ایمنسٹی انٹرنیشنل کی بھارت سے مسلمانوں کے خلاف ’بدترین‘کریک ڈاؤن روکنے کی اپیل

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی بھارت سے مسلمانوں کے خلاف ’بدترین‘کریک ڈاؤن روکنے کی اپیل

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھارت سے احتجاج کرنے والے مسلمانوں کے خلاف بدترین کریک ڈاؤن ختم کرنے کی اپیل کی ہے۔بھارتی مسلمان پیغمبراسلام حضرت محمد ﷺکے بارے میں حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے دو عہدے داروں کے توہین آمیز تبصروں کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔
گذشتہ ہفتے اہانتِ رسول پر مبنی ان تبصروں کے خلاف ملک گیرمظاہروں میں دو مسلم نوجوان جاں بحق ہوگئے تھے اور سیکڑوں دیگرافراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔خلیجی عرب ممالک میں بھی بی جے پی کے لیڈروں کی ہرزہ سرائی کے خلاف بڑے پیمانے پر غم و غصے کا اظہار کیا گیا ہے۔
رواں ماہ کے اوائل میں وزیراعظم نریندر مودی کی پارٹی کی ترجمان نوپورشرما نے ٹیلی ویژن کے ایک مباحثے میں اور سوشل میڈیا پر جماعت کی دہلی شاخ کے ترجمان نے پیغمبر اسلام ﷺ کی ذات کے خلاف ناپسندیدہ اور توہین آمیز تبصرے کیے تھے۔
بی جے پی نے ان دونوں کی بنیادی رُکنیت معطل کردی ہےاور کہا کہ وہ کسی بھی مذہب کی توہین کی مذمت کرتی ہے۔پولیس نے بھی ان دونوں کے خلاف مقدمات درج کیے ہیں لیکن ان کی شرانگیزی اوراسلاموفوبیا کا شکار انتہاپسند ہندوؤں کی کارروائیوں کے خلاف مشتعل مسلمان سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔
بھارتی حکام نے ان مسلم مظاہرین کے خلاف متشدد کریک ڈاؤن ہی پراکتفا نہیں بلکہ ان احتجاجی ریلیوں میں حصہ لینے والوں کے گھروں کو بلڈوزروں کے ذریعے مسمار کردیا ہے۔ ان کے گھروں کو مسمارکرنے کی فوٹیج کی سوشل میڈیا پر تشہیر کی جارہی ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے نمایندہ عکارپٹیل نے ایک بیان میں کہا کہ ’’حکام چن چن کر اور بے رحمی سے ان مسلمانوں کے خلاف کریک ڈاؤن کر رہے ہیں جو بولنے کی جرآت کرتے ہیں۔انھیں اس وقت امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔طاقت کا بے تحاشا استعمال، من مانی حراست اور تعزیری طورپر گھروں کے انہدام کے ساتھ مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون کی مکمل خلاف ورزی ہے اور بھارت کے انسانی حقوق سے متعلق وعدوں کی بھی خلاف ورزی ہے‘‘۔
شمالی ریاست اترپردیش میں گذشتہ ہفتے کے دوران میں احتجاجی ریلیوں میں شامل ہونے کے الزام میں 300 سے زیادہ افراد کو گرفتارکیا گیا ہے۔ریاست کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیاناتھ بھارت کے سب سے ممتاز ہندوقوم پرست سیاست دانوں میں سے ایک ہیں اور وہ ملک کی 20 کروڑکی مضبوط مسلم اقلیت کے خلاف فرقہ وارانہ بیان بازی کے لیے معروف ہیں۔
آدتیاناتھ نے باربارحکام پرزوردیا ہے کہ وہ جرائم کے الزام میں لوگوں کے گھروں کو مسمارکردیں۔ان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ کسی خاندان کی یہ اجتماعی سزا ملکی آئین اور انسانی حقوق کے قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔
ایمنسٹی نے حراست میں لیے گئے مظاہرین کی ’’فوری اور غیرمشروط رہائی‘‘ کامطالبہ کیا ہے۔پٹیل کا کہنا ہے کہ یہ گرفتاریاں اورانہدام ’’مسلمانوں کو نشانہ بنانے والے ریاستوں کے اقدامات میں تشویش ناک اضافے کا حصہ ہیں‘‘۔
واضح رہے کہ 2014ء میں نریندرمودی کے برسراقتدارآنے کے بعد سے بھارت میں مسلمانوں کے خلاف تشدد آمیزظالمانہ کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے اورہندوقوم پرست مسلمانوں کو ان کے مذہب کی بنا پرمعاندانہ کارروائیوں کا نشانہ بنارہے ہیں لیکن ان کے خلاف حالیہ انتقامی کارروائیوں نے سابقہ تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ماضی میں محض احتجاج کی پاداش میں لوگوں کے گھرمسمار نہیں کیے جاتے تھے لیکن اب کہ سکیورٹی فورسز اور ہندو قوم پرست احتجاجی مظاہروں میں پیش پیش افراد کے مکانات کو منہدم کررہے ہیں اور کھلے عام کیمرے کی آنکھ کے سامنے انھیں تشدد کا نشانہ بنارہے ہیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ وزیراعظم مودی کی بی جے پی نے تصادم کی راہ اختیارکی ہے اور اس خیال کو فروغ دیا ہے کہ ہندوستان ’ہندو قوم‘ کا وطن ہے اورباقی سب لوگ’’ملک دشمن‘‘ہیں۔بہت سے مسلمان ان کی کارروائیوں کوخود کو دیوار سے لگانے کی کوشش کے طور پر دیکھتے ہیں۔مسلمان بھارت کی ایک ارب سے زیادہ آبادی کا 13 فی صد ہیں۔
وزیراعظم نریندرمودی کی حکومت نے ایک متنازع قانون تجویز کیا تھا۔اس کے تحت بھارت میں پناہ گزینوں کو تیز تر شہریت دی گئی لیکن اگر وہ مسلمان ہیں تو انھیں اس حق سے محروم کردیا گیا جبکہ بی جے پی کی ریاستوں میں حکومتوں نے بین المذہب شادیوں کو مشکل بنانے کے قوانین منظور کیے ہیں۔
جمعہ کے روز بھارت کے مختلف شہروں میں بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے تھے۔ان میں بعض جگہوں پر مشتعل ہجوم نے بی جے پی کی سابق ترجمان نوپورشرما کے پتلے جلائے تھے۔شرما کو پارٹی سے معطل کر دیا گیا ہے۔
جمعہ کے روز پڑوسی ممالک میں بھی بی جے پی کے لیڈروں کی ہرزہ سرائی اور بھارتی مسلمانوں کے خلاف ناروا سلوک پر زبردست مظاہرے کیے گئے۔بنگلہ دیش بھر میں پولیس کے مطابق نمازجمعہ کے بعد ایک لاکھ سے زیادہ افراد نے احتجاجی ریلیوں میں شرکت کی تھی۔
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد، دوسرے بڑے شہر لاہور سمیت مختلف شہروں میں احتجاجی ریلیاں نکالی گئی تھیں اور حکومت سے ان تبصروں پر بھارت سے سخت احتجاج کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ قریباً 20 مسلم اکثریتی ممالک کی حکومتوں نے اپنے ہاں تعینات بھارت کے سفیروں کواپنا احتجاج اور ناپسندیدگی درج کرانے کے لیے طلب کیا ہے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں