مولانا عبدالحمید نماز جمعہ سے پہلے خطاب کرتے ہوئے:

افراط و تفریط دین و دنیا کے امور میں ناپسند ہے، افغان حکومت خواتین کو نظرانداز نہ کرے

افراط و تفریط دین و دنیا کے امور میں ناپسند ہے، افغان حکومت خواتین کو نظرانداز نہ کرے

خطیب اہل سنت زاہدان نے دس ستمبر دوہزار اکیس کے بیان میں دین و دنیا کے امور میں افراط و تفریط کی مذمت واضح کرتے ہوئے قوموں اور حکومتوں کو مشورہ دیا ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھیں اور انصاف سے کام لیں۔انہوں نے نئی افغان حکومت کو خواتین سمیت سب قومیتوں اور مسالک کے ماہر افراد سے کام لینے کی نصیحت کی۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ سے پہلے ہزاروں فرزندانِ توحید سے خطاب کرتے ہوئے کہا: افسوس کی بات ہے کہ دورِ حاضر میں افراط و تفریط پوری دنیا عام ہوچکا ہے۔ مسلمان بھی اس بلا میں مبتلا ہیں۔
انہوں نے کہا: کچھ مسلمان دین کے بارے میں کمزور رائے رکھتے ہیں اور تفریط کا شکار ہیں؛ کچھ اور لوگ شدت پسندانہ سوچ رکھتے ہیں اور عمل میں نبی اکرم ﷺ سے بڑھ کر متقی بننا چاہتے ہیں۔ حالانکہ انہیں حکم ہے اللہ تعالیٰ اور نبی کریمﷺ سے آگے آگے نہ چلیں۔
شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے بعض صحابہؓ کے احوال کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا: رسول اللہﷺ کو جب معلوم ہوا کچھ صحابہؓ مخصوص عبادات کے لیے خود وقف کرکے لوگوں کے حقوق پامال کرنا چاہتے ہیں، اہل و عیال کو چھوڑنا چاہتے ہیں، تو آپﷺ نے غصے کا اظہار فرمایا اور انہیں اپنی روش اور سنت پر عمل پیرا ہونے کا حکم دیا۔
انہوں نے مزید کہا: رسول اللہ ﷺ ہمیشہ اس بات کو یقینی بناتے تھے کہ صحابہؓ دین کے بارے میں افراط و تفریط کا شکار ہوجائیں۔ آج کچھ لوگ دینی فرائض چھوڑتے ہیں، ہر قسم کے گناہ کا ارتکاب کرتے ہیں اور ساتھ ہی جنت جانے کی تمنا بھی دل میں رکھتے ہیں۔
ممتاز عالم دین نے کہا: اعتدال و میانہ روی کی راہ وہی ہے جو قرآن و سنت، نبی کریمﷺ اور خلفائے راشدین کی سیرت میں آئی ہے۔ ہمارے اکابر ایسے ہی تھے؛ دین پر عمل پیرا ہونے کے ساتھ ساتھ دنیا کی تبدیلیوں سے بھی بے خبر و غافل نہ تھے۔ اسلام میں مختلف مذاہب پائے جاتے ہیں اور اسلام اعلیٰ ظرف کے حامل دین ہے۔
انہوں نے مزید کہا: نبی کریمﷺ نے فتح مکہ کے موقع پر عام معافی کا اعلان کیا جو آپﷺ کی فراخدلی اور وسیع برداشت کی علامت ہے۔ آپﷺ نے ایسے لوگوں کو معاف کیا جنہوں نے صحابہ کو شہید کیا تھا۔ بہت سارے مشرک، منافق، یہودی اور عیسائی مدینہ منورہ میں آپﷺ کے ساتھ رہتے تھے، جب تک انہوں نے خیانت نہیں کی، انہیں کچھ نہیں کہا گیا۔
مولانا عبدالحمید نے کہا: سب مسلمان چاہے وہ علمائے کرام ہوں یا عصری جامعات کے فضلا، عام لوگ ہوں یا ماہرین، اپنی برداشت بڑھائیں اور قرآن و سنت کی راہ جو میانہ روی سکھاتی ہے، اسے اپنائیں اور افراط و تفریط سے بچیں۔ قرآن مجید نے ہمیں حکم دیا ہے کہ حتی اپنے دشمنوں کے بارے میں بھی عدل سے کام لیں اور کسی سے دشمنی کی وجہ سے ناانصافی نہ کریں۔

اعتدال و عدل کا تقاضا ہے حکومتیں اور قومیں ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھیں
حضرت شیخ الاسلام نے اپنے بیان میں کہا: ہر قوم کا اپنی حکومت پر کچھ حقوق واجب ہیں، اسی طرح حکومتوں کے کچھ حقوق عوام پر لازم ہیں۔ اگر حاکم حق کی بات کرتاہے، اسے مان لینا چاہیے۔ اگر عوام حقیقت پر مبنی مطالبہ پیش کرتے ہیں، حکومت پر بھی لازم ہے اس پر توجہ دے اور جامہ عمل پہنائے۔
انہوں نے مزید کہا: ایران میں ہمارا طریقہ یہی ہے؛ اگر کہیں حکومت نے عوام کی کوئی خدمت کی ہے، ہم اس کا اعلان کرتے ہیں اور کہیں اگر سستی ہوئی ہے، اس پر بھی یاددہانی کراتے ہیں۔ اسی طرح قوم کے بھی حقوق ہیں اور ان کے حقوق کا دفاع کرنا چاہیے۔

نئی افغان حکومت کو موقع دینا چاہیے
مولانا عبدالحمید نے بات آگے بڑھاتے ہوئے افغانستان کی تازہ سیاسی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: افغانستان کی نئی صورتحال کے پیش نظر ہمارا خیال ہے وہاں بھی عوام کے اور اسلامی امارت کے کچھ حقوق ہیں۔ افغانستان کے مختلف طبقات، قومیتیں، مسالک اور مردوزن کے حقوق نئی حکومت پر ہیں اور ان کی باتوں پر اسلامی امارت کو توجہ دینی چاہیے۔ جائز مطالبات کو مان لینا چاہیے۔
ممتاز عالم دین نے کہا: افغانستان میں ایک نظام حکومت ساقط ہوچکاہے اور ایک نیا نظام جو اسلامی ہے برسرکار آچکاہے۔ اس نظام کے بھی عوام پر حقوق ہیں؛ عوام کو چاہیے اس نئی حکومت کو موقع دیں تاکہ درست منصوبہ بندی سے امورِ مملکت کو سنبھالے۔
انہوں نے کہا: ہماری تجویز جو قرآن وسنت کی روشنی میں ہے، سب افغان گروہوں کو یہی ہے کہ اپنے مسائل حل کرنے میں بات چیت اور مذاکرات کی راہ اختیار کریں۔ افغان عزیزوں کے بقول ایک دوسرے کے ساتھ ”گپ“ لگائیں۔ ایک دوسرے کو تباہ کرنے کی کوششیں چھوڑدیں۔
مولانا عبدالحمید نے کہا: پورے عالم اسلام اور دنیا کے مسائل کا حل مذاکرات اور گفت وشنید میں ہے۔ اس سے دل کی کدورتیں اور رنجشیں ختم ہوجاتی ہیں۔ اسی لیے ہم سب مسلمانوں اور دنیاوالوں کو مذاکرات اور اعتدال و مذاکرات کی طرف بلاتے ہیں۔
حضرت شیخ الاسلام نے دشمن کو پہچاننے پر زور دیتے ہوئے کہا: مسلمانوں کو خوب سمجھ لینا چاہیے کہ اسلام دشمن عناصر ان کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔ وہ چاہتے ہیں مسلمانوں کو ایک دوسرے کے خلاف اکسائیں؛ ایسے عناصر کی باتوں پر توجہ نہیں دینی چاہیے۔ مسلمان بھی ہوشیار رہیں اور خواہ مخواہ دشمن کو پروپگینڈا کا موقع نہ دیں۔

افغانستان کی نئی حکومت تمام طبقات کی دیانتدار اور ماہر شخصیات سے کام لے
جامعہ دارالعلوم زاہدان کے صدر و شیخ الحدیث نے افغانستان میں نئی حکومت کے اعلان پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا: امید ہے نئی حکومت میں علمائے کرام اور یونیورسٹی کے پڑھے لکھے دیانتدار، ماہر اور علمی تخصص رکھنے والوں کی صلاحیتوں سے کام لیاجائے تاکہ ملک بنانے اور چلانے میں اپنی خدمات پیش کرسکیں۔ ایسے لوگوں سے کام لیاجائے جو خیانت نہیں کرتے اور دیانتداری کے ساتھ افغانستان کے امور کو چلاتے ہیں۔
خواتین کے حقوق پر تاکید کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے کہا: آج کی خواتین ماضی کی خواتین سے مختلف ہیں؛ ان کے پاس علم، استعداد اور جذبہ ہے اور وہ مختلف علمی، رفاہی اور سماجی شعبوں میں ترقی کرنا چاہتی ہیں۔ ہر حکومت کی ذمہ داری ہے کہ خواتین کی ترقی اور تعلیم کے سلسلے میں محنت کرے اور ان کی صلاحیتوں سے کام لے۔
انہوں نے کہا: ایسا عمل کرنا چاہیے کہ افغانستان کے سب مسالک اور مذاہب کی باصلاحیت شخصیات سے کام لیاجائے۔ ہوسکتاہے کچھ لوگ شدت بھی دکھائیں، لیکن ایسے لوگوں کو بھی برداشت کرنی چاہیے۔ مختلف لسانی و مسلکی برادریوں اور خواتین و مذہبی اکائیوں کی صلاحیتوں سے کام لیاجائے تاکہ کہیں یہ تاثر پیدا نہ ہو کہ مسلمان مردو زن اور قومیتوں اور مسالک کے بارے میں امتیازی سلوک کا شکار ہیں۔
مولانا عبدالحمید نے کہا: قرآن و سنت کی وسیع ظرف اور برداشت سے کام لینے ہی کی صورت میں مسلمان اعتدال، فراخدلی اور دوراندیشی میں دنیا میں ماڈل بن سکتے ہیں۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں