چاغی میں سکیورٹی فورسز کی فائرنگ؛ بلوچ ڈرائیور جاں بحق

چاغی میں سکیورٹی فورسز کی فائرنگ؛ بلوچ ڈرائیور جاں بحق

‘اگر میرے بھائی نے کوئی جرم کیا تھا اور اسے گولی ہی مارنی تھی تو اس کے ٹانگوں پرماری جاتی اور پھر ان کو گرفتار کیا جاتا لیکن ان کو پیشانی پر گولی مارکر ان کی زندگی کا خاتمہ کیا گیا’۔
یہ کہنا تھا بلوچستان کے سرحدی ضلع چاغی سے تعلق رکھنے والے محمد ابراہیم کا جن کا چھوٹا بھائی حمیداللہ جمعرات کے روز افغانستان سے متصل بلوچستان کے سرحدی ضلع چاغی کے علاقے ڈھک میں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی فائرنگ سے ہلاک ہوا۔
محمد ابراہیم نے بتایا کہ ان کے بھائی کو اس وقت گولی ماری گئی جب وہ اپنی خالی زمباد گاڑی میں افغانستان سے واپس آرہا تھا۔
اس واقعے کے خلاف ضلع چاغی میں سکیورٹی فورسز کے کیمپ کے باہر احتجاج اور پتھراﺅ کیا گیا جہاں فائرنگ سے 7 مظاہرین بھی زخمی ہوئے۔
مظاہرین نے احتجاج کرنے والوں پر فائرنگ کرنے کا الزام بھی سکیورٹی فورسز پر عائد کیا۔
تاہم حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے ڈرائیور نے ایک سکیورٹی اہلکار کو ٹکر مار کر فرار ہونے کی کوشش کی تھی جس پر اہلکار نے اپنی دفاع میں فائرنگ کی جس کے باعث ڈرائیور کو گولی لگی جبکہ مشتعل مظاہرین کے سکیورٹی فورسز کے کیمپ پر یلغار کی وجہ سے وہاں موجود اہلکاروں کو اپنی دفاع میں فائرنگ کرنی پڑی۔
ڈرائیور کو ہلاک کرنے اور مظاہرین کو زخمی کرنے کے خلاف جمعے کو چاغی کے ہیڈکوارٹر دالبندین اور نوکنڈی میں نہ صرف شٹرڈاﺅن ہڑتال رہی بلکہ کوئٹہ اور ایران سے متصل سرحدی شہر تفتان کے درمیان شاہراہ احتجاج کی وجہ سے بند رہی تاہم ضلعی انتظامیہ سے مذاکرات کے بعد احتجاج کو ختم کیا گیا۔

ڈرائیور کو ہلاک کرنے کا واقعہ کہاں اور کیسے پیش آیا ؟
ڈرائیورحمید اللہ کو ہلاک کرنے کا واقعہ ڈھک کے علاقے میں پیش آیا۔
ڈرائیور کی ہلاکت کے خلاف احتجاج میں شریک شاہ فہد نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ یہ علاقہ سرحد سے اندازاً پانچ سے چھ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔
حمیداللہ کے بڑے بھائی محمد ابراہیم نے فون پر بتایا کہ حمیداللہ اپنے معاون علاﺅالدین کے ہمراہ اپنی زمباد گاڑی میں افغانستان سے واپس آرہا تھا کہ اس علاقے میں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے بڑی تعداد میں گاڑیوں کو روکا ہوا تھا۔
انھوں نے کہا کہ بھائی کے معاون علاﺅالدین اور دیگر لوگوں نے ان کو بتایا کہ یہاں بہت بڑی تعداد میں گاڑیوں کو روکے جانے کے بعد ان کے ڈرائیوروں کو گاڑیوں کو چھوڑ کر جانے کا کہا جارہا تھا۔
انھوں نے بتایا کہ ‘بھائی کے معاون نے بتایا کہ جب حمیداللہ نے دیکھا کہ گاڑیوں کی بہت بڑی تعداد کو پکڑا گیا ہے اور ان کے لوگ ایک طرف جارہے ہیں تو وہ سکیورٹی فورسز کے قریب جانے کی بجائے تھوڑے سے فاصلے پر اپنی گاڑی کو کھڑی کرکے اس طرف روانہ ہوگئے جس طرف دوسرے ڈرائیور اورلوگ جارہے تھے’۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘بھائی کے معاون ان سے تھوڑا آگے تھا جبکہ حمیداللہ اس وقت تمام لوگوں میں پیچھے تھا۔ انھوں نے کسی وجہ سے مڑکر پیچھے دیکھا تو ان پر سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے گولی چلائی جو کہ ان کی پیشانی پر لگی’۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘جب حمیداللہ شدید زخمی ہونے کے باعث گرپڑا تو سکیورٹی فورسز کے اہلکار ان کے قریب آئے اور ان کے منہ میں پانی ڈالا لیکن وہ جانبر نہیں ہوسکا’۔
محمد ابراہیم نے بتایا کہ جب ان کے بھائی کی گاڑی میں کچھ نہیں تھا اور انھوں نے گاڑی کو سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کے لیے چھوڑ دیا تو پھران پر گولی چلانے کا کوئی جواز نہیں تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘فرض کریں اگر میرے بھائی نے کوئی جرم کیا تھا یا ان پر کوئی الزام تھا اور وہ فرار ہونے کی کوشش کررہا تھا تو ان کو گرفتار کیا جاتا۔ اگر وہ بھاگ رہا تھا اور ان کو پکڑنا ناممکن تھا تو ان کو ٹانگوں میں گولی ماری جاسکتی تھی لیکن ایسا نہیں کیا گیا بلکہ ان کی پیشانی پرگولی ماری گئی’۔

حمید اللہ کون تھے؟
حمیداللہ کا تعلق بلوچستان کے ضلع چاغی کے لشکر آپ سے تھا۔
وہ محنت مزدوری کرتے تھے جو کہ زمباد گاڑی میں کرایے پر چاغی سے افغانستان کے سرحدی صوبہ نیمروز اشیا لے جاتے اور وہاں سے بھی مختلف اشیا ضلع چاغی لاتے تھے۔
محمد ابراہیم نے کہا کہ سات بھائیوں میں حمیداللہ کا نمبر تیسرا تھا۔
انھوں نے بتایا کہ حمیداللہ کی عمر تیس سال کے لگ بھگ تھی اور وہ تین کم سن بچوں کے باپ تھے۔
محمد ابراہیم کا کہنا تھا کہ حمید اللہ پہلے کسی اور کی گاڑی چلاتے تھے لیکن کچھ عرصہ قبل انھوں نے اپنی گاڑی خریدلی تھی اور وہ دونوں ممالک کے درمیان کرایے پر سامان لے جاکر خاندان کے لیے روزی روٹی کا انتظام کرتے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘جن لق دق صحراﺅں اور ریگستانی علاقوں میں ان کے بھائی اپنے بچوں یا خاندان کا پیٹ پالنے کے لیے جاتے تھے۔ ایسے علاقوں میں کوئی انسان مجبوری کی حالت میں جاتا ہے ورنہ کسی کو کروڑ روپے بھی دیے جائیں تو بھی وہ شاید نہ جائے’۔
انھوں نے بتایا کہ وہ خاندان کے لیے روزی روٹی کا انتظام کرتا تھا اور ان کی ناگہانی موت نے نہ صرف ان کے اپنے بچوں بلکہ پورے خاندان کو متاثر کیا ہے۔
حمید اللہ کی ہلاکت کے خلاف احتجاج کے دوران 7 افراد مزید زخمی ہوگئے۔
حمیداللہ کی ہلاکت کے خلاف افطار کے بعد لوگوں کی بڑی تعداد نوکنڈی میں جمع ہوئی اور انھوں نے اس واقعے کے خلاف احتجاج کیا۔
انھوں نے ٹائر جلاکر یہاں سے نہ صرف کوئٹہ اور سرحدی شہر تفتان کے درمیان شاہراہ کو بند کیا بلکہ سکیورٹی فورسز کے ایک کیمپ کے باہر احتجاج کیا۔
مقامی حکام کے مطابق اس موقع پر فورسز کے کیمپ پر نہ صرف پتھراﺅ کیا گیا بلکہ اس کے گیٹ کو بھی نذر آتش کیا گیا جس پر فورسز کے اہلکاروں نے فائرنگ کی جس سے 7 مظاہرین زخمی ہوگئے۔
اس احتجاج کے حوالے سے جو ویڈیوز سوشل میڈیا پر آئیں ان میں شدید فائرنگ کی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔
اس احتجاج میں شریک شاہ فہد بلوچ نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے براہ راست لوگوں پر گولیاں چلائیں جس میں متعدد مظاہرین زخمی ہوگئے۔
ان افراد کو نوکنڈی میں ابتدائی طبی امداد کی فراہمی کے بعد ضلع کے ہیڈکوارٹر دالبندین میں شیخ زید ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں سینیئر ڈاکٹر محمد اقبال نے فون پر رابطہ کرنے پر بتایا کہ ہسپتال میں زخمی ہونے والے 7 افراد کو منتقل کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ طبی امداد کی فراہمی کے بعد ان میں سے ایک کو فارغ کیا گیا جبکہ باقی 6 افراد کو مزید علاج کے لیے کوئٹہ منتقل کیا گیا۔
‘درجنوں گاڑیوں کو تحویل میں لینے کے بعد ان کے ڈرائیوروں اور دیگر لوگوں کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا’۔
احتجاج میں شریک شاہ فہد بلوچ نے بتایا کہ سرحد کے ساتھ دو سو کے لگ بھگ گاڑیوں کو تحویل میں لیے جانے کے بعد ان کے ڈرائیوروں اور دیگر لوگوں کو صحرا اور ریگستانی علاقوں میں جانے دیا گیا۔
اس سلسلے میں سماجی رابطوں کی میڈیا پر ایک ویڈیو میں ایک ڈرائیور یہ بتا رہا ہے کہ دو سو گاڑیوں کو تحویل میں لینے کے بعد ان کی بیٹریوں کو نکال دیا گیا۔
ان کا کہنا تھا پھر ڈرائیوروں کو کہا گیا کہ ابھی آپ لوگوں نے جدھر جانا ہے چلے جائیں ۔’سخت گرمی میں لوگ ریگستانی علاقوں میں نکل گئے۔معلوم نہیں ان میں سے کتنے پھنس گئے اور کتنے نکل آئے۔ معلوم نہیں پھنسے ہوئے لوگوں میں سے کتنے زندہ ہیں یا کتنے مرگئے’۔
اس ڈرائیور کے مطابق وہ اوران کے ساتھ چلنے والے افراد کے چھ گھنٹے تک پیدل چلنےکے بعد ایک گاڑی آئی جس میں وہ بیٹھ کر محفوظ مقام تک پہنچ گئے۔
اس حوالے سے ایک اور ویڈیو میں تین چار لوگ جھاڑیوں کے پاس پڑے دکھائی دے رہے ہیں۔
شاہ فہد بلوچ نے بتایا کہ بہت سارے ڈرائیور ابھی تک لاپتہ ہیں اورمعلوم نہیں کہ وہ صحرا میں کس حال میں ہوں گے۔

احتجاج اور مذاکرات
ڈرائیور کی ہلاکت کے بعد نوکنڈی میں دوسرے روز بھی چاغی کے ہیڈکوارٹر دالبندین اور نوکنڈی میں شٹر ڈاﺅن کے علاوہ تفتان اورکوئٹہ کے درمیان اہم بین الاقوامی شاہراہ کو ٹریفک کے لیے بند کیا گیا۔
تاہم دوسرے روز مذاکرات کے نتیجے میں 12گھنٹے بعد چاغی میں اس شاہراہ پرٹریفک کی آمدورفت بحال ہوگئی۔
شاہ فہد بلوچ نے بتایا کہ ڈرائیور کی ہلاکت اور تحویل میں لیے جانے والے گاڑیوں کے حوالے سے ان کے مطالبے کو تسلیم کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس مطالبے کو مان لیا گیا ہے کہ ڈرائیور کو ہلاک کرنے والے اہلکارکے خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا اور ان کو لیویز فورس کے حکام کے حوالے کیا جائے گا اورڈرائیور کے لواحقین کو معاوضہ دیا جائے گا۔ لیویز فورس کے حوالگی کے بعد یہ حق مقتول کے لواحقین کا ہوگا کہ وہ ذمہ دار اہلکار کو معاف کریں یا ان کے خلاف مقدمہ چلائیں۔
انھوں نے بتایا جو گاڑیاں پکڑی گئی تھیں ان کو چھوڑدیا جائے گا اور وہ معمول کے مطابق اپنا کاروبار جاری رکھیں گے۔

سرکاری حکام کا کیا کہنا ہے؟
ڈرائیور کی ہلاکت اور مظاہرین پر گولی چلانے سے متعلق سیکورٹی فورسز کے حکام کا موقف جاننے کے لیے کوئٹہ اور کیچ میں نہ صرف ان کے متعدد سینیئر اہلکاروں سے رابطہ کیا گیا بلکہ ان کو واٹس ایپ پر میسیج بھی بھیجا گیا مگر 24 گھنٹے گزرنے کے باوجود انھوں نے جواب نہیں دیا۔
اسی طرح محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے اعلیٰ حکام سے فون پر متعدد بار رابطے کی کوشش کی گئی لیکن انھوں کال وصول نہیں کی۔ اسی طرح کمشنر رخشاں ڈویژن اور ڈپٹی کمشنر چاغی نے بھی نہ کال وصول کی اور نہ واٹس ایپ پر بھیجے جانے والے میسیج کا جواب دیا۔
تاہم چاغی انتظامیہ کے ایک آفیسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سیکورٹی فورسز کا موقف یہ ہے کہ ہلاک ہونے والے ڈرائیورکو سکیورٹی اہلکاروں نے رکنے کا اشارہ کیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘ڈرائیور نے گاڑی کو روکنے کی بجائے ایک سکیورٹی اہلکار کو ٹکر مارکر فرار ہونے کی کوشش کی۔ سکیورٹی اہلکار گر کر زخمی ہوا تاہم انھوں نے اپنے دفاع میں ہوائی فائرنگ کی جس سے ڈرائیور کو گولی لگی’۔
انتظامیہ کے آفیسر نے بتایا کہ جہاں تک مظاہرین کے زخمی ہونے کی بات ہے تو مشتعل مظاہرین نے نوکنڈی میں سیکورٹی فورسز کے کیمپ پریلغار کے علاوہ اس کے گیٹ کو نذر آتش کیا تھا جہاں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو اپنی دفاع میں ہوائی فائرنگ کرنی پڑی۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈرائیوروں کی صحرا ور ریگستان میں پھنسنے کی اطلاع کے بعد اس علاقے میں گاڑیاں بھیجی گئیں اور وہاں پھنسے ہوئے ڈرائیوروں اور لوگوں کو ریسکیو کیا گیا۔
سرحدی اضلاع کے لوگوں کے معاش اور روزگار کا انحصار سرحدی اشیا سے ہونے والی اشیا کی نقل وحمل پر بلوچستان کے مجموعی طور پر 11 اضلاع کی سرحدیں افغانستان اور ایران سے لگتی ہیں۔
ان میں سے ژوب،قلعہ سیف اللہ،پشین،چمن،قلعہ عبداللہ اور نوشکی کی سرحد افغانستان سے ، چاغی کی سرحدیں افغانستان اور ایران دونوں سے جبکہ واشک،پنجگور،کیچ اورگوادر کی سرحد ایران سے لگتی ہے۔
ان اضلاع کے علاوہ ان سے متصل دیگر اضلاع کے لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد کی معاش اور روزگار کا انحصار دونوں ممالک کے درمیان سرحد علاقوں سے مختلف اشیاءکی قانونی اور غیر قانونی نقل و حمل پرہے۔
ضلع چاغی سے تعلق رکھنے والے سینیئر صحافی علی رضا رند کا کہنا ہے کہ متبادل روزگار کے ذرائع نہ ہونے اور گذشتہ دو دہائیوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث لوگوں کے روزگار کے فطری ذرائع زراعت اور گلہ بانی کے متائثر ہونے سے اب ان اضلاع میں لوگوں کا انحصار سرحدی تجارت پر بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ اس بات کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ رزوانہ صرف چاغی اور افغانستان کے صوبہ نیمروز کے درمیان 6 سو کے قریب زمباد گاڑیوں کی آمدورفت ہوتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں اس وقت جو چیزیں زیادہ جارہی ہیں ان میں یوریا اور آٹا شامل ہیں جبکہ وہاں سے جو چیزیں آتی ہیں ان میں ٹائر، کپڑے، گاڑیوں کے پرزے اور بڑی تعداد میں دیگر غیر ملکی اشیا شامل ہیں۔
علی رضا رند نے بتایا کہ ایران سے زیادہ تر تیل اور خوراکی اشیا آتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ چند سال سے پاکستانی حکام کی جانب سے ان اشیا کی نقل و حمل پر سختی شروع کی گئی ہے جس کے باعث سرحدی علاقوں میں لوگوں کا معاش اور روزگار متائثر ہورہا ہے جس سے چمن سے لیکر گوادر تک تمام سرحدی اضلاع میں لوگوں کے احتجاج اور اس کے نتیجے میں مسائل سامنے آرہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان کے سرحدی علاقوں میں جب تک لوگوں کے معاش اور روزگار کے لیے متبادل انتظام نہیں کیا جاتا اس وقت تک لوگوں کا انحصار سرحدوں پراشیا کے لانے اور لے جانے پر نہ صرف برقرار رہے گا بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس میں اضافہ بھی ہوگا۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں