ایرانی پارلیمنٹ میں سنی بلاک کے سربراہ:

جناب صدر! تم نے سنی برادری کو پوری طرح بھلادیاہے

جناب صدر! تم نے سنی برادری کو پوری طرح بھلادیاہے

جلال محمودزادہ، اسلامی مجلس شوریٰ کے رکن نے موجودہ ایرانی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے سنی برادری اور کرد و بلوچ اقوام کے بارے میں صدر رئیسی کے دیے گئے وعدوں کی یاددہانی کرائی۔ انہوں نے کابینہ میں اہل سنت اور کردوں کو حصہ نہ دینے پرصدر رئیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
سنی آن لائن نے ایکانا نیوز ایجنسی کے حوالے سے رپورٹ دی، محمودزادہ نے ہجری شمسی سال کے آخری ایام میں پارلیمنٹ کے عمومی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا: جناب صدر! آج ہمارے لوگ تمہارے دیے گئے وعدوں کے بارے میں فیصلہ کریں گے۔ آپ نے وعدہ کیا تھا کہ ایک عوامی حکومت بنائیں گے جو قومی وفاق کی نشان ہو، لیکن آپ نے نہ صرف مختلف سیاسی جماعتوں کو نظرانداز کیا بلکہ انقلاب کی پوری تاریخ میں پہلی بار ایک ایسی حکومت کو سامنے لایا جس کے اکثر ارکان سابقہ سکیورٹی ذمہ دار ہیں۔
اہل سنت بلاک کے سربراہ نے مزید کہا: آپ نے بلوچ اور کرد برادریوں کو نہ صرف بھلادیا بلکہ سابقہ سنی شہریوں کو جو درمیانہ درجے کے عہدوں پر فائز تھے، مختلف وزارتخانوں سے نکال دیا جس پرسنی علمائے کرام اور دانشوروں نے احتجاج کیا۔
انہوں نے عوام کے معاشی مسائل، اساتذہ کے مطالبات اور قومی شاہراہوں کی خستہ حالی پر تنقید کرتے ہوئے کہا: کب تک تعلیم یافتہ بلوچ اور کرد نوجوان ڈیزل سمیت دیگر غیرقانونی کاروباروں کی نذر ہوجائیں؟ قانونی چارہ جوئی کو کیوں نظرانداز کیا جارہاہے اور آئے روز بارڈر پر ہمارے نوجوان مارے جارہے ہیں؟ حال ہی میں تین افراد برفانی موسم میں ناپید ہوچکے ہیں جن کا اب تک کوئی پتہ ہی نہیں۔
جلال محمودزادہ ضلع مہاباد صوبہ آذربائیجان غربی سے اسلامی مجلس شوریٰ کے رکن منتخب ہوچکے ہیں۔ مہاباد میں اکثر باشندوں کا تعلق کرد برادری سے ہے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں