپنے ملک اور ہمسایہ ممالک کے حکام سے کہتاہوں کہ حکومت کرنا اللہ کی جانشینی اور خلافت ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ سب کو دیکھتاہے، سب کو روزی دیتاہے، حکام بھی سب پر اپنا سایہ رکھیں اور سب مذہبی اور لسانی برادریوں اور مختلف طبقوں پر توجہ دیں اور ان کے حقوق کا خیال رکھیں۔
انہوں نے مزید کہا: اللہ کی رضامندی اس وقت حاصل ہوسکتی ہے جب اس کی رضامندی کا خیال رکھاجائے اور سب کی باتیں سنی جائیں۔ حکومت کو چاہیے عوام کے لیے اللہ کی رحمت بن جائے۔ ٹھنڈا سایہ بن جائے، گرم نہیں۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں