خطیب اہل سنت زاہدان:

کمرتوڑ مہنگائی نے عوام کو پریشان کررکھاہے

کمرتوڑ مہنگائی نے عوام کو پریشان کررکھاہے

زاہدان (سنی آن لائن) شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے ایران میں بڑھتی ہوئی کمرتوڑ مہنگائی اور روٹی کی قیمت بڑھانے کی رپورٹس پر تبصرہ کرتے ہوئے ایران کے معاشی مسائل کی جڑ یں سیاسی مسائل میں پیوست ہیں۔ 6مئی دوہزار بائیس کے خطبہ جمعہ میں انہوں نے حکومت اور ریاستی ذمہ داروں کو مشورہ دیا موجودہ مسائل سے نجات کے لیے ’موافقین و مخالفین کی آرا‘ سے استفادہ کریں۔
اہل سنت ایران کی آفیشل ویب سائٹ ’سنی آن لائن‘ نے مولانا عبدالحمید کی ویب سائٹ کے حوالے سے رپورٹ دی، ممتاز سنی عالم دین نے زاہدانی نمازیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا: افسوس سے کہنا پڑتاہے ملک میں مہنگائی اپنے عروج پر ہے۔ کمرتوڑ مہنگائی اور آسمان سے باتیں کرنے والی قیمتوں نے لوگوں کی زندگی اجیرن بنادی ہے۔
انہوں نے مزید کہا: ملک میں موجود غربت، بے روزگاری، مہنگائی اور سماج پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے حوالے سے حکومت اور ریاست کے ذمہ داروں کو ذمہ داری کا احساس کرنا چاہیے۔ موجودہ صورتحال پر ہر صاحبِ ضمیرکا ضمیر دردمند ہے۔
مولانا عبدالحمید نے آٹے اور روٹی کی قیمتوں میں اضافے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: خبروں میں آیا تھا روٹی کی قیمت بڑھنے والی ہے۔ روٹی لوگوں کی اولین ضرورت ہے۔ بہت سارے لوگ گوشت اور چاول خریدنے سے عاجز ہیں، اگر روٹی بھی ان کے دسترخوان سے غائب ہوجائے وہ بھوک سے مرجائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا: حضرات کا دعویٰ ہے کہ ہم روٹی کی سبسڈی نقد ادائیگی سے کرتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں اس پیشکش کا شکریہ، نقد سبسڈی کی ادائیگی دیگر جہگوں پر ہم نے دیکھا ہے۔ یہ باتیں محض لوگوں کے دل بہلانے کے لیے ہیں۔ آپ روٹی مہنگی نہ کریں تاکہ وہ طبقے جن کے ہاتھ سے دیگر اشیا دور ہیں، کم از کم روٹی ان کے دسترخوان سے غائب نہ ہوجائے۔ سستی روٹی بھی بعض خاندانوں کے پہنچ سے دور ہے، اگر روٹی مہنگی ہوگئی تو اس سے بڑھ کر بڑا بحران پیدا ہوگا۔ لہذا روٹی کی قیمت نہ بڑھانا ایک قومی مطالبہ ہے۔
مولانا عبدالحمید نے سیاسی مسائل کو موجودہ معاشی بحرانوں کی اصل وجہ یاد کرتے ہوئے کہا: بندہ پوری جرات کے ساتھ کہتاہے اور ثابت کرکے دکھابھی سکتاہے کہ معاشی مسائل پیدا ہونے کی اصل وجہ سیاسی مسائل ہیں۔آپ سیاسی مسائل حل کریں، معاشی مسائل خودبخود حل ہوجائیں گے؛ اگر ایسا نہیں ہوا پھر اس شخص کا گریباں پکڑیں جو معاشی مسائل کی جڑوں کو سیاسی مسائل میں دیکھتاہے۔
انہوں نے اعلیٰ حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: معاشی اور اقتصادی بحرانوں سے نجات کے لیے ماہرین معاشیات کے پاس نہ جائیں۔ میں آپ کو یقین دلاتاہوں کہ کوئی ماہر معاشیات ہمارے معاشی مسائل کا حل نہیں بتاسکتاہے، وجہ یہ ہے کہ ہمارے معاشی مسائل کی جڑ کہیں اور ہے۔ آپ داخلہ اور خارجہ پالیسیوں میں نظرثانی کرکے ان میں تبدیلی لائیں۔ اس بارے میں صرف کابینہ اور حکومتی ماہرین کے پاس جانے پر اکتفا نہ کریں، بلکہ علمائے دین سے بھی رابطہ کریں جو قرآن و سنت کی روشنی میں بات کرتے ہیں اور دیگر دانشور حضرات سے بھی رابطہ کرکے موافق و مخالف ماہرین کی آرا معلوم کریں۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے کہا: اگر ان امور کا خیال رکھاجائے، ملک کے تمام مسائل بشمول معاشی مسائل حل ہوجائیں گے اور قومی کرنسی کی قدر بھی بڑھے گی جو اب دنیا میں سب سے کمزور کرنسیوں میں شمار ہوتی ہے۔ ایران کے پاس ایسے ذخائر اور وسائل ہیں جن کا بہت سارے ممالک سے موازنہ نہیں کیا جاسکتا، لیکن واقعی ہمارے ملک کی کرنسی اس قدر بے وقعت اور کمزور کیوں ہے؟!حکام کو اس پر سوچنا چاہیے اور ذمہ داری کے احساس سے موجودہ بحران سے نکلنے کے لیے چارہ جوئی کرنی چاہیے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں