سب سے بڑے اولیاء اللہ اور ائمہ فقہ و حدیث بھی صحابہ کے مقام تک نہیں پہنچ سکتے

سب سے بڑے اولیاء اللہ اور ائمہ فقہ و حدیث بھی صحابہ کے مقام تک نہیں پہنچ سکتے

خطیب اہل سنت زاہدان نے صحابہ کرامؓ کی شان اور مقام پر روشنی ڈالتے ہوئے بڑے سے بڑے اولیاء اللہ اور ائمہ حدیث و فقہ کے مقام کو ادنی ترین صحابی کے مقام سے بھی کمتر یاد کیا۔
پچیس مارچ دوہزاربائیس کو نماز جمعہ سے پہلے خطاب کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے کہا: صحابہ کرامؓ کو یہ شرف حاصل ہوا کہ انہوں نے دین کی حفاظت کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور اسلام کا دفاع نبی کریمﷺ کی مصاحبت میں کیا۔
انہوں نے کہا: اولیاء اللہ اور فقہ و حدیث کے اماموں کا مقام اونچا ہے، لیکن ایک معمولی صحابی کا مقام بھی ان بزرگوں کے مقام سے بہت اونچا ہے۔ یہ سب صحابہ ہی کے خوشہ چین ہیں۔ نبی کریم ﷺ کی زیارت اور مجالست بے مثال نعمت تھی جو صحابہ کی تربیت میں بہت موثر تھی۔
شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے کہا: صحابہ کرامؓ نبی کریم ﷺ کے تربیت یافتہ ہیں۔ کوئی بھی ایسے استاذ، مربی، عالم، مفتی اور مرجع دنیا میں نہیں گزرا ہے جو نبی کریم ﷺ کی مانند اپنے شاگردوں کو اچھی تربیت کرائے۔ خلیل خدا، صاحب وحی اور معجزہ اور امام المتقین کی مجالست و صحبت کی تاثیر سب سے بڑھ کر ہے۔
مولانا عبدالحمید نے مزید کہا: رسول اللہ ﷺ نے اپنے ساتھیوں اور صحابہ کی توہین اور ان کی شان میں گستاخی سے منع فرمایاہے۔ بہت سارے لوگ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی شان میں گستاخی کرتے ہیں، حالانکہ آپؓ ایک صحابی اور کاتب وحی تھے۔ جتنے فضائل و مناقب صحابہ کرامؓ کی شان میں آئے ہیں، وہ سب صحابہ کے بارے میں ہیں اور حضرت معاویہؓ کو بھی شامل ہیں۔
انہوں نے کہا: صحابہ کرامؓ اگرچہ معصوم نہیں تھے، لیکن قرآن پاک میں جہاں جہاں ان کی غلطیوں اور گناہوں کا تذکرہ ہے، وہیں ان کی معافی کا اعلان بھی ہوا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی صحابہ کرامؓ کے ساتھ مہربانی اور ان پر توجہ کی نشانی ہے۔ لہذا پوری امت پر لازم ہے صحابہ و اہل بیتؓ کا احترام کریں اور نبی کریمﷺ سے ان کی جو نسبت ہے، اس کا خیال رکھیں۔

نماز اور زکات سمیت سب احکام معاشرے کی اصلاح اور انسان کی نجات کے لیے ہیں
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے بیان کے پہلے حصے میں سب احکامِ الہی کو اصلاح معاشرہ اور انسان کی عذابِ الہی سے نجات کے لیے قراردیتے ہوئے اسلامی شریعت کی پوری پابندی پر زور دیا۔
انہوں نے سورہ توبہ کی آیات نمبر 34 اور 35 کی تلاوت سے اپنے خطاب کا آغاز کرتے ہوئے کہا: اللہ تعالیٰ انسان کو پیداکرنے والا ہے اور اس کی استعداد، طاقتیں، پیچیدگیوں اور کمزوریوں اور اچھائیوں سے بخوبی آگاہ ہے۔ اسی لیے انسان کی اصلاح کے لیے بہترین منصوبہ بندی اور سب سے جامع پروگرام وہی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے پیش کیا ہے۔
مولانا عبدالحمید نے مزید کہا: اللہ تعالیٰ نے انسان کے باطن کی اصلاح کے لیے اور ہر قسم کی برائیوں سے اس کی پاکی کے لیے شریعت کو نازل فرمایا۔ اللہ کے احکام انسان کی پاکی اور اسے جنت لے جانے کے لیے ہیں۔
انہوں نے نماز کو انسان کی تزکیہ کے لیے موثر یاد کرتے ہوئے کہا: نماز سب آسمانی مذاہب میں موجود تھی اور سب انبیا ؑ نے اس پر تاکید کی ہے۔ البتہ اس کی کیفیت اور رکعات کی تعداد میں اسلام میں فرض کی گئی نماز کی کیفیت اور رکعات میں فرق ہے۔
مولانا نے کہا: نماز اللہ کے ساتھ مناجات اور مکالمہ ہے جو انسان کو اندر سے اصلاح کرتی ہے، دل میں خوف پیدا کرتی ہے اور بندے کے تعلقات کو اللہ سے مستحکم بناتی ہے۔ دل میں اللہ کی محبت پیدا کرتی ہے۔ لہذا کوشش ہونی چاہیے کہ نماز کہیں قضا نہ ہوجائے۔
حضرت شیخ الاسلام نے انسان کی اصلاح میں موثر دوسری عبادت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا: زکات کی ادائیگی انسان کی اصلاح میں بہت موثر ہے۔ زکات دینے والا اللہ جل جلالہ کے ایک حکم کی تعمیل کرتاہے، غریبوں، یتیموں اور محتاج لوگوں سے ہمدردی کا اظہار کرتاہے۔ زکات بھی سب آسمانی مذاہب میں مشترکہ عبادت رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا: زکات دینے سے بخل اور کنجوسی کی صفت، لالچ اور مال کی شدید محبت ختم ہوجاتی ہیں۔ حبِ مال مطلقا مذموم اور ناپسند نہیں ہے، لیکن یہ مال سے محبت جب حد سے بڑھ جاتی ہے، یہاں تک کہ انسان اپنے اہل و عیال کا نفقہ برداشت نہیں کرتا اور لوگوں کے واجب حقوق ادا نہیں کرتا، رشوت لیتاہے اور سود کھاتاہے، ناجائز معاملات کرتاہے، پھر یہ حب مال مذموم ہے۔ زکات دینے سے یہ مال کی یہ ناجائز محبت ختم ہوجاتی ہے۔
مولانا نے کہا: زکات نہ دینا ایک سنگین گناہ اور اپنے اوپر بڑی بے رحمی ہے۔ جس طرح کاروباری شریکوں کا حساب بڑی باریک بینی سے دیتے ہیں، اسی طرح زکات جو خدا کا مال اور غریبوں اور مستحقین کا ہے، اسے بھی اچھی طرح حساب لگاکر دیں۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے کہا: واجب زکات کی طرح نفلی صدقات بھی مال کی شدید اور ناجائز محبت کو دل سے نکالنے میں مفید ہیں۔ انسان کو کمزوریوں سے پاک کرتی ہیں اور جہنم سے نجات کے ذریعے ہیں۔ زکات سے باقی مال پاک ہوجاتاہے اور زکات نہ دینے سے پورا مال تباہی کے خطرے سے دوچار ہوجاتاہے۔
انہوں نے بطورِ خاص شعبان اور رمضان میں زیادہ سے زیادہ مختلف عبادات کے اہتمام پر زور دیتے ہوئے حاضرین کو اللہ تعالیٰ کے احکام کی پابندی کی نصیحت کی۔

مولانا عبدالحمید نے اپنے خطاب کے آخر میں نئے سال کی سالانہ چھٹیوں کے موقع پر سفر کرنے والوں کے اکرام اور احترام پر زور دیتے ہوئے ڈرائیوروں کو ٹریفک قوانین کی پاسداری کی تاکید کی۔
انہوں نے ممتاز قبائلی رہ نما اور بااثر شخصیت مرحوم حاجی مہیم شہ بخش (سمالزی) کے انتقال پر ملال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہیں اہل علم کے خادم یاد کیا اور ان کی مغفرت اور درجات کی بلندی کے لیے دعا کی۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں