مولانا عبدالحمید:

جیل میں ڈالنے کے بجائے احتجاج کرنے والوں کی پکار سن لیں

جیل میں ڈالنے کے بجائے احتجاج کرنے والوں کی پکار سن لیں

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے تازہ ترین بیان میں ایران میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور کمرتوڑ معاشی تنگی پر سخت تنقید کرتے ہوئے ایرانی قوم کو دنیا کی دیگر قوموں اور لوگوں پر ترجیح دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
ممتاز سنی عالم دین نے زاہدان میں ہزاروں فرزندانِ توحید سے خطاب کرتے ہوئے چوبیس جون دوہزار بائیس کے خطبہ جمعہ میں کہا: اس سے قبل زندگی غریبوں اور بے روزگار لوگوں کے لیے مشکل تھی، لیکن اب سماج کے سب طبقے اور مختلف پیشہ ور معاشی دباؤ میں ہیں۔ افسوس کی بات ہے کہ ملکی معیشت بے لگام ہوکر قابو سے نکل چکی ہے۔
انہوں نے مزید کہا: قیمتیں صبح و شام کو بڑھتی ہی جاتی ہیں۔ ضروری اشیائے خوردونوش عوام کے دسترس سے خارج ہیں جس پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ کبھی دیکھتے ہیں کہ لوگ اپنا خالی دسترخوان سر پر لیے سڑکوں پر نکلتے ہیں۔ دل میں درد اٹھتاہے کہ معزز ایرانی قوم نانِ شبینہ کی محتاج ہے اور غربت سے تنگ آچکی ہے۔

حکام ہمہ تن عوام کی باتیں سننے کے لیے تیار ہوجائیں
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے حکام سے مطالبہ کیا عوام کی باتیں اور ان کی چیخ و پکار سن لیں۔
انہوں نے کہا: حکام کو چاہیے عوام اور تمام طبقوں کی باتیں سن لیں۔ پیشہ ور حضرات، اساتذہ، ریٹائرڈ طبقہ، مزدور اور سب طبقوں کی پکار پر توجہ دیں۔ قرآن پاک میں آیاہے کہ منافقین نے نبی کریم ﷺ کو ’کان‘ کہا کہ سب کی باتیں سنتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کی تعریف کی کہ وہ سب کی سنتے ہیں اور اسی میں تمہارا مفا دہے۔ یہ ہمارے لیے ایک سبق ہے کہ حکام ہمہ تن کان ہوں اور عوام کی باتیں سن لیں۔ اگر کوئی شخص ایسا نہیں ہے، پھر وہ سنت اور سیرت پر عمل نہیں کرتا۔
خطیب اہل سنت نے کہا: حکام کو چاہیے عوام سے ملیں اور ان کے درمیان رہیں، کوئی احتجاج کرتاہے، اس کی بات سن لیں اور اس کا مسئلہ حل کرائیں۔ اس بارے میں مدارس اور عصری جامعات کی سرکردہ شخصیات اور دانشوروں سے مشورہ لیاجائے۔
مولانا عبدالحمید نے زور دیتے ہوئے کہا: ہمارے پاس جو کچھ ہے، اسی قوم کی طرف سے ہے اور وہ ہمارے محسن ہیں۔ دباؤ کم کریں اور احتجاج کرنے والوں کو جیل میں ڈالنے کے بجائے، ان کی باتیں سن کر ان کے مسائل حل کرائیں۔

ایرانی قوم کو پہلی ترجیح رکھیں
جامعہ دارالعلوم زاہدان کے صدر نے اپنے ہی لوگوں کی معیشت اور اس کے مسائل کو ترجیح دینے اور موجودہ پالیسیوں میں بڑی تبدیلی لانے پر زور دیتے ہوئے کہا: برسوں سے ایک شہری، طالب علم اور خیرخواہ کی حیثیت سے آواز اٹھاتے چلے آرہے ہیں کہ پالیسیوں میں عوام کے مفادات کو مدنظر رکھ کر تبدیلی لانی چاہیے اور ان کی باتیں سن لیں۔ دیگر افراد نے بھی ایسی ہی پکار اٹھائی ہے۔ اگر ملک سے باہر تمہاری کچھ ترجیحات ہیں، یاد رکھیں کہ پہلی ترجیح ایرانی عوام ہی کے ساتھ ہے۔
مولانا عبدالحمید نے کہا: میں اپنے ملک اور ہمسایہ ممالک کے حکام سے کہتاہوں کہ حکومت کرنا اللہ کی جانشینی اور خلافت ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ سب کو دیکھتاہے، سب کو روزی دیتاہے، حکام بھی سب پر اپنا سایہ رکھیں اور سب مذہبی اور لسانی برادریوں اور مختلف طبقوں پر توجہ دیں اور ان کے حقوق کا خیال رکھیں۔
انہوں نے مزید کہا: اللہ کی رضامندی اس وقت حاصل ہوسکتی ہے جب اس کی رضامندی کا خیال رکھاجائے اور سب کی باتیں سنی جائیں۔ حکومت کو چاہیے عوام کے لیے اللہ کی رحمت بن جائے۔ ٹھنڈا سایہ بن جائے، گرم نہیں۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں