’بات چیت‘ مسئلہ بلوچستان کا بہترین حل ہے

’بات چیت‘ مسئلہ بلوچستان کا بہترین حل ہے

ممتاز بلوچ عالم دین نے پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں جاری حالات اور وہاں کے عوامی مسائل پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے پر زور دیا۔
سنی آن لائن کی رپورٹ کے مطابق، شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے ستائیس مئی دوہزار بائیس کو ایرانی بلوچستان کے صدرمقام زاہدان میں نماز جمعہ سے پہلے خطاب کرتے ہوئے کہا: افسوس سے کہنا پڑتاہے کہ طویل عرصے سے پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں جو ہمارے پڑوس میں واقع ہے، بدامنی پائی جاتی ہے اور عوام مسائل سے دوچار ہیں۔
انہوں نے کہا: نئی حکومت کے سربراہ جناب شہباز شریف سمیت دیگر پاکستانی حکام کو ہمارا خیرخواہانہ مشورہ ہے بلوچستان کے مسائل پر قابو پائیں اور سیاسی حل کے لیے کوشش کریں۔ بلوچستان کے مسائل کا حل قتل اور گرفتاریوں میں نہیں ہے۔
اہل سنت ایران کے ممتاز رہ نما نے کہا: بلوچستان میں دو فریقوں کی جاری لڑائی میں جو لوگ مارے جاتے ہیں دونوں مسلمان اور پاکستانی قوم کے افراد شمار ہوتے ہیں۔ یہ نقصان دونوں فریقوں اور پورے عالم اسلام کے لیے نقصان ہے۔ ہمیں چاہیے کہ انسانیت کے لیے آنسو بہائیں اور سب کے ساتھ ہمدردی کا جذبہ رکھیں۔ سب انسان، انسانیت میں بھائی بھائی ہیں اور پاکستانی قوم انسانیت، مذہب اور وطن کے لحاظ سے بھائی بھائی ہیں۔
مولانا عبدالحمید نے زور دیتے ہوئے کہا: بات چیت اور مذاکرات صوبہ بلوچستان کے مسائل کے لیے بہترین، سب سے زیادہ مختصر اور قابل دسترس حل ہے۔ ہم دونوں جانب کے فریقوں کو بات چیت ہی کے ذریعے اپنے مسائل حل کرانے کی نصیحت کرتے ہیں۔

اسلامی امارت افغانستان ہیرمند کا پانی تقسیم کرے
خطیب اہل سنت زاہدان نے اپنے بیان کے ایک حصے میں سیستان ڈویژن اور زاہدان شہر کے پانی کا مسئلہ پیش کرتے ہوئے کہا: زاہدان اور سیستان ڈویژن میں جہاں بڑی تعداد میں لوگ آباد ہیں جن کا پانی زابل سے آتاہے اور زابل کے جھیل کا پانی ہیرمند دریا سے آتاہے۔ اب جھیل کا پانی ختم ہونے والا ہے؛ اگر یہ پانی بند ہوجائے، پھر زاہدانی شہریوں کو پینے کے لیے پانی نہیں ملے گا اور سیستان کے لوگوں کو پینے اور زراعت کے لیے پانی دستیاب نہیں ہوگا۔
اسلامی امارت افغانستان کے ذمہ داران کو مخاطب کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے کہا: اسلامی امارت افغانستان کے حکام سے ہماری درخواست ہے کہ اس خطے کے لوگوں کے پانی کی ضرورت کو مدنظر رکھیں۔ ہمیں معلوم ہے ہمارے پڑوس میں افغانستان میں بھی پانی کی قلت کا مسئلہ درپیش ہے، لیکن زاہدانی اور سیستانی باشندوں کا تقاضا ہے کہ پانی کو تقسیم کریں؛ یہ تمہارے بھائی ہیں۔ امید ہے کہ افغان حکام اس درخواست کو سنجیدگی سے لیں گے۔

آبادان ٹاور کی تباہی متعلقہ حکام کی غفلت کا نتیجہ ہے
مولانا عبدالحمید نے ایران کے مغربی صوبہ خوزستان کے شہر آبادان میں ایک دس منزلہ رہائشی عمارت کی تباہی پر رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اس ٹاور کی تباہی کو متعلقہ حکام کی ماہرین کی آرا اور وارننگز کو نظرانداز کرنے کا نتیجہ قرار دیا جس پر شدید عوامی غم و غصہ پایا جاتاہے۔
انہوں نے کہا: یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ ہمارے ملک میں بہت ساری جگہوں میں تعلقات کو ضوابط پر ترجیح دی جاتی ہے اور جس کے پاس پیسہ اور قوت ہے، آبادان میٹروپل کے مالک کی طرح، وہ اپنا اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے قوانین کو بائی پاس کرتے ہیں۔اسی لیے عوام سخت غصے میں ہیں۔
خطیب اہل سنت نے کہا: مختلف لیولز پر نظرثانی کی ضرورت ہے تاکہ قانون سب کے لیے یکسان نافذ ہو اور غریب و امیر کا فرق قوانین کے نفاذ میں ختم ہوجائے۔ حکام اور ذمہ داران سمیت اشرافیہ پر قوانین کا نفاذ ضروری ہے۔ ناانصافی جہاں بھی ہو اور جس سطح پر ہو، اس کی بیخ کنی ضروری ہے تاکہ اتحاد اور امن کو تقویت ملے۔
مولانا عبدالحمید نے اپنے خطاب کے اس حصے کے آخر میں نمازیوں سمیت سب شہریوں پر زور دیا خون کا چندہ دینے کا کلچر عام کریں۔
انہوں نے کہا: صوبہ سیستان بلوچستان میں بڑے پیمانے پر ٹریفک حادثات ہوتے ہیں اور پورے ملک کی نسبت سب سے زیادہ تھیلیسیمیا کے بیمار اسی صوبہ میں ہوتے ہیں اور اس کی وجہ شادی سے پہلے ضروری ٹیسٹ نہ کروانا ہے۔ ان بیماروں کو بروقت خون نہ دیا جائے تو ان کی جان کو خطرہ لاحق ہوتاہے۔ لہذا صوبے کے بلڈ بینک میں ہمیشہ کافی خون دستیاب ہونا چاہیے اور تمام حضرات و خواتین بلڈ ڈونیشن کا اہتمام کریں۔

آفات و مصائب میں اسباب کے ساتھ ساتھ رب الاسباب پر بھی توجہ دیں
جامعہ دارالعلوم زاہدان کے صدر و شیخ الحدیث نے زاہدان میں فرزندانِ توحید سے خطاب کے پہلے حصے میں اللہ تعالیٰ پر توجہ دینے اور اسی سے مدد مانگنے کی اہمیت واضح کرتے ہوئے کہا: گزشتہ کئی سالوں سے ہم خشکسالی اور قحط سے دوچار ہیں۔ پانی کی قلت ہے۔ موجود پانی بھی کڑوا ہوتاجارہاہے۔ زمین میں موجود پانی زیادہ سے زیادہ نیچے جاچکاہے۔ زلزلے، گردوغبار، گندی ہوا، عمارتوں کی تباہی، مہنگائی اور معاشی بحران نے ہم سب کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
انہوں نے کہا: ان سب واقعات کے کچھ ظاہری اسباب بھی ہیں اور کچھ حقیقی اسباب بھی؛ عام طور پر لوگوں کا ذہن ظاہری ہی اسباب کی طرف جاتاہے اور کوئی رب الاسباب پر توجہ نہیں دیتا جو ان سب وقایع کے پیچھے ہے۔ اس کی اجازت کے بغیر کوئی پتھر اپنی جگہ سے نہیں ہل سکتا۔ علما کو چاہیے عوام کو خدا سے جوڑیں اور انہیں توبہ و استغفار کی ترغیب دیں۔
مولانا نے کہا: اگر اللہ چاہے اپنے عدل کے مطابق بندوں کو ان کے ظلم و گناہوں کی وجہ سے مواخذہ کرے، روئے زمین پر کوئی حرکت کرنے والی مخلوق باقی نہیں رہے گی اور سب ہلاک ہوجائیں گے۔ سب مصیبتیں انسان کی اپنی حرکتوں اور کرتوتوں کے نتائج ہیں۔ لہذا ہمیشہ استغفار کرتے رہنا چاہیے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں