شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید:

انسان کی عزت و شرافت احکامِ شریعت کی پیروی میں ہے

انسان کی عزت و شرافت احکامِ شریعت کی پیروی میں ہے

خطیب اہل سنت زاہدان نے آٹھ اکتوبر دوہزار اکیس کے خطبہ جمعہ میں سب احکام شریعت پر عمل کرنے اور بطورِ خاص اقامہ نماز اور زکات کی ادائیگی پر زور دیا۔


شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں ہزاروں سنی نمازیوں سے خطاب کرتے ہوئے اپنے خطاب کا آغاز قرآنی آیت: “وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ*ما أُرِيدُ مِنْهُمْ مِنْ رِزْقٍ وَ ما أُرِيدُ أَنْ يُطْعِمُونِ” [الذاریات: 56-57[ کی تلاوت سے کیا۔

انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ کی ذات حکیم ہے اور اس کے سب کام حکمت پر مبنی ہیں۔ اللہ رب العزت نے ہر مخلوق کو مخصوص مقاصد کے لیے خاص حد تک بنایاہے۔ انسان کی ذمہ داری اللہ کی عبادت و اطاعت ہے، لیکن اگر وہ نفس و شیطان کے پیچھے پڑجائے اور گناہوں کا ارتکاب کرے، یہ بہت برا ہوگا۔ انسان اللہ کی اطاعت کے لیے بنایاگیاہے، شیطان کی پیروی کے لیے نہیں!

شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے مزید کہا: انسان اپنی خواہشات کی پیروی کرکے باغی و ظالم بن جاتاہے اور اللہ کی سزاؤں کا
مستحق بن جاتاہے، لیکن اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے انسانوں کو مہلت دیتاہے تاکہ توبہ کریں۔

انہوں نے کہا: انسان کی بھلائی و کامیابی اللہ کی اطاعت و بندگی، اقامت نماز اور احکام شریعت کی پیروی میں ہے۔نماز اور جہاد کی صفیں بہترین صفیں جن میں کھڑے ہونے کو اللہ پسند کرتاہے۔ نماز کے لیے صف باندھ کر کھڑے ہونے کا مطلب ہے نفس و شیطان کے مقابلے کے لیے صف باندھنا اور اسی لیے یہ صف اللہ کو پسند ہے۔ جو قدم اللہ کی راہ میں جہاد اور نماز قائم کرنے لیے اٹھایاجاتاہے، اس سے بڑھ کر کوئی قدم قیمتی نہیں ہوسکتا۔

مولانا عبدالحمید نے مزید کہا: کتنا خوبصورت ہوگا کہ بندہ ایک ایسے گھر میں حاضر ہوجائے جو اللہ سے منسوب ہے۔ مسجد میں نماز پڑھنا بہت خوبصورت منظر پیش کرتاہے۔ نماز کے وقت سڑکوں کے کناروں پر مسافر گاڑیاں روک کر نماز پڑھتے ہیں، انہیں دیکھ کر دل خوش ہوتاہے۔ یہ بڑا خوبصورت منظر ہے۔ گھر نماز پڑھنا صرف معذور لوگوں کے لیے ہے۔

صدقات کے فضائل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا: اگر انسان اللہ کی راہ میں ایک درہم صدقہ کرے، اللہ تعالیٰ اسے سات سو گنا زیادہ اجر دے گا۔ کتنی بڑی بے توفیقی ہوگی اگر بندہ مسجد میں حاضر ہونے، باجماعت نماز پڑھنے اور زکات دینے سے محروم ہوجائے۔ زکات دیتے ہوئے آپ کے لیے ایک روپیہ بھی نہ بچے، پھر بھی اپنی زکات ادا کریں۔

حضرت شیخ الاسلام نے کہا: زکات اللہ کا حکم اور اسلام کا رکن ہے؛ جو زکات نہیں دیتا، اس کا مال قیامت کے دن اس کے لیے وبال ہوگا۔ جو زکات نہیں دیتے، حساب وکتاب کے دن وہ اللہ کے عذاب سے کیسے بچیں گے؟ ہم اللہ ہی کی عبادت کے لیے پیدا ہوچکے ہیں اور اسی کی اطاعت ہم پر لازم ہے۔ ہماری عزت و شرافت اسی اطاعت میں ہے۔

دوستوں اور مہمانوں کی خاطر خدا کا حکم نہ توڑیں
خطیب اہل سنت زاہدان نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا: کچھ لوگ مہمانوں یا دوستوں کی تواضع کی خاطر اللہ کا حکم توڑتے ہیں۔میزبان اچھے اور نیک لوگ ہوتے ہیں، لیکن مہمان کی خاطر منشیات یا شراب کی مجلس سجاتے ہیں۔ مہمان خدا کا دوست ہے، لیکن جو مہمان منشیات یا شراب کی فرمائش کرتاہے، وہ خدا کا عذاب ہوتاہے۔ سگریٹ نوشی سے بھی پرہیز کرنا چاہیے؛ سگریٹ منشیات کا دروازہ ہے۔ اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ یہ نقصان ہی نقصان ہے۔

نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے کہا: منشیات کا استعمال، شراب نوشی، قتل اور فساد جیسے گناہ سماج کے لیے شرم کے باعث ہیں۔ میری نوجوانوں سے درخواست اور گزارش ہے کہ اچھے کاموں کی جانب چلیں، کوئی فن سیکھیں، سبق پڑھیں، تعلیم حاصل کریں اور اپنے لیے بھی اور دوسروں کے لیے بھی مفید بنیں۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں