مذہبی شخصیات کے تحفظ کا قانون بنایاجائے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمام دنیا کے لیے رحمت ہیں: ملی تنظمیں

مذہبی شخصیات کے تحفظ کا قانون بنایاجائے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمام دنیا کے لیے رحمت ہیں: ملی تنظمیں

بہار کی اہم ملی تنظیموں کے ذمہ دارمولاناانیس الرحمن قاسمی نائب قومی صدر آل انڈیا ملی کونسل،مولاناابوالکلام قاسمی شمسی صدر مومن کانفرنس، مولانامحمد ناظم صاحب جنرل سکریٹری علماء بہار (م)مولانا مشہود احمد قادری ندوی نائب ناظم اعلیٰ جمعیۃ العلماء بہار(الف) مولانا ڈاکٹر محمد عالم قاسمی صاحب جنرل سکریٹری آل انڈیا ملی کونسل بہاروکنوینر ائمہ مساجد بہار،مولانا محمد نافع عارفی،کارگزارجنرل سکریٹری آل انڈیا ملی کونسل بہار، جناب نجم الحسن نجمی صدرنجم فاؤنڈیشن نے اس کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نبی کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی تمام عالم کے لیے رحمت اورقابل احترام ہے، آپ کی ذات اقدس ہماری جان، مال، عزت وآبرو،ماں،باپ سب سے بڑھ کر ہے،ام المؤمنین حضرت عائشہ ؓ ودیگرازواج مطہرات رضی اللہ عنہن وصحابہ کرام ؓبزرگ ترین ومقدس افراد ہیں، آپ کی اورآپ کے ازواج وصحابہ کی شان میں زبان درازی اورگستاخی قابل مذمت ہے، ہم حکومت ہند سے مطالبہ کرتے ہیں کہ بی جے پی کے برخواست شدہ نوین کمار جندل اورنوپورشرما کی بدزبانی اورگستاخانہ تبصروں پر قانونی کارروائی کرتے ہوئے انہیں فوری طورپر گرفتار کیا جائے، گرفتاری میں ہورہی تاخیر ہی کی وجہ سے ملک کے مختلف13/ریاستوں،درجنوں شہروں کانپور،پریاگ راج، رانچی وغیرہ میں احتجاج ہوئے اورکئی جگہوں پر احتجاج درج کرنے والوں پرپولس نے لاٹھیاں برسائیں اورگولیاں چلائیں،یہ پولس کی کھلی ہوئی زیادتی اورظلم وبربریت ہے،یہ ملک جمہوری ہے، اس کا ایک دستور وقانون ہے، حکومتیں،انتظامیہ اورعوام دونوں قانون پر عمل کرنے کی پابندہیں۔اس لیے ہم اس پریس کانفرنس کے ذریعہ حکومت ہند اورصوبائی سرکاروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ احتجاج کرنے والوں کی گرفتاری پرروک لگائیں،بالخصوص جھارکھنڈ حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ احتجاج کرنے والے مدثراوردیگر لوگوں پر پولس کے ذریعہ گولی چلانے والے مجرموں کی اعلیٰ سطحی جانچ کرائے اورمجرموں کو سزادی جائے،نیز شہید مدثر اوردیگر مقتولین کے وارثین اورزخمیوں کو معاوضہ دیا جائے۔
اس پر یس کانفرنس کے ذریعہ ملی جماعتیں مشترکہ طورپر تمام ہندوستانیوں بطورخاص مسلمانوں سے اپیل کرتی ہیں کہ وہ صبر وتحمل سے کام لیں اورحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے،دوراندیشی وحالات آگہی کے ساتھ اپنے جمہوری حقوق کا استعمال کریں اورمطالبات کو قانونی دائرے میں رکھیں۔اورایسی روش اختیارنہ کریں،جو شر پسندوں کے مظالم کے دروازے مزید کھول دے،اس وقت اس کی ضرورت ہے کہ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم اورآپ ؐکے ازواج مطہرات کی سیرت مبارکہ کو خود بھی پڑھیں اوردوسروں کو بھی روشناس کرائیں۔
موجودہ حالات میں اس کی ضرورت ہے کہ حکومت ہندپارلیامنٹ میں تحفظ مذہبی شخصیات /ناموس مذہبی شخصیت بل لائے جس میں کسی بھی مذہبی شخصیت/مقدس کتابوں پرتنقید اوراہانت کوناقابل ضمانت جرم قراردے اورتوہین کرنے والوں کوکم ازکم دس سال کی سزااورجرمانہ کی تجویزکوعمل میں لاتے ہوئے قانونی شکل دے۔
ہم محسوس کرتے ہیں کہ تمام مذاہب کے مذہبی پیشواؤں کا احترام ضروری ہے،اس لیے اس جذبہئ احترام کو فروغ دینا چاہئے اورہر طرح کی توہین آمیز اورنازیبا تبصروں سے بچنا چاہئے۔
اس لیے کہ اس طرح کے واقعات سے ملک کی فضاخراب ہورہی ہے اور امن عامہ متاثرہورہاہے،نیزاس سے ملک کی ترقی کی رفتارسست پڑ جائے گی اور شر پسندوں کی حوصلہ افزائی ہوگی۔
اس سلسلے میں میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ نفرت والی باتوں اورنفرت والے مذہبی مباحثوں سے اپنے آپ کو دوررکھے،نیزحکومت ہندکو چاہئے کہ وہ ٹی وی چینلوں پرنفرت کے لیے مذہبی مباحثوں اورنفرتی پروگراموں پرفوراًپابندی عائدکرے۔
ہم وزیر اعظم ہند سے گزارش کرتے ہیں کہ موجودہ حالات میں اپنے پروگرام ”من کی بات“میں اس موضوع پرگفتگوفرمائیں۔اوراہل وطن کے سامنے حکومت ہندکے موقف کوواضح کرتے ہوئے آپسی محبت وبھائی چارہ اورمقدس شخصیات اورمذاہب کے احترام کی اپیل کریں۔
ہم حکومت بہار سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ آنے والی اسمبلی میں ایسا قانون پاس کرے،جو نفرت کو دورکرنے اورمذاہب کے مقدس مذہبی شخصیات کے احترام کو لازمی قراردے اورمذہب ومقدس مذہبی شخصیات کی توہین کو قابل سزاجرم قراردے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں