شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید عیدالفطر کی نماز سے پہلے خطاب کرتے ہوئے:

اہل سنت کے مذہبی مسائل ان ہی کے اختیار میں ہونا چاہیے

اہل سنت کے مذہبی مسائل ان ہی کے اختیار میں ہونا چاہیے

اہل سنت ایران کے ممتاز دینی و سماجی رہ نما شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے حکومت سے سنی برادری کے مطالبات پیش کرتے ہوئے صوبائی اور ملکی سطح پر ان کی خدمات حاصل کرنے اور ان کی مذہبی آزادی یقینی بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا اہل سنت کا اپنا اوقاف بورڈ ہونا چاہیے اور حکومت مداخلت کے بجائے صرف مشورت دے کر مانیٹر کرے۔

سنی آن لائن نے مولانا عبدالحمید کی آفیشل ویب سائٹ کے حوالے سے رپورٹ دی، خطیب اہل سنت نے زاہدان کی مرکزی عیدگاہ میں دو مئی دوہزار بائیس کو تین لاکھ سے زائد نمازیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا: مذہبی آزادی کے حوالے سے ہم نہیں کہتے کہ ایسی کوئی چیز نہیں ہے؛ لیکن بعض علاقوں میں سنی شہریوں پر بہت زیادہ دباؤ ہے اور ان کے مذہبی امور میں مداخلت ہوتی ہے۔ جس طرح عراق میں اہل سنت اور اہل تشیع کا اپنا اپنا وقف بورڈ ہے، اہل سنت ایران بھی چاہتے ہیں کہ ان کا اپنا الگ اوقاف بورڈ ہو۔ ہمارے مذہبی مسائل کی بھاگ دوڑ ہمارے ہی ہاتھوں اور اختیار میں ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا: ہم سپریم لیڈر کی نصیحتوں اور شیعہ علما اور ذمہ داران کے مشوروں کو ضرور سامنے رکھیں گے اور جس بات میں ہمارا نقصان نہ ہو، وہ ضرور مان لیں گے۔ ہم افہام و تفہیم اور مدارا پر یقین رکھتے ہیں۔ امید کرتے ہیں گزشتہ 43سالوں سے جاری امتیازی سلوک پر مبنی پالیسیاں ختم ہوجائیں۔
مولانا عبدالحمید نے کہا: مذہبی آزادی کا مسئلہ دنیا میں حل ہوچکاہے اور سب اپنی قومیتی اور مذہبی اقلیتوں کے حقوق کا خیال رکھتے ہیں۔ ہم توقع کرتے ہیں اسلامی ایران میں بھی ایسا ہی ہوجائے اور اہل سنت ایران کے مسائل حل ہوجائیں اور وہ خود اپنے مذہبی امور کے لیے فیصلہ کریں۔ حکومت صرف مانیٹر کرے لیکن کام اہل سنت ہی کے ہاتھوں میں ہو۔

اہل سنت کو حکومتی اداروں میں روزگار دینا اصل مطالبہ ہے
خطیب اہل سنت زاہدان نے صدر رئیسی کی کامیابی میں اہل سنت کے کردار کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: صدر رئیسی کے انتخاب میں اہل سنت نے کلیدی کردار ادا کیا اور سب نے متحد ہوکر اپنا ووٹ ان کے حق میں ڈالا۔ مقصد یہ تھا کہ ہم اپنا پیغام نئی حکومت کے ذمہ داران تک پہنچائیں۔

انہوں نے مزید کہا: اس بار تین اعلی ادارے جو ملک چلارہے ہیں سپریم لیڈر سے زیادہ قریب ہوچکے ہیں اور ہمارا احساس بھی یہی تھا کہ سپریم لیڈر چاہتے ہیں آیت اللہ رئیسی ہی صدر بن جائے۔ ہم نے بھی ان ہی کو ووٹ دیا تاکہ ہمارے مسائل کم ہوجائیں اور اہل سنت اپنے جائز حقوق حاصل کرے۔

صدر جامعہ دارالعلوم زاہدان نے کہا: ایران کے اہل سنت اپنے جائز اور قانونی حقوق سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں مانگتے ہیں۔ وہ صرف اپنے شہری حقوق حاصل کرنے کی کوشش میں ہیں۔ ہم ایرانی ہی ہیں اور ہمارے آباؤ اجداد نے اس ملک کی خاطر جنگیں لڑی ہیں۔ لہذا ہمارا مطالبہ ہے کہ ہمیں دوسرے درجے کے شہریوں کی طرح مختلف حکومتی ذمہ داریوں سے محروم نہ رکھاجائے۔ ہماری مذہبی آزادی مناسب انداز میں یقینی بنائی جائے۔

انہوں نے مزید کہا: سنی اکثریت صوبوں کے مراکز میں سرکاری اداروں میں اہل سنت کا وجود بہت کمزور ہے اور انہیں جان بوجھ کر نظرانداز کیاجارہاہے۔ عدلیہ، فوج، پولیس اور دیگر مسلح اداروں میں ان کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ دنیا کے کسی بھی ملک میں کسی مذہبی برادری کے ساتھ اس طرح کا سلوک روا نہیں رکھا جاتاہے۔

شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ قتل ہے
مولانا عبدالحمید نے قتل کے بڑھتے ہوئے واقعات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا: قتل کی جڑ گناہ اور معصیت ہے۔ جب کسی معاشرے میں گناہوں کی کثرت ہو، پھر قتل جیسے بڑے گناہ بھی ہوتے ہیں جو شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا: کس قدر افسوس کی بات ہے کہ بعض لوگ معمولی تکرار اور جھگڑے پر اسلحہ یا خنجر نکالتے ہیں اور لوگوں پر حملہ کرتے ہیں؛ یہ بہت بری عادت ہے۔نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو مسلمان دوسروں پر اسلحہ نکالے، وہ ہم میں سے نہیں۔ اپنے بچوں کو اسلحہ ساتھ رکھنے سے منع کریں۔ جو قتل کا ارتکاب کرتے ہیں خود کو بھی مصیبتوں میں ڈالتے ہیں، دوسروں کو بھی اور خدا کو بھی ناراض کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی دنیا و آخرت تباہ ہوجاتی ہے۔

پولیس عام لوگوں پر فائر کھولنا بند کرے
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے خطاب کے آخر میں پولیس حکام کو مخاطب کرتے ہوئے فائر کھولنے میں احتیاط کرنے پر زور دیا۔

انہوں نے کہا: پولیس اہلکاروں کی محنتیں قیامِ امن کے سلسلے میں قابل قدر ہیں، لیکن انہیں بہت احتیاط کا سہارا لینا چاہیے۔ محض شک کی بنیاد پر جب کسی جرم کا ثبوت نہیں ہوا ہے، شہریوں پر فائر کھولنا بہت خطرناک ہے۔ نہتے شہریوں پر فائر کھولنے سے عوام بھی ناراض ہوتے ہیں اور اللہ بھی سخت ناراض ہوتاہے۔

خطیب اہل سنت نے کہا: جو لوگ ڈیزل کا کاروبار کرتے ہیں ان پر پولیس کو فائر نہیں کھولنی چاہیے۔ وہ خود پہلے سے عذاب میں ہیں اور ان کی زندگی اجیرن ہے۔ بے روزگاری کی وجہ سے یہ نوجوان ڈیزل ایک شہر سے دوسرے شہر تک لے جاتے ہیں؛ ان پر فائر کھولنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔

انہوں نے ڈیزل لے جانے والے ڈرائیوروں کو بھی نصیحت کی کہ قومی شاہراہوں پر احتیاط سے گاڑی چلائیں اور دوسروں کی زندگیوں کو خطروں میں نہ ڈالیں جو ان روڈوں پر سفر کرتے ہیں۔

مولانا عبدالحمید نے منشیات کو متعدد سماجی مسائل اور مشکلات کی جڑ یاد کرتے ہوئے کہا: منشیات ہمارے لیے بہت خطرناک ہے اور بدترین صورتحال ہوگی جب خواتین بھی منشیات کے استعمال میں ملوث ہوجائیں۔ والدین اپنی اولاد کا خیال رکھیں کہ وہ برے لوگوں کی صحبت سے بچ کر رہیں۔

انہوں نے مزید کہا: ہمیں افسوس ہوتاہے کہ بہت سارے افراد جیلوں میں پھانسی کی سزا پاتے ہیں اور ان کا جرم افیون کا کاروبار ہے۔ پھانسی کی سزا سے بھی یہ سلسلہ نہ رک سکا اور ابھی تک جاری ہے۔ اللہ تعالی نے روزی کو منشیات کے کاروبار سے وابستہ نہیں کیا ہے اور وہ اس کے بغیر بھی روزی دیتاہے۔

عید کے اعلان سے ہمارا ضمیر پرسکون ہے
حکومتی اعلان سے ایک دن قبل عید الفطر کے اعلان پر تبصرہ کرتے ہوئے اہل سنت ایران کی سب سے بڑی دینی و سماجی شخصیت نے کہا: رویت ہلال کے بارے میں ہمیشہ ہماری کوشش ہے کہ اتحاد و یکجہتی محفوظ رہے۔ یہی چیز معاشرہ اور قوم کے مفاد میں ہے۔

انہوں نے مزید کہا: اس سال موسم ابرآلود تھا اور ہر جگہ یکم مئی کی شام کو شوال کا چاند نظر نہیں آیا۔ لیکن ہمارے صوبے میں تیس معتبر افراد نے چاند کو دیکھا تھا اور فلکیات کے ماہرین نے بھی ہلال دیکھنے کے احتمال کو قوی قرار دیا تھا۔ ہم نے اپنے گواہوں کی رپورٹ سرکاری رویت ہلال کمیٹی تک بھی پہنچایا، لیکن پھر بھی عید کا اعلان نہیں ہوا۔ اس لیے ہم نے اپنے قانونی حق کا استعمال کرتے ہوئے عید کا اعلان کیا۔

مولانا عبدالحمید نے کہا: آئین کے مطابق ہر فقہ کے ماننے والے اپنے مسلک پر عمل کرنے میں آزاد ہیں اور ہم نے بھائی چارہ پر یقین رکھتے ہوئے اپنی فقہ کے مطابق عمل کیا۔ اگر ہم ایسا نہ کرتے ہمارا ضمیر یہ گوارا نہیں کرتا کہ متعدد شہادتوں کے وصول کے بعد لوگوں کو روزہ رکھنے کا فتوا دیں۔

یاد رہے اہل سنت ایران نے دو مئی کو دارالعلوم زاہدان کے دارالافتا کے حکم سے عید منائی اور سرکاری طورپر تین مئی کو عید کا اعلان ہوا۔ بعض سنی علاقوں میں سنی شہریوں نے تین مئی کو نماز عید پڑھی، لیکن دو مئی کو روزہ نہیں رکھا۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں