مولانا عبدالحمید خطبہ جمعہ میں:

سماج کو ’روحانی آلودگیوں‘ کے نتائج کے بارے میں خبردار کرنا چاہیے

سماج کو ’روحانی آلودگیوں‘ کے نتائج کے بارے میں خبردار کرنا چاہیے

خطیب اہل سنت زاہدان نے اپنے دس جون دوہزار بائیس کے خطبہ جمعہ میں ’روحانی آلودگیوں‘ کو سب آفتوں، مصیبتوں اور جسمانی و روحانی امراض کی جڑ یاد کرتے ہوئے دعوت الی اللہ کی ذمہ داری پوری کرنے اور سماج کو ان آلودگیوں کے بارے میں خبردار کرنے پر زور دیا۔
مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں ہزاروں نمازیوں سے نماز جمعہ سے پہلے خطاب کرتے ہوئے سورت آل عمران کی آیت 110 سے اپنی تقریر کا آغاز کیا۔ ہر دور میں ایسے لوگ گزرے ہیں جنہوں نے عقل و شرع کی روشنی میں لوگوں کو زمین کے فساد کے بارے میں خبردار کیا ہے۔ عالمی ادارہ صحت مختلف امراض کے مقابلے کے لیے منصوبہ بندی کرتاہے۔ کاش روحانی آلودگیوں کے علاج اور ان سے نمٹنے کے لیے بھی کوئی عالمی ادارہ صحت ہوتا۔
انہوں نے مزید کہا: آج کا انسان اخلاقی اور روحانی آلودگیوں اور امراض پر بہت کم توجہ دیتاہے، حالانکہ روحانی اور باطنی فساد تمام آفتوں اور بیماریوں کی جڑ ہے۔ ظاہری آلودگی جسم کی صحت کے لیے خطرہ ہے، لیکن روحانی اور باطنی آلودگی جس میں سودخوری، زنا، ظلم، رشوت ستانی، مالی اور اخلاقی فساد شامل ہیں، جسم اور روح کے لیے خطرہ ہیں۔ لہذا دینی اور اسلامی ماہرین کو چاہیے سماج کو ان آلودگیوں کے نتائج کے بارے میں مطلع کریں۔
شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے کہا: یہ واضح غلطی ہے اگر کوئی یہ سمجھ بیٹھے کہ گناہ کے منفی اثرات گنہگار شخص تک محدود رہیں گے اور معاشرہ اس کے اثرات سے محفوظ رہے گا۔ کاہل نمازی، زکات کی عدم ادائیگی اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی نحوست افراد اور پورے سماج کو اپنی لپیٹ میں لیتی ہے جس نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی ہے اور لوگوں کو برائیوں سے منع نہیں کیا ہے۔اچھے اور نیک کاموں کے بھی مثبت اثرات سب کو پہنچتے ہیں اور برے کاموں کے بھی منفی اثرات ہوتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: گناہ، فساد اور معاصی شہروں، ملکوں اور پوری دنیا کی سلامتی کے لیے خطرے ہیں۔ آج کے انسان اور مسلمان اگر منازعات و اختلافات اور مسائل سے دوچار ہیں، اس کی وجہ اللہ کی نافرمانی ہے۔
صدر شورائے مدارس اہل سنت سیستان بلوچستان نے کہا: سب انبیاؑ اور امتیں اپنے معاشروں کی اصلاح کے لیے محنت کرتے رہے۔ ہماری بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ سنت اور شریعت کی حفاظت کریں اور حکمت کے ساتھ لوگوں کو گناہوں سے منع کریں۔امر بالمعروف اور نہی عن المنکر میں اگر ہم نے سستی کا مظاہرہ کیا، اللہ تعالیٰ ظالم اور جابر لوگوں کو ہم پر مسلط کردے گا، آفتوں اور بلاؤں کے دروازے کھلیں گے اور دعائیں بھی قبول نہیں ہوں گی۔
انہوں نے مزید کہا: انتہائی افسوس کی بات ہے کہ ظلم و جبر، ناانصافی، منشیات کا استعمال اور کرپشن کا ارتکاب سماج میں بڑھتا ہی جارہاہے۔ باطل افکار اور نظریات نوجوانوں اور مسلمان خواتین کو نشانہ بنارہے ہیں تاکہ ان کی حیا اور دینداری اور ایمان سست ہوجائے۔ مقدسات کی توہین ہوتی ہے اور شبہات بیان ہوتے ہیں تاکہ لوگوں کے عقائد سست ہوجائیں۔بڑے پیمانے پر پیسے خرچ ہوتے ہیں تاکہ لوگوں میں بے دینی اور اخلاقی بے راہ روی عام ہوجائے۔ ثقافتی یلغار بہت شدید ہے تاکہ پوری دنیا گناہوں سے آلودہ ہوجائے۔ آخرت اور موت کے بعد والی زندگی کے بارے میں غلط پروپگینڈا کیاجاتاہے۔ لہذا سب طبقوں کی ذمہ داری ہے کہ معاشرے کی اصلاح کے لیے اور لوگوں کے ایمان کی تقویت کے لیے محنت کیا کریں۔
انہوں نے کہا: نماز بہت ساری برائیوں اور آفات و بلاؤں سے روکتی ہے۔ نماز قائم کریں اور جماعت کے ساتھ نماز پڑھیں۔ مساجد جو کہ اللہ کے گھر ہیں، انہیں آباد رکھیں تاکہ اللہ تعالیٰ تمہارے گھروں اور آخرت کو آباد رکھے۔
صدر دارالعلوم زاہدان نے اپنے بیان کے اس حصے کے آخر میں نوجوانوں کو علم و دانش کے زیور سے آراستہ ہونے کی ترغیب دیتے ہوئے کہا: نوجوانوں کو علم حاصل کرنے کی ترغیب دیں اور اپنے بچوں کو تعلیم چھوڑنے کی اجازت نہ دیں۔ دینی اور عصری تعلیم دنیا اور آخرت کی آبادی کے لیے ضروری ہیں۔ مردوزن کو علم کے زیور سے آراستہ ہونا چاہیے۔ خوشگوار اور راحت زندگی کے لیے تعلیم ضروری ہے۔

ملک کے بہت سارے تعزیری قوانین اسلامی مسالک کے اصول کے خلاف ہیں
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے خطاب کے دوسرے حصے میں پورے ملک، خاص طورپر صوبہ سیستان بلوچستان میں پھانسی کی بڑھتی ہوئی سزاؤں پر تنقید کرتے ہوئے تعزیری قوانین میں نظرثانی پر زور دیا۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے کہا: پھانسی کی بعض سزائیں قصاص ہیں اور قصاص اللہ کا حکم ہے۔ اس بارے میں کسی کو شکایت نہیں، لیکن پھانسی کی دیگر سزائیں تعزیری ہیں اور اسلامی مسالک اور مکاتب فکر ان کے بارے میں مختلف آرا کے حامل ہیں۔ یہ سزائیں اسلامی جمہوریہ ایران اور عوام کے لیے نقصان دہ ہیں اور حکام کو اس بارے میں سوچنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا: حکام بالا جاری قوانین میں نظرثانی کریں۔ ہمارے خیال میں ملک کے بہت سارے تعزیراتی قوانین اسلام اور اس کے اصول کے خلاف ہیں۔ ایسے قوانین پر ہرگز نظر ثانی نہیں ہوتی ہیں اور ان میں کوئی تبدیلی نہیں آتی ہے۔ حالانکہ ان میں تبدیلی لانا حکومت اور قوم کے مفاد میں ہے۔

قوم کے مفادات کو ترجیح دینا سب سے اہم پالیسی ہونا چاہیے
مولانا عبدالحمید نے حکومت کی طرف سے سبسڈی دینے کی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا: اگرچہ بعض لوگ نقد سبسڈی کی پالیسی سے خوش ہیں، لیکن کاش سبسڈی دینے اور قیمتیں بڑھانے کے بجائے، عوام کے لیے روزگار فراہم کیاجاتا تاکہ لوگ کام کرکے پیسے کماتے؛ بہترین پالیسی یہی ہے۔ عوام کو محنت مزدوری اور کام کرنا چاہیے؛ لیکن یہ پیسہ جب ان کے اکاؤنٹ میں آتاہے تو کہتے ہیں اب کام کی کیا ضرورت؟! بہت سارے خاندانوں نے کام اور محنت مزدوری چھوڑدی ہے اس امید پر کہ انہیں حکومت سبسڈی دیتی ہے، حالانکہ اس پیسے کا کوئی فائدہ نہیں رہا ہے۔ ضرورت اس بات کی تھی کہ لوگوں کو کام کرنے کی ترغیب دی جاتی اور گھر میں فارغ بیٹھنے نہیں دیا جاتا۔ یہ بالکل غلط پالیسی ہے۔
انہوں نے قومی کرنسی کی قدر میں شدید گراوٹ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: افسوس سے کہنا پڑتاہے نقد سبسڈی کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اس کی مقدار میں اضافہ کیا گیا، لیکن قومی کرنسی کی قدر میں شدید گراوٹ کا سلسلہ جاری ہے۔ ملک کی سب سے اہم پالیسی عوام کے حالات پر توجہ دینا ہونا چاہیے۔ لوگ معاشی لحاظ سے سخت دباؤ میں ہیں۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے کرایوں میں اضافہ اور عوام کی پریشانیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: مکانات کے کرایوں میں اضافہ ہوا ہے اور مالکان کہتے ہیں کرایے کے پیسے کی قدر گرچکی ہے۔ مکان مالکان یاد رکھیں کہ سب کی آمدنی میں کمی آئی ہے اور بڑی رقم ادا کرنا عوام کے لیے مشکل ہوچکاہے۔ لہذا کم کرائے پر قناعت کریں۔
حکومت کو عوام پر رحم کرنے کی اپیل کرتے ہوئے صدر جامعہ دارالعلوم زاہدان نے کہا: قوم اصل ہے اور قوم ہی کی سہولت حکام کی پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔ عوام کو پریشانی سے نکالنے اور ضروری اشیا خریدنے کی طاقت بڑھانے کے لیے کوئی تدبیر کریں۔ قوم کے مختلف طبقے بشمول اساتذہ، مزدور، ٹھیکیدار اور ریٹائرڈ معاشی مسائل سے تنگ آچکے ہیں۔ حکام مناسب منصوبہ بندی کریں تاکہ قوم اس سے زیادہ دردورنج برداشت نہ کرے اور کمزور طبقہ مزید نقصان نہ اٹھائے۔

توہین، آزادی نہیں ہے فساد ہے
مولانا عبدالحمید نے اپنے بیان کے آخری حصہ میں بھارت کی حکمران پارٹی کے بعض رہ نماؤں کی جانب سے نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا: بھارت کی حکمران جماعت جو ایک انتہاپسند سیاسی پارٹی ہے، نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کی ہے۔ جب سے یہ پارٹی اقتدار میں آئی ہے، بھارت میں مسلمانوں پر مصائب بڑھتے چلے جارہے ہیں اور وہا ں کے مسلمان پریشان ہیں۔ انڈیا ایک اچھا ملک تھا اور اس کی سابقہ حکومتیں میانہ رو تھیں، لیکن موجودہ حکومت اور جماعت انتہاپسندی پر یقین رکھتی ہیں۔
انہوں نے کہا: کوئی بھی عقل سلیم دنیا میں مقدسات کی توہین کو درست اور جائز نہیں سمجھتی ہے۔مسلمانوں کو بھی اس کی اجازت نہیں ہے کہ وہ کسی بھی مذہب اور مسلک کی مقدسات کی توہین کریں۔ حتیٰ کہ ہمیں بتوں کی توہین کی اجازت نہیں ہے۔ ہمیں کسی بھی شخص یا گروہ کی توہین کی اجازت نہیں ہے، تعجب ہوتاہے کہ آج کی دنیا تہذیب اور ثقافت کے اتنے بلند و بالا دعووں کے باوجود کیسے گستاخی کی اجازت دیتی ہے جو تہذیب اور ثقافت کے خلاف ہے۔
خطیب اہل سنت نے کہا: ہم نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کی پرزور مذمت کرتے ہیں اور توقع کرتے ہیں کہ بھارتی عوام اور حکومت ایسے لوگوں کے خلاف اقدام اٹھائیں گے جو نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا: ایک بار برطانوی وزیرِ اعظم نے کہا تھا چونکہ ہمارے ملک میں اظہارِ رائے کی آزادی ہے، لہذا مسلمانوں کی مقدسات کی توہین کرنے والوں کو نہیں روک سکتے ہیں۔ گستاخی اور توہین کسی بھی ثقافت اور قوم میں جائز نہیں ہے؛ یہ آزادی نہیں فساد ہے اور سب کو اس کے خلاف اٹھنا چاہیے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں