مری: شدید برفباری میں پھنسے کم از کم 16 سیاح ہلاک

مری: شدید برفباری میں پھنسے کم از کم 16 سیاح ہلاک

پاکستان کے وزیرِ داخلہ شیخ رشید نے بتایا ہے کہ صوبہ پنجاب کے تفریحی مقام مری میں شدید برفباری کے نتیجے میں گاڑیوں میں پھنسے کم از کم 16 سیاح ہلاک ہو گئے ہیں۔
شیخ رشید کے مطابق مری جانے والے راستے پر اس وقت بھی ایک ہزار گاڑیاں پھنسی ہوئی ہیں اور امدادی کارروائیوں کے لیے ایف سی، رینجرز اور فوج کے جوانوں کی مدد حاصل کر لی گئی ہے۔
ایک ویڈیو بیان میں ان کا کہنا تھا کہ اب تک ایسے 16 سے 19 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے جو اپنی گاڑیوں میں پھنسے ہوئے تھے۔
وزیرِ داخلہ نے ہلاک شدگان کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ سڑک پر پھنسے باقی افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
پنجاب حکومت کی جانب سے مری میں سنو ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور علاقے کو آفت زدہ قرار دے دیا گیا ہے۔
شیخ رشید نے بتایا کہ اسلام آباد اور دیگر علاقہ جات سے مری کی طرف جانے والے راستے بند کر دیے گئے ہیں اور صرف خوراک اور امدادی سامان لے جانے والی گاڑیوں کو ہی داخلے کی اجازت دی جا رہی ہے۔
وزیرِ داخلہ نے امید ظاہر کی سنیچر کی شام تک مری اور اس کے راستے میں پھنسی گاڑیوں اور افراد کو نکال لیا جائے گا تاہم ان کے مطابق مری جانے والے راستے اتوار کی رات نو بجے تک بند رہیں گے۔
محکمۂ موسمیات کے حکام کے مطابق مری میں اب تک چار فٹ سے زیادہ برف پڑ چکی ہے اور مقامی افراد کے مطابق زیادہ تر ہلاکتیں سندھیاں اور کلڈونہ کے درمیانی علاقے میں ہوئی ہیں جہاں درجنوں گاڑیاں مری جانے والے راستے پر برف میں پھنسی ہوئی ہیں۔
یاد رہے کہ ملک کے شمالی علاقہ جات کے سیاحتی مقامات میں برفباری اور بارشوں کے باعث جمعے کی دوپہر کو پہلے خیبر پختونخوا کے علاقے گلیات میں سیاحوں کا داخلہ بند کرنے کا اعلان کیا گیا اور شام کے وقت مری کو بھی سیاحوں کے لیے بند کرنے کا اعلان کر دیا گیا تھا۔
اپنے ویڈیو پیغام میں شیخ رشید نے بتایا کہ ’کل رات راولپنڈی اور اسلام آباد کی انتظامیہ نے بھرپور کوشش کی اور صبح تک یہ کوشش جاری تھی لیکن اتنی بڑی تعداد میں لوگ مری، گلیات اور باڑیاں کی جانب آ چکے ہیں کہ ہم پچھلے بارہ گھٹنے سے راستہ کھولنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ ہم نے مری جانے والے سارے راستے بند کیے ہوئے ہیں لیکن سیاحوں کی بہت بڑی تعداد وہاں موجود ہے۔‘
صورتحال کے حوالے سے شیخ رشید کا مزید کہنا تھا کہ ’اس لیے ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہم ان ڈکلیئر سول آرمڈ فورسز کی بھی مدد طلب کر رہے ہیں تاکہ لوگوں کو بھی نکالا جا سکے۔‘
اس سے قبل ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر یہ خبر جاری کی گئی تھی کہ ایک ہزار گاڑیاں اس وقت بھی مری میں پھنسی ہوئی ہیں جبکہ 23 ہزار گاڑیوں کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔
ڈی ایس پی مری نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ چار فٹ تک برفباری ہو چکی ہے اور درجنوں درخت سڑک پر گر چکے ہیں۔
انتظامیہ کی جانب سے کہا جا رہا کہ مشینری ایک حد تک کام کر سکتی ہے اور درختوں کے گرنے کی وجہ سے ہمیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
سیاحوں کو مری اور گلیات میں داخلے سے روکنے کے لیے پولیس چیک پوسٹیں بھی قائم کر دی گئی ہیں۔
گلیات میں شدید برفباری کی وجہ سے جمعے کو کم از کم دو مقامات پر برفانی تودے گرے ہیں جبکہ بجلی کے تین کھمبے گرنے سے بھی سڑک کی صورتحال انتہائی خطرناک ہو چکی ہے۔
حکام کی جانب سے سیاحوں سے درخواست کی جا رہی ہے کہ وہ مری کا رخ نہ کریں۔
حکام کے مطابق فیصلے کا مقصد مری اور گلیات سے واپس آنے والے سیاحوں کے لیے سہولت فراہم کرنا ہے اور یہ کہ سیاحوں کو مری اور گلیات سے باحفاظت واپس لانا ہے۔
ساتھ ہی ساتھ حکام نے مری میں موجود لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ٹریفک پولیس اور دیگر حکام کے ساتھ تعاون کریں، غلط پارکنگ نہ کریں، گاڑیاں راستے میں پارک کر کے سیلفیاں نہ لیں اور ڈبل لین بنانے سے اجتناب کریں۔
مری میں موجود ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کی نامہ نگار حمیرا کنول کو بتایا ہے کہ رات کو مری میں برف کا ایک شدید طوفان آیا تھا۔
انھوں نے بتایا کہ اس وقت مری میں موصلاتی رابطوں کی صورتحال بھی شدید خراب ہے۔
انتطامیہ کے مطابق مری اور گلیات میں چار روز میں کم از کم ’ایک لاکھ گاڑیاں‘ داخل ہوئی ہیں۔
گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ترجمان احسن حمید کے مطابق برفباری کے سبب زمینی حالات اس بات کی اجازت نہیں دے رہے کہ مزید سیاح گلیات میں داخل ہوں چنانچہ گلیات میں اتوار تک سیاحوں کے داخلے پر پابندی رہے گی۔
دوسری جانب سوات میں بھی برفباری دیکھنے کے لیے سیاحوں کی بڑی تعداد کے پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔

’ایک روز میں تین فٹ برف‘
گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ترجمان احسن حمید کے مطابق جمعے کو ہونے والی برف باری انتہائی شدید تھی۔ اُن کے مطابق گلیات میں صرف ایک روز میں تین فٹ برفباری ہوئی ہے جبکہ دوسرے سپیل کے دوران جمعے سے پہلے چار روز تک ہونے والے برفباری مجموعی طور پر اڑھائی فٹ تھی جس نے نظام زندگی تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ برفباری اتنی شدید تھی کہ نہ صرف یہ کہ روڈ صاف کرنے کا کام متاثر ہوا ہے بلکہ توحید آباد سے دروازہ کش کے مقام پر تین بجلی کے کھمبے گر گئے ہیں اور یہ تینوں بجلی کی مرکزی لائن کے تھے۔ حکام کے مطابق واپڈا کو ان کی مرمت کے لیے کم از کم 24 گھنٹوں کی مہلت درکار ہے۔
احسن حمید کے مطابق دوپہر کے وقت گلیات میں پہلے ایک مقام پر برفانی تودہ گرا تھا اور شام کے بعد ایک اور مقام پر برفانی تودا گرا ہے جس سے ایبٹ آباد کو مری سے ملانے والا روڈ مکمل طور پر بلاک ہو چکا ہے، جس وجہ سے روڈ سفر کے قابل نہیں رہا ہے۔
مری پولیس کے مطابق یہی نہیں، بلکہ سیاحوں کی ایک بہت بڑی تعداد نے جمعے کے روز مری کا رخ کیا ہے۔ پولیس کے مطابق ’اس وقت موسمی حالات بھی اچھے نہیں ہیں اور شدید برفباری کے سبب روڈ صاف نہیں ہو سکتا کیونکہ اس وقت دو دو فٹ برف گِر چکی ہیں۔‘
پولیس کے مطابق گاڑیاں پھسلن کی شکار ہیں اور کئی گاڑیاں روڈ پر کھڑی ہیں جن کو مدد فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ درختوں، بجلی کے کھمبوں کے ٹوٹنے کے خدشات موجود ہیں۔
مری انتظامیہ کے مطابق بظاہر ایسے لگتا ہے کہ مری میں تمام ہوٹلز اور گیسٹ ہاؤس سیاحوں سے بھر چکے ہیں چنانچہ ایسی صورتحال میں جب موسمی حالات بھی اچھے نہ ہوں اور رہائش کی جگہ بھی موجود نہ ہو تو سیاحوں کو بالکل بھی مری کا رخ نہیں کرنا چاہیے۔
احسن حمید کے مطابق گلیات کے ہوٹلوں اور گیسٹ ہاؤسز میں جگہ موجود نہیں ہے اور تمام ہوٹل اور گیسٹ ہاؤس بھر چکے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ اس وقت جن سیاحوں کو جگہ نہیں ملی یا وہ روڈ پر پھنسے ہیں، ان کو خصوصی طور پر مدد فراہم کی جا رہی ہے کیونکہ بظاہر وہ غیر محفوظ ہیں۔

‘کئی مرتبہ لگا کہ دن میں اندھیرا چھا گیا ہے’
اسلام آباد کے رہائشی محمد عبدالحمید نے ایبٹ آباد کے راستے گلیات جانے کے لیے علی الصبح ہی اپنے سفر کا آغاز کر دیا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ جب ایبٹ آباد سے گلیات جانے کے لیے مری روڈ پر سفر کا آغاز کیا تو بے انتہا ٹریفک تھی اور وہ سفر جو زیادہ سے زیادہ ایک گھنٹے میں طے ہونا چاہیے تھا وہ تین گھنٹے میں بھی نہ ہو سکا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کے ساتھ شدید برفباری نے روڈ کو مکمل طور پر بلاک کر دیا ہے اور گاڑیاں روڈ پر کھڑی ہیں، جبکہ ’کئی مرتبہ ایسے لگا کہ دن میں اندھیرا چھا گیا ہے‘۔
ان کے مطابق ’کئی لوگ مری روڈ پر تین بجے تک پھنسے رہے۔ تین بجے کے بعد برف صاف کرنے والی مشین نے ہمیں اور دیگر گاڑیوں کو چیونٹی کی رفتار سے سفر کرواتے ہوئے ایبٹ آباد کے قریب پہنچایا تھا۔‘
دوستوں کے ہمراہ راولپنڈی سے مری جانے کی کوشش کرنے والے آغا نصیر کہتے ہیں کہ وہ چار دوست کئی گھنٹے تک مری ایکسپریس وے پر پھنسے رہنے کے بعد رات کوئی نو بجے واپس راولپنڈی پہنچے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر اتنی شدید برفباری ہونی تھی اور اتنے سیاحوں کو مری کا رخ کرنا تھا تو اس بارے میں عوام کو پہلے آگاہ کیا جانا چاہیے تھا۔
سوات سے صحافی شہاب الدین کے مطابق سوات کے مختلف علاقوں میں بھی جمعے کے روز برفباری ہوئی ہے اور سیاحوں کی بڑی تعداد سوات کا رخ کر رہی ہے۔
اُنھوں نے بتایا کہ ہوٹلوں اور گیسٹ ہاؤسز وغیرہ کے علاوہ سیاحتی مقامات پر سیاحوں کا رش ہے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں