مولانا عبدالحمید نماز جمعہ سے پہلے خطاب کرتے ہوئے:

مذہبی و اعتقادی مسائل ذاتی معاملات ہیں؛ان مسائل میں حکومتیں مداخلت نہ کریں

مذہبی و اعتقادی مسائل ذاتی معاملات ہیں؛ان مسائل میں حکومتیں مداخلت نہ کریں

بعض حکومتوں کی جانب سے عوام کے مذہبی امور اور اعتقادی مسائل میں مداخلت پر تنقید کرتے ہوئے ایران کے ممتاز عالم نے ان مسائل کو ’ذاتی معاملات‘ یاد کرتے ہوئے اسلامی اور غیر اسلامی حکومتوں کو میں مداخلت سے گریز کرنے کی تاکید کی۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے تین جون دوہزار بائیس کو زاہدان میں نماز جمعہ سے پہلے خطاب کے دوران کہا: بعض حکومتیں عوام کے ایک ایک معاملے میں مداخلت کرنا چاہتی ہیں؛ ایسا کرنا کسی بھی ریاست اور حکومت کے لیے نقصان دہ ہے۔ چاہے وہ حکومت اسلامی ہو یا غیر اسلامی، مسئلہ چھوٹا ہو یا بڑا۔ خاص طورپر عوام کے مذہبی امور اور عقائد میں مداخلت کرنا سخت نقصان کا باعث ہے۔ ایسے مسائل ذاتی معاملات ہیں اور حکومتوں کو ان میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا: عوام کو مذہبی آزادی، اظہارِ رائے کی آزادی اور قلم کی آزادی دینی چاہیے تاکہ وہ تنقید کرسکیں۔ کسی بھی معاشرے میں تنقید کا دروازہ بند کیا گیا، وہاں کرپشن اور مشکلات کا رواج ہوگا۔ تنقید سے بندہ اپنی کمزوریوں پر واقف ہوگا اور اس سے معاشرے کی اصلاح ہوتی ہے۔ اسلامی اور غیر اسلامی حکومتیں سختیوں اور دباؤ برداشت کرکے نفاذِ عدل اور عوام کو آزادی اور راحت پہنچانے کے لیے کوشش کریں۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے کہا: نبی اکرم ﷺ نے اپنے دور و زمانہ میں اللہ کے احکام کو معاشرہ میں اس طرح نافذ فرمایا کہ اس زمانے میں امتیازی سلوک، ناانصافی، کرپشن اور رشوت ستانی کا خاتمہ ہوگیا۔ آپﷺ نے لوگوں کی تربیت کی۔ اسلام نے انصاف سے بڑھ کر ’احسان‘ نامی چیز کو لایا جس نے دنیا کو بدل دی۔
انہوں نے کہا: عدل و انصاف سب کے نزدیک فرض اور واجب ہے اور بعض مسالک اس کو اپنے اصول میں شمار کرتے ہیں۔ لہذا ملک میں عدل کا راج ہونا چاہیے تاکہ امن اور صلح قائم ہوجائے۔

نفاذِ عدل سے دنیا میں امن قائم ہوجائے گا
مولانا عبدالحمید نے عدل و انصاف کی اہمیت اور تاثیر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: اللہ تعالیٰ نے سب انبیا علیہم السلام کو عدل کی تبلیغ اور نفاذ کے لیے مبعوث فرمایا۔ نفاذِ عدل سے دنیا میں امن کی ضمانت ہوگی۔ جب دنیا میں ناانصافی اور ظلم کا راج ہو، سب لوگ پریشانی اور دباؤ کا شکار ہوجائیں گے۔ لوگوں کے جانی، مالی، فکری اور ذہنی امن کا تعلق عدل و انصاف سے ہے۔
انہوں نے مزید کہا: خالق و مخلوق کے باہمی تعلقات میں عدل و انصاف بھی بہت اہم ہے۔ سب لوگ خدا اور اس کے بندوں کے بارے میں انصاف کرنے پر مامور ہیں۔ اللہ کی نافرمانی، کفر و شرک اور محرمات سے گریز نہ کرنا ناانصافی ہے۔ نماز، زکات اور اللہ کے دیگر احکام میں سستی کا مظاہرہ کرنے والے انصاف سے بدور ہیں۔ قرآن پاک کو نظرانداز کرنا اور نبی کریم ﷺ کی تعلیمات سے روگردانی بہت بڑا ظلم ہے جس میں آج کی انسانیت مبتلا ہے۔
شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے مزید کہا: آج کل بندوں کے حق میں ظلم بھی بہت ہوتاہے؛ لوگوں کے حقوق بشمول ماں باپ، اولاد، ہمسایوں اور دوسروں کے ضائع ہوتے ہیں۔ لسانی، مذہبی اور دینی اقلیتوں کے حقوق پر توجہ دنیا نفاذِ عدل ہی کے زمرے میں آتاہے اور اکثریت کو چاہیے اقلیت کے حقوق کا خیال رکھے۔
انہوں نے کہا: حکومتیں، ریاستیں اور قومیں سب نفاذِ عدل کے بارے میں قرآن پاک کے مخاطب ہیں۔ حکومتوں کے قبضے میں سب کچھ ہے اور انہیں چاہیے اپنی قوموں سے عادلانہ برتاؤ رکھیں۔ عوام کو آزادی دیں اور یہ آزادی عدل ہی کے ذیل میں آتی ہے۔

سب نظام ہائے حکومت ’اللہ‘ اور ’عوام‘ کو محور بنائیں
مولانا عبدالحمید نے بات آگے بڑھاتے ہوئے مختلف حکومتوں کو نصیحت کرتے ہوئے کہا: ہر نظام اور حکومت چاہے اسلامی ہو یا غیر اسلامی اپنے عوام کی آسائش اور امن کے لیے کوشش کرے۔ ایران، افغانستان اور دنیا کے تمام ممالک میں ”اللہ“ اور ”عوام“ کو محور بنانا چاہیے۔ عوام کی رضامندی شریعت کے دایرے میں حاصل کرنی چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا: کچھ لوگ کہتے ہیں جمہوری اور غیر اسلامی ریاستوں میں صرف ’عوام‘ محور ہیں اور اسلامی و دینی حکومتوں میں صرف ’اللہ‘ محور ہے۔ بندہ اس تقسیم اور سوچ کو نہیں مانتاہے؛ وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ’عوام‘ کو بھی سب حکومتوں کے لیے محور قرار دیاہے۔ جیسا کہ نبی کریم ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایاہے: «يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ حَسْبُكَ اللَّهُ وَمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ»۔ لہذا سب حکومتوں میں چاہے ان کا نام کچھ بھی ہو، اللہ اور عوام کو مدنظر رکھنا چاہیے اور عدل و انصاف نافذ کرنا چاہیے۔

خطیب اہل سنت زاہدان نے اپنے بیان کے آخر میں سرکاری سکولوں کی سالانہ چھٹیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: سرکاری اسکولز اور جامعات کی چھٹی ہونے والی ہے۔ ان چھٹیوں میں بچوں اور نوجوانوں کو مساجد و ومدارس بھیج دیں تاکہ قرآن اور ضروری دینی تعلیم حاصل کریں۔ مساجد اور مکاتب بھی سرگرم رہیں اور ان بچوں کے لیے منصوبہ بندی کریں۔
نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا: معزز نوجوانو!خدا کی قسم دنیا میں ’دین‘ اور تقویٰ‘ و ’نماز‘ سے بڑھ کر کوئی چیز بہتر نہیں ہوسکتا۔ اس کا بدل تمہیں نہیں ملے گا۔ لہذا مسجد آجائیں اور دین کو مضبوطی سے پکڑیں۔ منشیات کا استعمال، غنڈہ گری، لوگوں کو قتل کرنا اور بدامنی پھیلانا خاندانوں اور پورے معاشرے کے لیے شرم کا باعث ہے۔ نیک، دیندار اور تعلیم یافتہ نوجوان سب کے لیے باعثِ فخر ہیں۔ لہذا نوجوانوں کی اصلاح کے لیے محنت کرنی چاہیے۔
مولانا عبدالحمید نے اپنے خطاب کے آخر میں بانیِ انقلاب کی سالگرہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے قیام سے دنیا میں بیداری کی ایک لہر پیدا ہوئی اور قوموں کو سامراجی قوتوں کے خلاف آواز اٹھانے کا حوصلہ ملا۔ لہذا نفاذِ عدل اور دوراندیشی و فراخدلی سے ان کے کارناموں کی حفاظت کرنی چاہیے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں