مولانا عبدالحمید خطبہ جمعہ میں:

اللہ سے تعلق تمام عبادات کی روح ہے

اللہ سے تعلق تمام عبادات کی روح ہے

خطیب اہل سنت زاہدان نے اخلاص اور اللہ سے تعلق کو دین اور دیانت کی روح یاد کرتے ہوئے ہر کام اور عبادت میں اللہ تعالیٰ کی رضامندی کو مدنظر رکھنے پر زور دیا۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ پندرہ اپریل دوہزار بائیس کو نماز جمعہ سے پہلے خطاب کرتے ہوئے کہا: اللہ تعالیٰ نے روزہ، زکات، نماز اور دیگر احکام و فرائض کو اس لیے قرار دیا ہے تاکہ انسان کے وجود میں عبادات کی روح پیدا ہوجائے؛ تقویٰ، اخلاص اور اللہ تعالیٰ کی رضامندی حاصل کرنے کا شوق عبادت کی روح ہے۔
انہوں نے مزید کہا: اللہ رب العزت چاہتاہے کہ اس کے بندے سب عبادات اسی کی رضامندی حاصل کرنے کی خاطر بجا لائیں۔ فرائض کو اسی محرک سے بجالانااللہ سے وابستگی اور محبت کی نشانی ہے جو انسان میں تقویٰ پیدا کرتاہے۔
مولانا عبدالحمید نے زاہدانی نمازیوں سے خطاب میں کہا: اللہ تعالیٰ یہ چاہتاہے کہ بندے خود کو اس ذات پاک سے بے نیاز نہ سمجھیں۔ چونکہ انسان ہر حال میں خدا ہی کے محتاج ہے اور جو کچھ اس کے پاس ہے وہ اللہ کا دیاہوا ہے۔ یہ بات اللہ کو پسند ہے کہ بندہ خوشی اور غم سمیت ہر حالت میں اللہ ہی کو پکارے اور اپنی درماندگی و عاجزی کا اظہار کرتارہے۔ توبہ بھی یہی ہے کہ بندہ اللہ کے سامنے تضرع کرے اور اسی سے مناجات اور رازونیاز کرے۔
شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے کہا: عبادات جب بندہ اور اللہ تعالیٰ کے درمیان زیادہ خاص ہوں گی اور ان میں اللہ کی رضامندی حاصل کرنے کی خواہش زیادہ ہوگی، ایسی عبادات کا اجر بھی اتنا ہی زیادہ اور قیمت بھی اتنی ہی بڑھے گی۔ اخلاص اور للہیت سب عبادات کی روح ہے۔ اللہ کے یہاں کوئی بھی صدقہ قابل قبول نہ ہوگا جب تک اللہ کی رضامندی حاصل کرنے کی نیت سے نہ ہو۔ دیگر عبادات کا بھی یہی حال ہے۔
انہوں نے مزید کہا: اللہ تعالیٰ کو روزہ بہت پسند ہے اور یہ انسان اور خدا کے درمیان ہے اور اس میں ریاکاری اور نمائش کا امکان کم ہے۔ عام لوگ نہیں جانتے ہیں کس کا روزہ ہے۔ حدیث قدسی میں آیاہے کہ روزہ میرا ہے اور قیامت کو میں خود ہی اس کا اجر دے دوں گا۔
صدر شورائے مدارس اہل سنت سیستان بلوچستان نے کہا: اللہ کو وہ دل پسند نہیں ہیں جو دنیا اور گناہ میں گرفتار ہیں۔ مومن کو چاہیے غیر خدا کو دل سے نکالے۔ کوئی دوکان میں ہو اور اس کا دل اللہ کی یاد سے آباد ہویہ اللہ کو زیادہ پسند ہے اس شخص سے جو مسجدالحرام میں نماز پڑھتاہے لیکن اس کا دل غافل ہے۔ اللہ سے تعلق دین و دیانت کی روح ہے۔ اللہ چاہتاہے کہ بندہ صرف اسی سے وابستہ رہے۔

رمضان کا احترام محفوظ رہے
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے خطاب کے ایک حصے میں رمضان المبارک میں گناہوں کو ترک کرنے پر تاکید کرتے ہوئے کہا: رمضان رحمت، مغفرت، اور نزول قرآن کا مہینہ ہے اور اسی مبارک ماہ میں شب قدر بھی ہے، لیکن افسوس ہے کہ کچھ لوگ ایسے مبارک مہینے میں بھی روزہ، پنج وقتہ نمازوں اور نماز جمعہ کی ادائیگی میں سستی کرتے ہیں۔ کاش یہ لوگ روزہ کی فضیلت اور جسم و روح کے لیے فوائد کو سمجھ لیتے اور نماز قائم کرلیتے تاکہ اللہ کی رحمت ان پر نازل ہوجائے۔
انہوں نے مزید کہا: رمضان کی عزت اور احترام کا خیال رکھنا چاہیے۔ اسلامی شہر میں ریسٹورنٹ اور چائے خانوں کی کھلم کھلا سرگرمی نہیں ہونی چاہیے، البتہ بعض ریسٹورنٹ مسافروں اور بیماروں کے لیے کھلے رہیں اس میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ لیکن رمضان کا احترام محفوظ رہنا چاہیے۔
مولانا عبدالحمید نے کہا: انتہائی شرم اور افسوس کی بات ہے کہ رمضان میں غیبت، جھوٹ، معصیت، منشیات اور شراب نوشی بند نہ ہو۔ گناہ چھوڑنا اور روزہ رکھنا اللہ کا حکم ہے۔ ہمیں اللہ کا حکم مان لینا چاہیے۔
ممتاز عالم دین نے رمضان کو بذل و جود کا مہینہ یاد کرتے ہوئے کہا: رمضان میں اللہ تعالیٰ مومن کی روزی میں برکت اور فراخی لاتاہے۔ لہذا اس ماہ میں غریبوں، یتیموں، بیواؤں، قیدیوں کے گھروالوں، معذوروں، مساجد کے اماموں اور خاص کر دینی مدارس جو دین کے قلعے ہیں پر خرچ کریں اور انہیں مدد کریں۔
انہوں نے کہا: جامعہ دارالعلوم زاہدان بانی جامعہ مولانا عبدالعزیز رحمہ اللہ کی اخلاص و للہیت اور مسلمانوں کی حمایت اور اساتذہ کی انتھک محنتوں کی برکت سے ایک عالمی علمی مرکز بن چکاہے۔ اس جامعہ پر بھی خصوصی توجہ دیں۔

مختلف ممالک افغانستان کو منشیات کی کاشت پر پابندی میں مدد کریں
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے خطاب کے آخری حصہ میں افغانستان میں پوست سمیت سب منشیات کی کاشت پر سرکاری پابندی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: اسلامی امارت افغانستان کا بیان جس کے مطابق پوست سمیت ہر قسم کی منشیات کی کاشت منع ہے، بہت خوش آئند اقدام ہے۔
انہوں نے مزید کہا: منشیات کے کاروبار میں بڑا نقصان ہے اور بہت سارے ممالک خاص طورپر افغانستان کے پڑوسی اس کے نقصانات کی زد میں آچکے ہیں۔ بہت سارے اہلکار منشیات کے خلاف مزاحمت میں شہید ہوچکے ہیں اور متعدد شہری بھی اس کاروبار میں ملوث ہونے کی وجہ سے پھانسی کی سزا پاچکے ہیں۔ بہت سارے قبائلی لڑائیوں اور اغوا برائے تاوان کے واقعات کی اصل وجہ منشیات اور افیون کا کاروبار ہے۔ اس کاروبار نے انسانیت ہی کو نقصان پہنچایاہے۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے کہا: دعا کریں اللہ تعالیٰ افغان حکام کو توفیق دے اس حکم کو نافذ کرسکیں۔ نیز امید کرتے ہیں افغانستان کے ہمسایہ ممالک بشمول ایران اور پاکستان اور دیگر مسلم اور غیرمسلم ممالک افغانستان کی حمایت کریں گے۔ جو کاشتکار اب تک پوست کاشت کرتے تھے، انہیں مدد کریں تاکہ وہ دیگر جائز زراعت کی طرف لوٹیں اور عوام کا نقصان نہ ہو۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں