گنبد کاووس اور مشہد میں علما کا قتل؛ ممتاز سنی علما نے مذمت کی

گنبد کاووس اور مشہد میں علما کا قتل؛ ممتاز سنی علما نے مذمت کی

ملک کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے نامور علمائے کرام نے گنبد کاووس میں دو سنی علما کے قتل اور مشہد میں دو شیعہ عالم دین کے قتل پر اظہارِ مذمت کرتے ہوئے عوام کی بیداری اور ان حوادث کے پیچھے ملوث ملزمان تک پہنچنے اور انہیں قرارِ واقعی سزا دلوانے پر زور دیا۔
اہل سنت ایران کی آفیشل ویب سائٹ (سنی آن لائن) کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی بلوچستان کے صدرمقام زاہدان کے ممتاز عالم دین مولانا عبدالحمید نے گنبد کاووس اور مشہد میں شیعہ و سنی علما کے قتل کو بزدلانہ حملہ یاد کرتے ہوئے ان اقدامات کی پرزور مذمت کی۔
انہوں نے ویڈیو پیغام شائع کرتے ہوئے کہا:دشمن کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے عوام اور حکام کو سمجھداری اور بیداری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ دونوں واقعات کی اچھی طرح چھان بین کرکے مسئلہ شفاف کرایاجائے۔
شمالی صوبہ گلستان کے ضلع گنبد کاووس میں دو اپریل دوہزار بائیس کو تراویح سے پہلے نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے دو سنی ترکمن عالم دین قتل ہوئے۔ تین دن بعد پانچ اپریل کو مشہد میں امام رضا کے مزار کے احاطے میں تین شیعہ علما پر چاقو سے وار کیا گیا جہاں دو افراد جاں بحق ہوئے۔
صوبہ خراسان کے جامعہ احناف خواف کے صدر مولانا حبیب الرحمن مطہری نے بیان دیتے ہوئے کہاہے: مشہد اور گنبد کاووس میں انتہائی تلخ اور المناک واقعہ اسلام اور انقلاب کے دشمنوں کی سازش ہے۔سب کو معلوم ہے شیعہ و سنی قرآن پاک پر عمل پیرا ہوکردلوں میں نبی کریم ﷺ اور ان کے اہل بیتؓ کی محبت کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ رہیں گے اور فتنہ انگیزوں کو ناکام بنادیں گے۔
جنوبی خراسان میں سنی علما کی مجلس نے بیان دیا ہے کہ مشہد اور گنبد کاووس میں پیش آنے والے واقعات انسانیت کے خلاف اور شرمناک ہیں۔ ان واقعات کی مذمت کرتے ہیں اور سکیورٹی و عدلیہ حکام سے چاہتے ہیں قاتلوں کو شناخت کراکر قرارِ واقعی سزا دلوائیں۔
ایران کے جنوبی ساحلی شہر بندر لنگہ کے دینی ادارہ سلطان العلما کے صدر شیخ محمدعلی امینی نے بھی ان واقعات پر مذمت کا اظہار کیا ہے۔
اہل سنت جنوب کے مایہ ناز عالم دین نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ شفاف تحقیقات سے معلوم کرائیں قاتلوں نے کس بنیاد پر ان علما کو قتل کیا ہے اور ان اقدامات کے پیچھے فرقہ وارانہ سوچ کارفرما رہی ہے یا سیاسی، مالی یا غیرت کے نام پر ایسا ہوا ہے۔نیز مکمل تحقیقات سے پہلے افواہ پھیلانے سے گریز کیا جائے تاکہ اس طرح کے مزید ممکنہ واقعات کی روک تھام ہوجائے۔
مولانا نذیراحمد سلامی، جامعہ دارالعلوم زاہدان کے استاذ الحدیث اور صوبہ سیستان بلوچستان سے منتخب رکن مجلس ماہرین (مجلس خبرگان رہبری) نے بھی بیان دیتے ہوئے مشہد اور گنبد کے واقعات کو امت مسلمہ میں اختلاف ڈالنے کی سازش قرار دی۔
مشہد ایران کے شمال مشرق میں گنبدکاووس سے پانچ سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
صوبہ گلستان کے عدلیہ سربراہ نے بیان دیا ہے گنبد کے واقعے کے الزام میں ایک مشتبہ فرد کو حراست میں لیاگیا ہے۔ مزید تفصیلات شائع نہیں ہوئی ہیں۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں