مولانا عبدالحمید کا ’انصاف نیوز‘ کو خصوصی انٹرویو:

اہل سنت سے دباؤ اٹھایاجائے

اہل سنت سے دباؤ اٹھایاجائے

ایران میں اہل سنت بعض تعصبات اور تنگ نظریوں کی وجہ سے نظرانداز ہوتے چلے آرہے ہیں۔ افغانستان میں طالبان کی حمایت ہماری شناخت کی وجہ سے تھی۔ طالبان نے مثالی امن قائم کیا ہے اور امید کرتے ہیں خواتین کو ان کے مکمل حقوق مل جائیں۔ ایران سعودی تعلقات میں تناؤ امریکا اور اسرائیل کے مفاد میں ہے۔ یہ خیالات ہیں مولانا عبدالحمید کے جنہوں نے تہران میں ایک قومی خبررساں ادارے کے نمائندے سے اظہار کیا ہے۔
ایران کی اہل سنت برادری کے ممتاز دینی و سماجی رہ نما شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے تہران میں انصاف نیوز نامی ویب سائٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے مختلف ملکی اور علاقائی مسائل پر تفصیلی گفتگو کی ہے۔ان کی گفتگو کے اصلی نکات سنی آن لائن اردو کے قارئین کی خدمت میں پیش ہیں:

طالبان کی فوری اور علانیہ حمایت کیوں؟
طالبان ہم سے قریب ہیں اور ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ انہوں کیسے قابض نیٹو اور امریکی فورسز کے خلاف مزاحمت کی۔ کسی مسلم ملک پر غیرملکیوں کا قبضہ ناقابل قبول ہے۔ طالبان نے قربانیاں دیں اور قابض افواج کو اپنے دیس سے نکالا۔ اب افغانستان کی تقدیر افغانوں کے ہاتھوں میں آچکی ہے۔ یہ بہت اچھی بات ہے۔
طالبان کے آنے کے بعد چالیس سالہ بدامنی کا خاتمہ ہوگیا۔ خانہ جنگی ختم ہوچکی ہے۔ وہاں مثالی امن قائم ہے۔ مختلف صوبوں کو وہاں کے مقامی لوگ چلارہے ہیں جن کا تعلق مختلف لسانی اور مسلکی برادریوں سے ہے۔ خواتین کے حقوق کے بارے میں بھی مثبت خبریں آرہی ہیں۔کالجز اور یونیورسٹیز کے دروازے ان کے لیے کھول دیے گئے ہیں۔ خواتین ملازمین کی تنخواہیں بھی انہیں ادا کی جاچکی ہیں جو سابقہ حکومت میں ملازمت کرتی تھیں۔
طالبان میں کچھ کمزوریاں ہوسکتی ہیں، لیکن سب قابلِ اصلاح ہیں۔ بیس سال پہلے وہ ٹی وی اور تصویر کو نہیں مانتے تھے، لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ انہوں نے عام معافی کا اعلان کیا اور اس پر پابند بھی رہے۔
میرا براہ راست طالبان سے تعلقات نہیں؛ لیکن میری باتیں ان کی قیادت تک پہنچ جاتی ہیں۔
طالبان چاہتے ہیں خواتین کے حقوق اور انسانی حقوق کے موضوع پر بین الاقوامی کانفرنس منعقد کرائیں۔ جب یہ کانفرنسز منعقد ہوجائیں مختلف ملکوں سے مہمان آئیں گے اور میری شرکت بھی متوقع ہے۔

اہل سنت کے مسائل و مصائب
اہل سنت ایران کے اصل مطالبات دو ہیں: امتیازی سلوک کا خاتمہ کرکے ہمارے قابل افراد سے کام لیاجائے۔ انہیں اعلیٰ عہدوں پر تقرر کیا جائے۔ سنی اکثریت صوبوں میں گورنر، نائب گورنر جیسے عہدوں کے لیے اہل سنت سے کام لینا چاہیے۔
بعض وزارتخانوں میں ایک سنی شہری بھی نہیں ہے۔ مسلح اداروں میں اہل سنت کو بہت کم بھرتی کی جاتی ہے۔ پارلیمنٹ کے علاوہ دیگر فیصلہ ساز اداروں میں اہل سنت کا کوئی فرد موجود نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کچھ حکام اور شیعہ علما تنگ نظری اور تعصب کا شکار ہیں اور اہل سنت کو برداشت نہیں کرسکتے ہیں۔
ہمارا دوسرا مطالبہ مذہبی آزادی ہے۔ ہمارے مذہبی امور میں سرکاری مداخلت ناقابل قبول ہے۔ سرکاری مداخلت کی وجہ سے ہمیں نقصان ہوا ہے۔ لوگ دین سے دور ہوچکے ہیں۔ پولیس بعض شہروں میں اہل سنت کو نماز پڑھنے نہیں دیتی ہے۔ انہیں مسجد تعمیر کرنے میں رکاوٹیں اور مسائل کا سامنا کرنا پڑرہاہے۔
سکیورٹی اداروں کو ہمارے مذہبی امور میں مداخلت کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ ہمارے مذہبی مسائل میں سرکاری اداروں کو فیصلہ کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ اہل سنت دباؤ میں ہیں اور یہ دباؤ اٹھانا چاہیے۔
ہم ایران کے شہری ہیں اور اپنے وطن سے پیار کرتے ہیں۔ ہماری باتیں اور مطالبات قومی مفادات سے وابستہ ہیں۔ ہم اسی قوم کا حصہ ہیں۔ انتخابات کے موقع پر ہمارے مطالبات قومی ہیں۔ سب سے بڑا مسئلہ عوام کی معیشت ہے اور اس بارے میں ہم نے اپنی تجاویز پیش کی ہے۔ لوگ خاص کر اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقہ ملک سے بھاگ رہاہے جس سے ہم سب پریشان ہیں۔ فکرِ معاش نے سب کو ملک چھوڑنے پر مجبور کیا ہے۔بڑی تنخواہیں لینے والے بھی پریشان ہیں۔
دینی اور روحانی حوالے سے عوام کمزوری کا شکار ہوچکے ہیں۔ وہ علما سے نفرت کرتے ہیں چونکہ حکومت کی بھاگ دوڑ علما کے ہاتھوں میں ہے۔ جب تک حکومت اپنی داخلی اور خارجی پالیسیوں میں تبدیلی نہ لائے، عوام حکومت سے مطمئن نہیں ہوں گے۔ ریاست کو چاہیے عوام کے مفادات کو ترجیح دے اور عوام کو راضی رکھے۔

ایران سعودی تعلقات
مسلم ممالک کے باہمی تعلقات اہم ہیں۔ ایران سعودی اختلافات کم کرنے کے حوالے سے میں نے ثالثی کا کردار ادا نہیں کیا ہے۔ لیکن میرا خیال ہے مسلمانوں کے اختلافات کو حل کرانا شرعی اور عقلی ضرورت ہے۔ جتنا مسلم ممالک کے اختلافات بڑھ جائیں، اتنا ہی یہ اسرائیل اور امریکا کے مفاد میں ہوگا۔

سفر پر پابندیاں
اندرونِ ملک میں صرف اپنے صوبہ سیستان بلوچستان اور تہران میں سفر کرسکتاہوں۔ دیگر صوبوں میں اجازت نہیں ملتی ہے۔ بیرونِ ملک بعض اسفار کی اجازت ملتی ہے جیسا کہ عمان، ترکی، روس، چیچنیا اور تاتارستان جانے کا موقع ملا، لیکن بعض دیگر ملکوں میں سفر کی اجازت نہیں ملی۔

اگر یہ لوگ محبت دیکھیں۔۔۔
ملکی مسائل کا بہترین حل انصاف اور عدل کا نفاذ ہے۔ شیعہ و سنی میں کوئی فرق نہیں ہونا چاہیے۔ جس ملک میں عدل نافذ ہو، وہاں امن کا گراف بڑھ جاتاہے۔ اگر اہل سنت میں پس ماندگی اور امتیازی رویوں کا احساس ختم ہوجائے اور انہیں ملک کی تقدیر میں اپنا حصہ مل جائے، بدامنی کے مسائل بھی بآسانی حل ہوجائیں گے۔ اگر یہ لوگ محبت دیکھیں، عدل کا نفاذ ہو، امن یہاں قائم ہوجائے گا اور خطرے ٹل جائیں گے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں